محمدنسیم رنزوریار
قارئین کرام، جب تاریخ کے صفحات پر جبر، تکبر اور مضحکہ خیز حد تک پھیلی ہوئی انسانی خواہشات کا تذکرہ آتا ہے، تو ذہنِ انسانی میں سرفہرست یہی ضرب المثل ابھرتی ہے: "سوئی کے ناکے سے اونٹ کا گزرنا"۔ یہ محض ایک تمثیل نہیں، بلکہ کائنات کے اس اٹل قانون کی عکاسی ہے جہاں مادہ پرست طاقتیں اپنی محدود اوقات اور اوقاتِ کار سے تجاوز کر کے ایک ایسی حاکمیت کا خواب دیکھتی ہیں جو منطق، فطرت اور انسانیت کے اصولوں کے یکسر منافی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی کسی فرعون، نمرود یا جدید دور کے نام نہاد خدا نے کائنات کو اپنی مٹھی میں بند کرنے کی کوشش کی، وہ بالکل اسی طرح ناکام و نامراد ہوا جیسے کوئی ہٹ دھرم اونٹ کو سوئی کے باریک سوراخ سے زبردستی دھکیلنے کی لاحاصل مشق کر رہا ہو۔، عالمی و یہ مثال اور تحریر علاقائی ظلم اور اس کے نتیجے میں جنم لینے والے خوفناک تضادات کا ایک بے باک، عجیب و غریب اور تاریخی تمثیل ہے۔عالمی منظرنامے پر اگر نظر دوڑائی جائے تو اس کی سب سے بڑی اور مضحکہ خیز مثال ریاستہائے متحدہ امریکہ کی صورت میں سامنے آتی ہے، جو پوری دنیا کو مونوپولی (یک قطبی نظام) کے تحت چلانے کا خواہاں ہے۔ ایک ایسی قوم جس کی اپنی تاریخ چند سو سال سے زیادہ پرانی نہیں، وہ ہزاروں سال قدیم تہذیبوں، ثقافتوں اور خود مختار ممالک کو اپنے معاشی و عسکری کوڑے سے ہانکنے کی کوشش کر رہی ہے۔ ویتنام کے گھنے جنگلات سے لے کر عراق کے صحراؤں اور افغانستان کے سنگلاخ پہاڑوں تک، امریکہ نے کھربوں ڈالر اور لاکھوں جانیں اس مہم جوئی میں جھونک دیں کہ وہ پوری دنیا کو اپنی مرضی کے سانچے میں ڈھال سکے، مگر نتیجہ کیا نکلا؟ وہی جو سوئی کے ناکے سے اونٹ گزارنے کا نکلتا ہے، مکمل تباہی، معاشی دیوالیہ پن اور رسوائی۔ بالکل اسی تسلسل میں اگر مشرقِ وسطیٰ کو دیکھا جائے، تو اسرائیل نامی ایک خرد بینی صیہونی ریاست، جو خود بیسویں صدی کے وسط میں عالمی گٹھ جوڑ کے نتیجے میں وجود میں آئی، آج پورے عالمِ اسلام کو اپنے قابو میں کرنے کے جنون میں مبتلا ہے۔ چند ملین کی آبادی کا حامل یہ ملک اربوں کی مسلم آبادی، ان کے وسائل اور ان کی جغرافیائی اہمیت پر اپنی مرضی مسلط کرنا چاہتا ہے، جو کہ ایک ایسی اسٹریٹجک حماقت اور جغرافیائی ناممکنات کا مجموعہ ہے جس کا انجام تاریخ کے کوڑے دان کے سوا کچھ نہیں ہو سکتا۔اس جنون کی ایک اور حیرت انگیز اور تلخ شکل ہمیں جنوبی ایشیاء میں ہندوستان کی صورت میں نظر آتی ہے۔ ایک ارب سے زائد آبادی کا یہ ملک، جو غربت، جہالت اور سماجی عدم مساوات کی دلدل میں دھنسا ہوا ہے، آج فاشسٹ ہندوتوا نظریے کے تحت پوری دنیا پر گائے کی بندگی، اطاعت اور مخصوص مذہبی بالادستی مسلط کرنے کے خواب دیکھ رہا ہے۔ سیکولرازم کا لبادہ اوڑھ کر عالمی برادری میں بیٹھنے والا یہ ملک اندرونی طور پر اقلیتوں، خصوصاً مسلمانوں اور دلتوں کے لیے جہنم بن چکا ہے، جہاں گائے کے گوشت کے شبہے میں انسانوں کو سرِعام زبح کر دیا جاتا ہے اور سفارتی سطح پر دنیا کو مجبور کیا جاتا ہے کہ وہ ان کے اس خبط کو تسلیم کرے۔۔ یہ تمام حاکم اقوام اور طبقات دراصل تاریخ کی سوئی کے ناکے سے اپنی انا کا اونٹ گزارنے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں۔ سچائی، انصاف اور فطرت کا اصول بڑا واضح ہے: ظلم جتنا بڑھتا ہے، اتنی ہی جلدی مٹ جاتا ہے، اور تاریخ ہمیشہ ان لوگوں کو عبرت کا نشان بنا دیتی ہے جو اپنی حدوں کو بھول کر خدائی کا دعویٰ کرنے لگتے ہیں۔