بھارتی گولڈ میڈلسٹ پاور لفٹر یاشتیکا آچاریہ ٹریننگ کے دوران جان کی بازی ہار گئیں

بھارتی گولڈ میڈلسٹ پاور لفٹر یاشتیکا آچاریہ ٹریننگ کے دوران جان کی بازی ہار گئیں

بیکانیر، بھارت – 17 سالہ بھارتی گولڈ میڈلسٹ پاور لفٹر یاشتیکا آچاریہ ٹریننگ کے دوران ایک ہولناک حادثے کا شکار ہو کر جاں بحق ہو گئیں، جب ان کے گلے پر 270 کلوگرام وزنی بار گر گیا۔

حادثے کی تفصیلات:
یہ المناک واقعہ منگل کے روز بیکانیر کے ایک جم میں پیش آیا، جہاں یاشتیکا آچاریہ اپنے ٹرینر کی نگرانی میں ویٹ لفٹنگ کی مشق کر رہی تھیں۔ جیسے ہی وہ وزن اٹھانے لگیں، اچانک 270 کلو وزنی راڈ ان کے گلے پر گر گیا، جس کے باعث ان کی گردن ٹوٹ گئی اور وہ موقع پر بے ہوش ہو گئیں۔

طبی امداد اور موت کی تصدیق
فوری طور پر ایمبولینس کے ذریعے انہیں قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، تاہم ڈاکٹرز نے ان کی موت کی تصدیق کر دی۔ حادثے میں ٹرینر کو بھی معمولی چوٹیں آئیں، مگر ان کی حالت خطرے سے باہر ہے۔

قانونی کارروائی
پولیس کے مطابق، یاشتیکا کے اہلخانہ نے تاحال کسی قانونی کارروائی کی درخواست نہیں دی۔ بدھ کے روز پوسٹ مارٹم مکمل ہونے کے بعد ان کی لاش ورثا کے حوالے کر دی گئی۔

یاشتیکا آچاریہ کی کامیابیاں
یاشتیکا آچاریہ نے اپنے مختصر لیکن شاندار کیریئر میں متعدد قومی سطح کے ٹائٹلز جیتے اور اپنی بہترین کارکردگی کی وجہ سے بھارتی پاور لفٹنگ کی دنیا میں ایک ابھرتا ہوا ستارہ سمجھی جاتی تھیں۔ ان کی اچانک موت نے نہ صرف ان کے اہلخانہ بلکہ کھیلوں کے حلقوں کو بھی گہرے صدمے میں مبتلا کر دیا ہے۔

پاور لفٹنگ – ایک خطرناک کھیل؟
پاور لفٹنگ ایک طاقت پر مبنی کھیل ہے جس میں اسکواٹ، بینچ پریس اور ڈیڈ لفٹ کے مقابلے شامل ہوتے ہیں۔ اگرچہ یہ کھیل اولمپکس کا حصہ نہیں، مگر عالمی سطح پر انتہائی مقبول ہے۔ تاہم، اس میں اکثر خطرناک چوٹوں اور حادثات کا سامنا رہتا ہے، جن میں جان لیوا واقعات بھی شامل ہیں۔

قبل ازیں پیش آنے والے المناک حادثات
یہ حادثہ کھیلوں میں ہونے والے جان لیوا واقعات میں ایک اور افسوسناک اضافہ ہے۔ اس سے قبل، 2014 میں آسٹریلوی کرکٹر فلپ ہیوز بھی میچ کے دوران گردن پر گیند لگنے سے ہلاک ہو گئے تھے۔ اسی طرح، مختلف کھیلوں میں محفوظ ٹریننگ اور حفاظتی تدابیر نہ اپنانے کے باعث کئی کھلاڑی شدید زخمی ہو چکے ہیں۔یاشتیکا آچاریہ کی المناک موت نے کھیلوں میں حفاظتی اقدامات پر مزید توجہ دینے کی ضرورت کو اجاگر کر دیا ہے، تاکہ آئندہ اس قسم کے واقعات سے بچا جا سکے۔