کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے

 فرخ ریاض بٹ 
گزشتہ 78 سال سے بھارتی تسلط سے آزادی کی جدوجہد کرنے اور بے پایاں جانی اور مالی قربانیاں دینے والے کشمیری عوام پر تو بھارتی سیکیورٹی فورسز کے مظالم کی انتہا ہو چکی ہے جن کے بھارتی ہندو قیادت کے ایماء پر پہلے 1947میں قیام پاکستان کے وقت ہی وادی کشمیر پر غیرقانونی تسلط جما کر حقوق اور ان کی آزادیاں سلب کی گئیں اور پھر انھیں بھارتی آئین کی دفعات 270 اور 35 اے کے تحت حاصل خصوصی حیثیت سے بھی 5 اگست 2019کو ہندو انتہا پسند مودی سرکار نے آئین کی متذکرہ دفعات حذف کرا کے محروم کر دیا۔یہ طرفہ تماشہ ہے کہ نمایندہ عالمی ادارے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے اپنی قرارداد کے ذریعے کشمیریوں کے حق خودارادیت کو تسلیم کیا اور بھارت کو مقبوضہ وادی میں استصواب کے اہتمام کی ہدایت کی، پھر متعدد قراردادوں کے ذریعے بھارت سے اپنے اس تقاضے کا اعادہ کیا مگر بھارت ان قراردادوں کو روبہ عمل لانے کے لیے آج تک ٹس سے مس نہیں ہوا جبکہ انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے فکرمند عالمی قیادتوں بشمول امریکا اور نمایندہ عالمی اداروں بشمول اقوام متحدہ کو مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم بند کرانے کے لیے اپنا موثر کردار ادا کرنے کی آج تک توفیق نہیں ہوئی اور 78سال گزرنے کے باوجود بھارت میں اقلیتیں اور اس کے غیرقانونی زیر قبضہ کشمیر میں عوام بھارتی فوجوں کے مظالم کا سامنا کرتے ہوئے اپنی جانیں نچھاور کر رہے ہیں۔
یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ مہاراجا ہری سنگھ نے تقسیم کے اصول کی خلاف ورزی کرتے ہوئے، کشمیر کے 95 فی صد مسلمانوں کے احساسات و جذبات کے علی الرغم غیر منصفانہ طرز عمل اختیار کرتے ہوئے پاکستان کے ساتھ الحاق سے انکار کردیا تھا اور بھارت سے انضمام کا معاہدہ کیا، اس معاہدے سے قبل بھارت نے یہ شرط رکھی کہ فوجیں مدد کو اسی وقت آئیں گی جب کشمیر کی ریاست کو بھارت میں ضم کرنے کا اعلان کیا جائے گا، جس کے نتیجے میں ہندوستان نے مقبوضہ کشمیر میں فوجی دستے پہنچا دیے، اس موقع پر بھارت نے یہ موقف اختیار کیا کہ یہ فوجی مداخلت ریاست کی قانونی درخواست اور الحاق کی بنیاد پر کی گئی تھی، تاکہ ریاست کی سا لمیت برقرار رہے، اس کے رد عمل میں غیور قبائلیوں نے سخت رد عمل کا اظہار کیا، پاکستان سے منہ کی کھانے کے بعد بھارتی وزیر اعظم جواہر لال نہرو اقوا م متحدہ کا دروازہ کھٹکھٹانے پر مجبور ہوگئے جس پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے اپنی قرار داد میں واضح طور پر یہ کہا کہ کشمیر میں استصواب رائے کے ذریعے عوام کو حق خود ارادیت دی جائے اس کے ساتھ ہی اقوام متحدہ کی زیر ِ نگرانی کنٹرول لائن قائم کی گئی، مگر اقوا م متحدہ میں کشمیر کا مقدمہ لے جانے کے باجود بھارت نے اس حوالے سے منظور ہونے والی قرارداد کی کسی ایک شق پر بھی عمل درآمد نہیں کیا۔ نہ کشمیری عوام کو حق ِ خوداردیت دیا گیا نہ ہی ان پر جاری ریاستی مظالم روکے گئے حد تو یہ ہے کہ آج بھی بھارت کی جانب سے کنٹرول لائن کی خلاف ورزی کا سلسلہ جاری ہے۔ اس پر مزید ستم یہ کہ بھارت نے اگست 2019 میں جموں کو کشمیر کی آئینی حیثیت کو ختم کرتے ہوئے آرٹیکل 370 اور 35 اے کو بھی منسوخ کر دیا جو 1949 میں بھارت کی آئین میں شامل کیا گیا تھا جس کے تحت جموں و کشمیر کو خصوصی حیثیت حاصل تھی۔ لطف کی بات یہ ہے کہ بھارت کے اس اقدام پر حکومت نے سوائے زبانی جمع خرچ اور سڑکوں پر قوم کو کھڑا کر کے احتجاج کرنے کے کچھ نہیں کیا۔ کشمیر آج بھی بھارت کے مظالم کی زد میں ہے، اب تک لاکھوں افراد شہید کیے جاچکے ہیں، کشمیری رہنما آج بھی بھارت کی جیلوں میں قید ہیں، حکمرانوں کی جانب سے یہ بیان دے دینا کہ پاکستان کے عوام کشمیری بھائیوں کے ساتھ کھڑے ہیں اور یہ کہ ہم کشمیر یوں کی اخلاقی اور سفارتی مدد جاری رکھیں گے، محض نمائشی اقدام سے بڑھ کر کچھ نہیں۔ بھارتی افواج نے ایک طرف مقبوضہ کشمیر کو کھلی جیل میں تبدیل کر رکھا ہے تو دوسری جانب بھارتی اقلیتوں کو بھی ریاستی دہشت گردی کا سامنا ہے جن کے بنیادی حقوق اور مذہبی آزادیاں مسلسل پامال ہو رہی ہیں۔پاکستان تو بلاشبہ78برس سے کشمیریوں کی جدوجہد کے ہم آہنگ ہے اور ان کی بھارتی تسلط سے آزادی کے لیے ہر متعلقہ فورم پر اور اقوام عالم میں آواز بلند کرتا رہتا ہے۔ اسی بنیاد پر بھارت نے پاکستان کے ساتھ شروع دن سے اب تک دشمنی اختیار کر رکھی ہے جو اسے سانحہ سقوط ڈھاکا سے دوچارکرنے کے بعد باقی ماندہ پاکستان کی سلامتی کے بھی درپے ہے کہ پاکستان کشمیری عوام کی دامے، درمے، سخنے اور سفارتی سطح پر بھی معاونت جاری رکھے ہوئے ہے پاکستان نے تو بھارت کے ساتھ مذاکرات کے دروازے کبھی بند نہیں کیے مگر بھارت مذاکرات کی ہر میز رعونت کے ساتھ الٹاتا رہا ہے جبکہ محاصرے کے دوران بھی کشمیریوں پر بھارتی مظالم کا سلسلہ دراز ہو رہا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ بھارت میں جو بھی حکومت ہو، اس کے ہاتھوں وہاں کشمیریوں اور اقلیتوں کے حقوق سلب ہی رہیں گے۔بھارت جب تک کشمیر پر اپنی اٹوٹ انگ والی ہٹ دھرمی ترک نہیں کرتا، اس سے پاکستان دشمنی ترک کرنے اور علاقائی امن و سلامتی کی فضا ہموار کرنے کی توقع نہیں کی جا سکتی۔ اقوام عالم کو بہرصورت علاقائی اور عالمی امن و سلامتی کی خاطر بھارت کے توسیع پسندانہ عزائم کے آگے بند باندھنا ہوگا اور مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے یو این قراردادوں پر عملدرآمد کرانا ہوگا۔ کشمیریوں کی غیر متزلزل حمایت کے اعادے کے ساتھ ساتھ سیاسی اور سفارتی کوششوں کو بھی تیز کیا جائے اور عالمی برادری میں بھارتی مظالم کو اُجاگر کرتے ہوئے مربوط انداز میں کشمیر کا مقدمہ پیش کیا جائے تاکہ بھارت پر بین الاقوامی سطح پر دبائو بڑھے اور کشمیریوں کی حق خود ارادیت کی تحریک اُجاگر ہو۔ ہمیں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اور کوئی بھی آزاد و خود مختار ملک اپنی شہ رگ کو دشمن کے حوالے نہیں کرسکتی۔ بلا شبہ اس امر حقیقت سے نکار ممکن نہیں کہ مسئلہ کشمیر کا واحد قابل قبول حل کشمیریوں کو حق خودارادیت دینا اور اقوام متحدہ کی قرارداد کی روشنی میں رائے شماری کرنا ہے۔