ساجد علی شمس
جب ریاست کے اہم منصب دار اور مقتدر طبقات اچانک خود ہی اس بات کا ڈھنڈورا پیٹنے لگیں کہ "سسٹم تباہ ہو چکا ہے" تو یہ محض ایک بیان نہیں بلکہ ایک ایسا المیہ بن جاتا ہے جو قوم کی اجتماعی فکر پر لرزہ طاری کر دیتا ہے۔ تعجب تو اس بات پر ہے کہ جو دانا، بینا اور اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے طاقتور کردار پچھلے دو تین برسوں سے اسی نظام کے سیاہ و سفید کے مالک رہے ہیں، جن کے دستخطوں سے فیصلے صادر ہوئے، جن کے احکامات پر مملکت کا پہیہ چلتا رہا، وہ آج ببانگِ دہل یہ فرما رہے ہیں کہ جس سائے تلے ہم سانس لے رہے ہیں وہ درخت جڑ سے کھوکھلا ہو چکا ہے۔ یہ منطق کسی طور بھی ذہنِ سلیم کے لیے قابلِ ہضم نہیں۔ اگر یہ نظام حقیقت میں تباہ ہو چکا ہے تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پچھلے دو سال سے آپ ایوانِ اقتدار کے قالینوں کو رونق کیوں بخش رہے تھے؟ کیا اقتدار کی کرسی صرف بیانیے گھڑنے، تباہی کے قصے سنانے اور مسندِ اقتدار کا لطف اٹھانے کے لیے ہے یا اس نظام کے نقائص کو دور کرنے کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری بھی انہی اقتدار نشینوں پر عائد ہوتی ہے؟ مسندِ اقتدار پر بیٹھ کر بدحالی کا ماتم کرنا اور خود کو ایک غیر جانبدار مبصر ظاہر کرنا فرارِ ذمہ داری کی بدترین مثال ہے جس کی اجازت کوئی بھی مہذب جمہوریت نہیں دیتی۔اگر نظام واقعی اس حد تک بوسیدہ ہو چکا تھا تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان دو سالوں میں اس مسندِ اقتدار کی چھاؤں میں بیٹھ کر آپ نے کون سی اصلاحی جراحی انجام دی؟ اقتدار نشینوں کا فرضِ منصبی محض زوال کا روپ دھار کر بیٹھنا نہیں بلکہ بگاڑ کو سدھارنا ہوتا ہے۔ اگر داخلی سیکیورٹی کے امور اور وزارتِ داخلہ کا قلمدان آپ کے پاس رہا تو مملکت میں امن و امان کی ابتر صورتحال، بڑھتی ہوئی دہشت گردی اور قانون کی عدم بالادستی پر کون سے انقلابی قدم اٹھائے گئے؟ جس داخلہ امور کے نظام کی آپ باگ ڈور سنبھالے ہوئے ہیں وہاں کون سا تیر مارا گیا کہ آج اسی کی تباہی کا مرثیہ پڑھا جا رہا ہے؟ حد تو یہ ہے کہ جس کھیل یعنی کرکٹ کی سرپرستی اور انتظام ان کے سپرد کیا گیا وہاں انتظامی ڈھانچے کی من مانیوں، عدم استحکام اور بدنظمی کے سوا کیا حاصل ہوا؟ کیا کرکٹ کے عالمی میدانوں میں ملنے والی رسوائی بھی اسی تباہ شدہ نظام کا حصہ تھی یا وہ ناقص انتظامی بصیرت کا شاخسانہ تھی؟
جب کوئی صاحبِ اقتدار یہ تسلیم کر لے کہ نظام برباد ہو چکا ہے تو اگلا منطقی قدم استعفیٰ اور تلافی ہوتا ہے نہ کہ محض فصیح و بلیغ تقاریر کا انعقاد۔ تباہی کا اقرار کر کے اقتدار سے چمٹے رہنا اور مسائل کی تمام تر ذمہ داری کو ماضی کے حوادث یا ساختارِ ریاست پر ڈال دینا ایک ایسا تناقض ہے جس کا دفاع کوئی منطقی فکر نہیں کر سکتی۔ اسی فکری مغالطے کے تسلسل میں ایک انتہائی سطحی حل یہ پیش کیا جاتا ہے کہ ملک کو درپیش انتظامی اور سیاسی بحران کا واحد علاج "نئے صوبے یا انتظامی یونٹس" بنانا ہے۔ یہ دعویٰ نہ صرف تاریخ اور معاشی حقائق سے ناآگاہی پر مبنی ہے بلکہ بنیادی مسئلے سے نظریں چرانے کی ایک اور کوشش ہے۔ پاکستان کی تاریخ شاہد ہے کہ صرف جغرافیائی خطوط کھینچ دینے سے یا نئے گورنر
ہاؤسز اور وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ تعمیر کر دینے سے غریب کے مسائل حل نہیں ہوتے۔ نئے صوبوں کا قیام ایک بے حد معاشی بوجھ، نوکر شاہی کا نیا پھیلاؤ اور سیاسی کشمکش کا نیا محاذ کھولنے کے مترادف ہے۔ کیا نئے صوبے بنا دینے سے تھانہ کلچر بدل جائے گا؟ کیا عدلیہ میں پندرہ بیس سال سے لٹکتے ہوئے مقدمات فوری حل ہو جائیں گے؟ کیا ہسپتالوں میں دوائیاں اور سکولوں میں استاد میسر آجائیں گے؟ ہرگز نہیں۔۔۔
