بلوچستان میں ایرانی تیل استعمال کرنے والے افراد کے لیے بڑی خوشخبری، ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کے بعد ایرانی پیٹرول کی قیمت میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔
ایرانی پیٹرول کی قیمت میں بڑی کمی:
بلوچستان کے سرحدی اور اندرونی علاقوں میں ایرانی پیٹرول کی قیمت 300 روپے فی لیٹر سے کم ہو کر 210 روپے فی لیٹر تک آ گئی ہے۔ یہ کمی ایران اسرائیل کشیدگی میں کمی اور ایران میں تیل کی سپلائی لائن کی بحالی کے بعد ممکن ہوئی ہے۔بلوچستان میں بڑی تعداد میں لوگ ایرانی تیل استعمال کرتے ہیں، جو اسمگلنگ یا غیر رسمی ذرائع سے بلوچستان کے مختلف اضلاع میں سپلائی کیا جاتا ہے۔ جنگی حالات کے باعث یہ سپلائی متاثر ہوئی تھی اور قیمتیں بڑھ گئی تھیں۔
حکومتی پیٹرولیم قیمتوں میں اضافہ:
دوسری طرف وفاقی حکومت نے بھی 15 روزہ پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اعلان کر دیا ہے:
پیٹرول کی قیمت میں 8 روپے 36 پیسے فی لیٹر اضافہ ہوا، نئی قیمت: 266 روپے 79 پیسے فی لیٹر
ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 10 روپے 39 پیسے فی لیٹر اضافہ ہوا، نئی قیمت: 272 روپے 98 پیسے فی لیٹر
ماہرین کا کہنا ہے:
ایرانی پیٹرول کی قیمت میں کمی کی وجہ علاقائی استحکام اور سرحدی تجارتی سرگرمیوں کی بحالی ہے۔
پاکستانی حکومت کی جانب سے قیمتوں میں حالیہ اضافہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کی عکاسی کرتا ہے۔
عوامی ردعمل:
بلوچستان کے عوام نے ایرانی پیٹرول کی قیمتوں میں کمی پر اطمینان کا اظہار کیا ہے، تاہم حکومتی پیٹرولیم قیمتوں میں اضافے پر تشویش بھی ظاہر کی گئی ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ ملکی سطح پر بھی عوام کو ریلیف دیا جانا چاہیے۔یہ صورت حال پاکستان کے سرحدی علاقوں میں تیل کی باضابطہ اور غیر باضابطہ مارکیٹ کے درمیان تضاد کو بھی اجاگر کرتی ہے، جس پر طویل المدتی پالیسی کی ضرورت ہے۔