ٹرمپ کی ایران جنگ نے امریکا کو پہلے سے زیادہ غیر محفوظ کر دیا: سابق صدر اوباما

ٹرمپ کی ایران جنگ نے امریکا کو پہلے سے زیادہ غیر محفوظ کر دیا: سابق صدر اوباما

سابق امریکی صدر باراک اوباما نے ایران کے خلاف جنگ شروع کرنے کے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جواز پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام کو سفارت کاری کے ذریعے محدود کیا جا سکتا تھا۔

 ان کے مطابق 2015 میں ایران کے ساتھ ہونے والے جوہری معاہدے نے تہران کے جوہری پروگرام پر پابندیاں عائد کرنے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔

ایران کے جوہری پروگرام پر سفارت کاری کا راستہ
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق باراک اوباما نے ایران کے ساتھ اپنے دورِ صدارت میں ہونے والے جوہری معاہدے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت امریکا نے فوجی کارروائی کے بجائے مذاکرات اور سفارت کاری کا راستہ اختیار کیا تھا۔اوباما کے مؤقف کے مطابق، ایران کے جوہری پروگرام کو محدود کرنے کے لیے سفارتی کوششیں ایک متبادل راستہ فراہم کرتی تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کے خلاف جنگ شروع کرنے کے بجائے مذاکرات کے ذریعے اس معاملے کو حل کرنے کی کوشش کی جا سکتی تھی۔2015 میں ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان طے پانے والے جوہری معاہدے کا مقصد ایران کے جوہری پروگرام پر پابندیاں عائد کرنا اور اس بات کو یقینی بنانے کے لیے نگرانی کا نظام قائم کرنا تھا کہ اس پروگرام کو جوہری ہتھیار بنانے کے لیے استعمال نہ کیا جائے۔

جنگ کے امریکی اتحادیوں اور فوجی اڈوں پر اثرات
باراک اوباما نے ایران کے خلاف جنگ کے ممکنہ اور بیان کردہ نتائج پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ ان کے مطابق جنگ کے دوران امریکا کے اتحادیوں اور خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو حملوں کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ متعدد امریکی فوجی ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہوئے۔سابق امریکی صدر نے اس صورتِ حال کو امریکا کی سلامتی اور خطے میں اس کے فوجی مفادات کے حوالے سے اہم قرار دیا۔ ان کے مؤقف کے مطابق، جنگ کے اثرات صرف ایران تک محدود نہیں رہے بلکہ اس نے امریکا اور اس کے اتحادیوں کو بھی متاثر کیا۔

امریکی میزائلوں کے ذخائر میں کمی کا خدشہ
اوباما نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ جنگ کے دوران امریکی میزائلوں کے ذخائر میں کمی آئی ہے، جس سے امریکا کی دفاعی صلاحیت اور سلامتی کے حوالے سے خدشات پیدا ہو سکتے ہیں۔ان کے مطابق، طویل فوجی کارروائیاں ہتھیاروں اور دفاعی وسائل پر دباؤ بڑھا سکتی ہیں۔ تاہم، امریکی میزائلوں کے ذخائر میں کمی کی مقدار اور اس کے دفاعی اثرات کے تعین کے لیے مزید مستند اعداد و شمار درکار ہوں گے۔

آبنائے ہرمز میں ایران کا بڑھتا ہوا اثرورسوخ
باراک اوباما نے آبنائے ہرمز کی صورتِ حال پر بھی بات کرتے ہوئے کہا کہ ایران کا اس اہم بحری گزرگاہ پر اثرورسوخ بڑھ گیا ہے۔ ان کے مطابق، ایران کو اب آبنائے ہرمز سے متعلق معاملات میں ویٹو جیسی طاقت حاصل ہو گئی ہے۔آبنائے ہرمز خلیج فارس کو خلیج عمان اور بحیرۂ عرب سے ملانے والی ایک اہم بحری گزرگاہ ہے۔ عالمی سطح پر تیل کی بڑی مقدار اسی راستے سے منتقل کی جاتی ہے، جس کے باعث یہاں فوجی کشیدگی یا بحری آمدورفت میں رکاوٹ عالمی توانائی کی منڈیوں پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔

تیل کی قیمتوں میں اضافے پر تشویش
اوباما نے آبنائے ہرمز میں کشیدگی کو تیل کی قیمتوں میں اضافے کی ایک وجہ قرار دیا۔ ان کے مطابق، اس اہم بحری راستے پر ایران کے بڑھتے ہوئے اثرورسوخ اور جنگ کے باعث عالمی توانائی کی فراہمی کے حوالے سے غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو سکتی ہے۔تیل کی ترسیل میں رکاوٹ یا اس کے خدشات عالمی منڈی میں قیمتوں پر دباؤ بڑھا سکتے ہیں، جس کے اثرات ان ممالک پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں جو اپنی توانائی کی ضروریات کے لیے درآمدی تیل پر انحصار کرتے ہیں۔

سفارت کاری یا فوجی کارروائی؟
باراک اوباما کے بیان نے ایران کے جوہری پروگرام سے نمٹنے کے لیے سفارتی مذاکرات اور فوجی کارروائی کے درمیان انتخاب پر بحث کو دوبارہ نمایاں کر دیا ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ 2015 کے جوہری معاہدے کی مثال سے ظاہر ہوتا ہے کہ مذاکرات کے ذریعے ایران کے جوہری پروگرام پر پابندیاں عائد کرنے کی کوشش کی جا سکتی تھی۔