بالی ووڈ کے معروف ہدایت کار، پروڈیوسر اور اسکرین رائٹر سنجے گپتا 57 برس کی عمر میں انتقال کرگئے۔
ان کے انتقال کی خبر سامنے آنے کے بعد بھارتی فلم انڈسٹری میں سوگ کی فضا پھیل گئی، تاہم تاحال ان کی موت کی وجہ معلوم نہیں ہوسکی۔بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق سنجے گپتا کے انتقال کی خبر فلمی جریدے ’’فلم فیئر‘‘ اور ویب سائٹ ’’بالی ووڈ ہنگامہ‘‘ کی جانب سے جاری کی گئی۔ تاہم ان کے اہل خانہ نے تاحال موت کی وجوہات یا آخری رسومات کے حوالے سے کوئی تفصیلات شیئر نہیں کیں۔سنجے گپتا کا شمار بالی ووڈ کے ان فلمسازوں میں ہوتا تھا جنہوں نے ایکشن، جرائم اور سنسنی خیز کہانیوں پر مبنی فلموں کے ذریعے فلمی دنیا میں اپنی الگ پہچان بنائی۔ ان کا فلمی سفر تین دہائیوں سے زیادہ عرصے پر محیط تھا اور انہوں نے بطور ہدایت کار، پروڈیوسر اور اسکرین رائٹر متعدد فلموں میں اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔انہوں نے 1994 میں فلم ’’آتش‘‘ سے ہدایت کاری کے شعبے میں قدم رکھا۔ اس فلم میں سنجے دت اور آدتیہ پنچولی نے مرکزی کردار ادا کیے تھے۔ اپنی پہلی فلم کے بعد انہوں نے ایکشن اور کرائم تھرلر فلموں پر خصوصی توجہ دی اور اسی انداز کی فلمسازی کے باعث شہرت حاصل کی۔
ان کے کیریئر کی نمایاں فلموں میں ’’کانٹے‘‘، ’’مسافر‘‘، ’’زندہ‘‘، ’’شو آؤٹ ایٹ لوکھنڈوالا‘‘ اور ’’شو آؤٹ ایٹ واڈالا‘‘ شامل ہیں۔ خاص طور پر 2002 میں ریلیز ہونے والی فلم ’’کانٹے‘‘ کو ان کے فلمی کیریئر کی اہم کامیابیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔سنجے گپتا نے ایکشن اور کرائم تھرلر فلموں کے علاوہ دیگر موضوعات پر بھی کام کیا۔ انہوں نے 2015 میں ایشوریا رائے اور عرفان خان کی اداکاری سے سجی فلم ’’جذبہ‘‘ کی ہدایت کاری کی، جبکہ 2017 میں ہریتھک روشن کی فلم ’’قابل‘‘ بھی ان کی ہدایت کاری میں ریلیز ہوئی۔فلمی صنعت میں تین دہائیوں سے زائد عرصے تک سرگرم رہنے والے سنجے گپتا کی فلموں نے بالی ووڈ میں ایکشن اور جرائم پر مبنی کہانیوں کے حوالے سے انہیں ایک نمایاں مقام دلایا۔