نئے صوبوں کی منطق دراصل طاقت کی مرکزیت کو قائم رکھنے اور اشرافیہ کے لیے نئے اقتدار کی مسندیں تراشنے کا ایک حربہ ہے۔ جب تک بنیاد درست نہیں ہوگی، عمارت کے نئے بلاکس بنانے سے سقف و دیوار مضبوط نہیں ہو سکتے۔ صوبوں کی تقسیم کا شوشہ چھوڑنا دراصل اصل مسئلے یعنی نچلی سطح تک اختیارات کی منتقلی سے عوام کی توجہ ہٹانے کا ایک روایتی طریقہ ہے۔ اگر اس بوسیدہ اور مفلوج نظام کو واقعی ٹھیک کرنا ہے اور ریاست کو پائیدار ترقی کی راہ پر گامزن کرنا ہے، تو اس کا حل مصنوعی انتظامی سرحدیں قائم کرنے میں نہیں بلکہ بلدیاتی نظام (Local Government System) کو آئینی تحفظ کے ساتھ نافذ کرنے میں مضمر ہے۔جمہوریت کا اصل حسن اور روح یہی ہے کہ اقتدار اسلام آباد یا لاہور و کراچی کی بارگاہوں میں قید رہنے کے بجائے ہر گلی، محلے اور گاؤں کے عام شہری کی دہلیز تک پہنچے۔ آئین کے آرٹیکل 140A پر اس کی روح کے مطابق عمل کرتے ہوئے بلدیاتی اداروں کو معاشی، انتظامی اور سیاسی اختیارات دیے جائیں۔ دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ جب تک مقامی سطح پر کوڑا اٹھانے، سکول چلانے، بنیادی صحت کے مراکز سنبھالنے اور نالیوں کی صفائی جیسے مسائل کے لیے عوام کے منتخب نمائندے بااختیار نہیں ہوں گے تب تک کوئی مرکزی یا صوبائی حکومت یا نیا صوبہ عوام کی تقدیر نہیں بدل سکتا۔ اصل اصلاحات نوکر شاہی (Bureaucracy) کے اصلاحی عمل، نچلی سطح پر عدالتی نظام کی ترویج اور بجٹ کی منصفانہ تقسیم میں پوشیدہ ہیں۔نوجوانوں کو محض چند ہزار روپے، لیپ ٹاپ یا چھوٹے موٹے ریلیف کے ٹکڑوں پر بہلانے کی پالیسی بھی ایک گہرا فکری مغالطہ ہے۔اگر نظام میں شفافیت، عدل اور قانون کی بالادستی قائم کر دی جائے تو یہ نوجوان خود اپنے بل بوتے پر دنیا فتح کر سکتے ہیں اور ملک کی تقدیر بدل سکتے ہیں۔ نوجوانوں کو نظام سے کاٹنے یا انہیں شکوک و شبہات کی نظر سے دیکھنے کے بجائے انہیں اس جمہوری اور معاشی پروسیس کا بنیادی حصہ بنانا ہوگا۔
ہمیں یہ بات بحیثیت قوم اور بحیثیت سیاست دان اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ جمہوریت کا حسن محض ایک دوسرے کو تباہی کا طعنہ دینے یا سیاسی بیٹھکوں میں ایک ایک سال تک بند کمروں میں بیٹھ کر گفتگو کرنے میں نہیں بلکہ عملاً آئین و قانون کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنے میں ہے۔ جب تک اقتدار پر براجمان طبقات اپنی ناکامیوں کی ذمہ داری قبول نہیں کریں گے، جب تک عوامی نمائندوں کو نچلی سطح پر بااختیار بنانے کا جرات مندانہ فیصلہ نہیں کیا جائے گا اور جب تک نظام کو اشرافیہ کی مفادات کی پناہ گاہ بنانے کے بجائے عام آدمی کا خدمت گار نہیں بنایا جائے گا تب تک ان کھوکھلے بیانات اور کانفرنسوں سے اس ملک کا کچھ سنورنے والا نہیں۔
اب وقت آچکا ہے کہ فرار کی تمام راہوں کو مسدود کیا جائے۔ یہ ابتر صورتحال اب مزید الفاظ کے کھیل یا آئینی و انتظامی سفسطہ کاری کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ جو لوگ آئین و قانون اور اقتدار کی باگ ڈور سنبھال کر بھی اپنی بے بسی اور نظام کی تباہی کے مرثیے پڑھتے ہیں انہیں اب فیصلہ کرنا ہو گا یا تو وہ اس نظام کو اصلاحی جراحی سے ٹھیک کریں یا پھر اپنی اخلاقی اور انتظامی ناکامی کا اعتراف کرتے ہوئے میدان چھوڑ
دیں۔ تاریخ ان کرداروں کو کبھی معاف نہیں کرے گی جو منصب کے مزے بھی لوٹتے رہے اور نظام کی تباہی کا نوحہ بھی پڑھتے رہے۔ اصلاح محض باتوں، کانفرنسوں اور نعروں سے نہیں عمل سے آتی ہے اور عمل کی شروعات اپنے گریبان میں جھانکنے اور نچلی سطح پر اقتدار عوام کو منتقل کرنے سے ہوتی ہے۔