لاہور: بسنت 2027 کے پیش نظر اندرون شہر لاہور میں خطرناک عمارتوں کی تفصیلات سامنے آگئیں، جہاں پانچ وارڈز میں تقریباً 10 ہزار عمارتوں کا سروے مکمل کرلیا گیا ہے۔
سروے کے دوران مجموعی طور پر 271 عمارتوں کو خطرناک قرار دیا گیا، جبکہ باقی چار وارڈز میں عمارتوں کی جانچ پڑتال کا عمل جاری ہے۔حکام کے مطابق بسنت 2027 سے قبل اندرون شہر کی عمارتوں کی حالت کا جائزہ لینے اور شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے سروے کیا جا رہا ہے۔ اس عمل کا مقصد خستہ حال اور خطرناک عمارتوں کی نشاندہی کرکے ممکنہ حادثات سے بچاؤ کے لیے بروقت اقدامات کرنا ہے۔سروے رپورٹ کے مطابق لوہاری گیٹ کے علاقے میں سب سے زیادہ 95 عمارتوں کو خطرناک قرار دیا گیا ہے، جبکہ ٹیکسالی گیٹ کے علاقے میں 57 عمارتیں مخدوش پائی گئی ہیں۔ اسی طرح اکبری گیٹ اور دہلی گیٹ پر مشتمل وارڈ میں 52 عمارتوں کی حالت غیر محفوظ قرار دی گئی ہے۔اعداد و شمار کے مطابق بھاٹی گیٹ کے علاقے میں 43 اور یکی گیٹ میں 24 عمارتوں کو خطرناک قرار دیا گیا ہے۔ اس طرح پانچ وارڈز میں خطرناک قرار دی جانے والی عمارتوں کی مجموعی تعداد 271 بنتی ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ اندرون لاہور کے مجموعی طور پر نو وارڈز میں تقریباً 22 ہزار عمارتیں موجود ہیں، جن کی حالت کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ ابتدائی مرحلے میں پانچ وارڈز کی تقریباً 10 ہزار عمارتوں کا سروے مکمل کیا جاچکا ہے، جبکہ باقی چار وارڈز میں سروے کا کام جاری ہے۔ اس مرحلے کی تکمیل کے بعد خطرناک عمارتوں کی مجموعی صورت حال مزید واضح ہونے کی توقع ہے۔
لوہاری گیٹ میں سب سے زیادہ خطرناک عمارتیں
سروے کے اعداد و شمار میں لوہاری گیٹ کا علاقہ سب سے زیادہ متاثرہ نظر آتا ہے، جہاں 95 عمارتوں کو خطرناک قرار دیا گیا ہے۔ ٹیکسالی گیٹ 57 عمارتوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے، جبکہ اکبری گیٹ اور دہلی گیٹ پر مشتمل وارڈ میں 52 عمارتوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔ بھاٹی گیٹ اور یکی گیٹ میں بالترتیب 43 اور 24 عمارتیں خطرناک پائی گئی ہیں۔ان علاقوں میں تاریخی اور قدیمی عمارتوں کی بڑی تعداد موجود ہے، اس لیے عمارتوں کی حالت کا جائزہ لینا اور ممکنہ خطرات کی بروقت نشاندہی کرنا شہری تحفظ کے حوالے سے اہمیت رکھتا ہے۔
بسنت سے قبل حفاظتی اقدامات پر توجہ
بسنت 2027 کے پیش نظر خطرناک عمارتوں کی نشاندہی کو اہم قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ تہوار کے دوران اندرون شہر میں شہریوں کی آمدورفت اور چھتوں پر سرگرمیوں میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ ایسی صورت حال میں خستہ حال عمارتوں اور کمزور حصوں سے متعلق ممکنہ خطرات کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ضرورت اس امر کی ہے کہ سروے کے نتائج کی روشنی میں خطرناک عمارتوں کے حوالے سے مناسب حفاظتی اقدامات کیے جائیں، متاثرہ مقامات کا جائزہ لیا جائے اور شہریوں کو ممکنہ حادثات سے محفوظ رکھنے کے لیے متعلقہ اداروں کے درمیان مؤثر رابطہ یقینی بنایا جائے۔