شرمندگی کے بجائے کام ہی کرکے لے آیا کریں : جسٹس طارق ندیم کا مکالمہ
لاہور (کرائم رپورٹر) لاہور ہائیکورٹ کیجسٹس محمد طارق ندیم نے غلط رپورٹ بھجوانے پر جیل سپر نٹنڈنٹ فیصل آباد ساجد بیگ پر اظہار برہمی کرتے ہوئیمجرموں کی سزا کے خلاف اپیلوں پر آئندہ سماعت پر مزید دلائل طلب کر لئے، عدالت نے جیل سپرنٹنڈنٹ سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا مجرموں کے جیل میں گزارے گئے عرصہ کی رپورٹ طلب کی تھی ، پہلے رپورٹ منگوائی ، وہ غلط نکلی، دوبارہ منگوائی وہ بھی ٹھیک نہیں تھی ، جیل سپرنٹنڈنٹ نے جواب دیا کہ سوری سر ، رپورٹ بھجوانے والے ذمہ دار جیل افسر کے خلاف کارروائی کے لئے نوٹس جاری کیا ہے،عدالت نے استفسار کیا کہ کیا وہ نوٹس آپ کے پاس موجود ہے، جیل سپرنٹنڈنٹ نے جواب دیا سر وہ نوٹس تو میرے پاس موجود نہیں ، فاضل عدالت نے مکالمہ کرتے ہوئے کہا پھر آپ کے آئی جی جیل کو طلب کرکے ان سے پوچھ لیتے ہیں ، جیل سپرنٹنڈنٹ نے جواب دیاسر شرمندہ ہوں ، معافی چاہتا ہوں ، جسٹس طارق ندیم نے جیل نیکہا شرمندگی کے بجائے کام ہی کرکے لے آیا کریں۔ وکیل صفائی نے عدالت کو بتایا کہ لڑائی جھگڑے کے مقدمے میں جوڈیشل مجسٹریٹ نے تین ماہ سزا سنائی ، سیشن جج نے سزا بڑھا کر تین سال کردی ، دونوں مجرموں کا ٹرائل کے دوران جیل میں گزرا گیا وقت شامل نہیں کیا گیا ، عدالت نے ریمارکس دئیے ظفر اقبال کی دو سال دو دن ، امجد علی دو سال پندرہ دن بقایا ہے، یہ بریت والا کیس نہیں۔