خیبر پختونخوا کے اضلاع مہمند اور خیبر کی مختلف تحصیلوں میں گزشتہ رات بارش کے ساتھ شدید ژالہ باری ہوئی، جس کے دوران بعض علاقوں میں انڈے کے حجم جتنے اولے پڑنے سے کھڑی فصلوں، گھروں اور دیگر املاک کو نقصان پہنچا۔
مقامی افراد کے مطابق ضلع مہمند کی تحصیل پنڈیالی کے مختلف علاقوں میں شدید ژالہ باری سے فصلیں متاثر ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ کاشتکاروں کا کہنا ہے کہ ان کی کھڑی ٹماٹر کی فصل کو نقصان پہنچا، جبکہ بعض مقامات پر تیار فصل مکمل طور پر تباہ ہونے کی بھی اطلاعات ہیں۔کاشتکاروں کے مطابق ژالہ باری سے ٹماٹر کی فصل کو پہنچنے والے نقصان کے باعث انہیں مالی خسارے کا خدشہ ہے۔ انہوں نے حکومت اور متعلقہ اداروں سے نقصانات کا جائزہ لینے اور متاثرہ کاشتکاروں کی مدد کی اپیل کی ہے۔اسی طرح تحصیل امبار کے علاقے گمبتی میں بھی شدید ژالہ باری کے باعث متعدد گھروں اور زمینوں پر نصب سولر پینلز ٹوٹ گئے۔ مختلف علاقوں میں ژالہ باری سے دیگر اشیا کو بھی نقصان پہنچنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
بڑے اولوں کے واقعات میں اضافہ
مقامی افراد کے مطابق مہمند اور خیبر سمیت خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں بڑے حجم کے اولے پڑنے کا یہ پہلا واقعہ نہیں۔ گزشتہ چند برسوں کے دوران گرمیوں کے موسم میں خیبر پختونخوا، اسلام آباد اور ملک کے دیگر علاقوں میں بھی شدید ژالہ باری کے واقعات رپورٹ ہوتے رہے ہیں۔گزشتہ برس اکتوبر میں ضلع مہمند کی تحصیل پڑانگ غار میں شدید ژالہ باری کے باعث فصلوں، سولر پینلز اور گھروں کو نقصان پہنچا تھا۔ بعض مقامات پر اولوں کی زد میں آکر مویشی اور پالتو جانور بھی زخمی ہوئے تھے۔اسی طرح گزشتہ سال اپریل میں اسلام آباد کے بعض علاقوں میں ٹینس بال کے حجم کے برابر اولے پڑنے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں، جن کے باعث متعدد گاڑیوں، گھروں اور مساجد کے شیشوں اور چھتوں کو نقصان پہنچا تھا۔
بڑے اولے کیوں پڑتے ہیں؟
ڈپٹی ڈائریکٹر محکمہ موسمیات انجم نذیر ضیغم نے گزشتہ برس بڑے حجم کے اولے پڑنے کی سائنسی وجہ بیان کرتے ہوئے بتایا تھا کہ ٹمپریچر کنٹراسٹ اور بادلوں کے اندر تیزی سے اوپر اٹھنے والی ہوائیں، جنہیں اپ ڈرافٹ کہا جاتا ہے، اس عمل میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ان کے مطابق بادلوں کے اندر موجود تیز اپ ڈرافٹ اولوں کو بار بار اوپر کی جانب دھکیلتی ہیں۔ جب یہ ذرات بادلوں کے اندر مسلسل اوپر نیچے حرکت کرتے ہیں تو ان پر پانی کی مزید تہیں جمتی جاتی ہیں، جس سے اولوں کا حجم بڑھتا رہتا ہے۔محکمہ موسمیات کے مطابق زمین اور بادلوں کے نچلے و بالائی حصوں کے درمیان درجہ حرارت کا نمایاں فرق بھی اس عمل کو مزید تیز کردیتا ہے، جس کے نتیجے میں بعض اوقات بڑے حجم کے اولے زمین پر گرتے ہیں۔حکام کے مطابق حالیہ بارش اور ژالہ باری کے نتیجے میں تاحال کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی، تاہم متاثرہ علاقوں میں فصلوں اور املاک کو پہنچنے والے نقصانات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