راولپنڈی: انسدادِ دہشت گردی عدالت (اے ٹی سی) آج 29 اکتوبر 2026 کو اڈیالہ جیل میں معروف وکلا ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے خلاف سکیورٹی بیریئرز ہٹانے اور کارِ سرکار میں مداخلت کے مقدمے کا فیصلہ سنائے گی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق، مقدمے کی سماعت مکمل ہونے کے بعد عدالت نے 27 اکتوبر کو فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔ دونوں ملزمان کے بیانات ضابطۂ فوجداری کی دفعہ 342 کے تحت ریکارڈ کیے گئے، جبکہ سرکاری وکیل کی جانب سے حتمی دلائل بھی مکمل کر لیے گئے تھے۔عدالتی کارروائی کے دوران دفاع اور استغاثہ کے مؤقف سنے گئے، جس کے بعد عدالت نے فیصلہ سنانے کے لیے 29 اکتوبر کی تاریخ مقرر کی۔
مقدمہ کس معاملے پر درج کیا گیا؟
یہ مقدمہ اکتوبر 2024 میں اسلام آباد میں ایک بین الاقوامی کرکٹ ٹیم کی آمد کے موقع پر سکیورٹی کے لیے مختص راستے میں مبینہ مداخلت اور بیریئرز ہٹانے کے الزامات سے متعلق ہے۔ استغاثہ کے مطابق، ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ پر سکیورٹی راستے میں رکاوٹ ڈالنے اور سرکاری امور میں مداخلت کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ دونوں کے خلاف مقدمے میں عوامی بے چینی کو ہوا دینے کے الزامات بھی شامل ہیں۔
ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کا مؤقف
دونوں ملزمان نے اپنے بیانات میں الزامات کو مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ مقدمہ ان کی انسانی حقوق اور قانونی سرگرمیوں کے باعث انہیں ہراساں کرنے کے مترادف ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مقدمے کی کارروائی میں منصفانہ ٹرائل اور قانونی تقاضوں سے متعلق مسائل رہے ہیں۔دونوں نے اسلام آباد ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ سے بھی رجوع کیا تھا اور مقدمے کی کارروائی روکنے کی درخواستیں دائر کی تھیں۔
اڈیالہ جیل میں سماعت کیوں ہو رہی ہے؟
مقدمے کی کارروائی اڈیالہ جیل منتقل کیے جانے کے بعد وہیں جاری رہی۔ اس سے قبل ملزمان کو عدالت میں پیش کرنے کے انتظامات اور وکلا کی اپنے مؤکلوں تک رسائی کے معاملات پر بھی اختلافات سامنے آئے تھے۔ عدالت نے جیل میں ٹرائل کے دوران گواہوں کے بیانات ریکارڈ کیے اور استغاثہ کے گواہوں پر جرح کا مرحلہ مکمل ہونے کے بعد ملزمان کے بیانات بھی قلم بند کیے۔
اب کیا ہوگا؟
آج کی عدالتی کارروائی میں فیصلہ سنائے جانے کی توقع ہے۔ مقدمے کا نتیجہ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے خلاف عائد الزامات اور عدالت کے سامنے پیش کیے گئے شواہد کے قانونی جائزے پر منحصر ہوگا۔