گزشتہ روز استعفیٰ دینے والے جسٹس محسن اختر کیانی کا نان و نفقہ سے متعلق فیصلہ

گزشتہ روز استعفیٰ دینے والے جسٹس محسن اختر کیانی کا نان و نفقہ سے متعلق فیصلہ

لاہور ہائی کورٹ نے بچوں کے نان و نفقہ سے متعلق اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ والدین کی علیحدگی یا ازدواجی رشتہ ختم ہونے سے بچوں کی کفالت کی ذمہ داری ختم نہیں ہوتی۔

عدالت نے بیرونِ ملک مقیم والد کو ہر بچے کے لیے ماہانہ 30 ہزار روپے نان و نفقہ ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے صائقہ کی درخواست پر فیصلہ جاری کیا، جس میں بچوں کا ماہانہ نان و نفقہ 20 ہزار روپے سے بڑھا کر 30 ہزار روپے کرنے کا حکم دیا گیا۔ عدالت نے واضح کیا کہ بچوں کی مالی ضروریات پوری کرنا والد کی ذمہ داری ہے اور محدود آمدن کا دعویٰ اس ذمہ داری سے بری ہونے کے لیے کافی نہیں۔فیصلے کے مطابق بچوں کے نان و نفقہ کا تعین کرتے وقت والد کی مالی حیثیت، اصل آمدن، کام کی نوعیت اور بچوں کی ضروریات کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔ عدالت نے قرار دیا کہ والد کی حقیقی آمدن اور ملازمت کی نوعیت کا تعین محض دعوؤں کی بنیاد پر نہیں بلکہ دستیاب شواہد کی روشنی میں کیا جانا چاہیے۔عدالتی فیصلے میں برطانیہ کی سرکاری ویب سائٹ پر مقررہ کم از کم اجرت کا بھی حوالہ دیا گیا۔ ریکارڈ کے مطابق بچوں کے والد کی جانب سے بیرونِ ملک مناسب تنخواہ نہ ہونے کا مؤقف اختیار کیا گیا تھا، تاہم عدالت نے نان و نفقہ کے تعین کے لیے حقیقی مالی حالات اور شواہد کی اہمیت پر زور دیا۔

عدالت نے بچوں کے نان و نفقہ میں سالانہ 10 فیصد اضافے کا حکم بھی دیا، جس کا اطلاق نومبر 2019 سے شمار کرنے کی ہدایت کی گئی۔ اس طرح فیصلے میں بچوں کے اخراجات میں اضافے کو مدنظر رکھتے ہوئے نان و نفقہ کی رقم میں اضافے کا اصول بھی واضح کیا گیا۔مقدمے کے ریکارڈ کے مطابق درخواست گزار صائقہ کی شادی زاہد اقبال سے 2010 میں ہوئی تھی۔ کیس میں بچوں کے اخراجات اور والد کی مالی حیثیت سے متعلق معاملات زیرِ غور آئے۔