ڈیرہ غازی خان: وفاقی وزیر برائے توانائی اویس لغاری نے کہا ہے کہ آئندہ سال جون سے بجلی چوری کے باعث ہونے والی لوڈشیڈنگ کا طریقہ کار تبدیل کیا جائے گا اور بجلی چوری کرنے والے فیڈرز کے بجائے متعلقہ ٹرانسفارمرز کی سطح پر لوڈشیڈنگ کی جائے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت بجلی چوری کی روک تھام اور عوام کو اضافی مالی بوجھ سے بچانے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔وفاقی وزیر نے ڈیرہ غازی خان میں فاروق احمد خان لغاری انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی توسیع کے منصوبے کا جائزہ لینے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ رات کے وقت دو گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کے ذریعے صارفین کو فی یونٹ بجلی پر 6 روپے کے اضافی بوجھ سے بچایا گیا۔
بجلی چوری کے خلاف لوڈشیڈنگ کا نیا طریقہ
اویس لغاری کے مطابق، حکومت بجلی چوری کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے لوڈشیڈنگ کے طریقہ کار میں تبدیلی لانے کی تیاری کر رہی ہے۔ منصوبے کے تحت بجلی چوری کرنے والے علاقوں میں پورے فیڈر کے بجائے متعلقہ ٹرانسفارمر کی سطح پر لوڈشیڈنگ کی جائے گی۔اس اقدام کا مقصد بجلی چوری کے باعث پیدا ہونے والے نقصانات کو محدود کرنا اور ان علاقوں میں بجلی کی فراہمی کے نظام کو بہتر بنانا ہے۔ وفاقی وزیر نے بتایا کہ یہ طریقہ کار آئندہ سال جون سے نافذ کرنے کا منصوبہ ہے۔انہوں نے رات کے وقت دو گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس اقدام سے عوام کو بجلی کے نرخوں میں فی یونٹ 6 روپے کے اضافی بوجھ سے بچانے میں مدد ملی۔
جنوبی پنجاب اور بہاولپور صوبوں کے قیام پر مشاورت
وفاقی وزیر توانائی نے گفتگو کے دوران انتظامی یونٹس کے قیام سے متعلق بھی بات کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں نئے انتظامی یونٹس کے قیام کے معاملے پر پارٹی کی سطح پر مشاورت جاری ہے۔اویس لغاری نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) جنوبی پنجاب اور بہاولپور صوبوں کے قیام کے لیے اسمبلی میں قراردادیں منظور کروا چکی ہے۔ ان کے مطابق، نئے صوبوں کے قیام سے متعلق معاملے پر سیاسی سطح پر مشاورت کی جا رہی ہے۔
فاروق لغاری ایئرپورٹ کی توسیع پر ساڑھے پانچ ارب روپے خرچ ہوں گے
اویس لغاری نے بتایا کہ فاروق احمد خان لغاری ایئرپورٹ گزشتہ پانچ سال سے غیر فعال تھا، تاہم وزیراعظم سے اس کی توسیع کا منصوبہ منظور کروایا گیا ہے۔ ان کے مطابق، ایئرپورٹ کی توسیع پر ساڑھے پانچ ارب روپے لاگت آئے گی اور منصوبے پر کام جاری ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ منصوبہ مکمل ہونے کے بعد ایئرپورٹ کو دوبارہ فعال بنانے اور بین الاقوامی پروازوں کے لیے آپریشنل کرنے کی راہ ہموار ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ آئندہ سال کے آخر تک ایئرپورٹ کو آپریشنل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
رن وے کی لمبائی 10 ہزار فٹ تک بڑھائی جائے گی
ایئرپورٹ کی توسیع کے منصوبے کے تحت رن وے کی لمبائی اور چوڑائی میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔ پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی کے حکام نے وفاقی وزیر کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ رن وے کی موجودہ لمبائی 6 ہزار فٹ سے بڑھا کر 10 ہزار فٹ کی جا رہی ہے، جبکہ اس کی چوڑائی 30 میٹر سے بڑھا کر 45 میٹر کی جائے گی۔حکام کے مطابق، منصوبے میں رن وے کی توسیع کے ساتھ رات کے وقت طیاروں کی لینڈنگ کے لیے ضروری انتظامات بھی شامل ہیں۔ اس سے ایئرپورٹ پر پروازوں کی آمدورفت کے اوقات میں وسعت لانے میں مدد ملنے کی توقع ہے۔
ڈیڑھ سال میں منصوبہ مکمل کرنے کا ہدف
پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی کے حکام نے بریفنگ میں بتایا کہ ایئرپورٹ کی توسیع کا منصوبہ ڈیڑھ سال میں مکمل کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ وفاقی وزیر اویس لغاری نے موقع پر جاری کام کا جائزہ لیا اور حکام سے منصوبے کی پیش رفت کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔ان کا کہنا تھا کہ ایئرپورٹ کے دوبارہ فعال ہونے سے ڈیرہ غازی خان ڈویژن کے علاوہ قریبی علاقوں اور دیگر صوبوں کے اضلاع سے تعلق رکھنے والے مسافروں کو بھی فائدہ پہنچے گا۔
جنوبی پنجاب میں فضائی رابطوں کی بہتری کی توقع
فاروق احمد خان لغاری ایئرپورٹ کی توسیع کو ڈیرہ غازی خان اور اس کے گردونواح میں فضائی سفری سہولتوں کی بحالی کے منصوبے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ رن وے کی توسیع اور رات کے وقت لینڈنگ کی سہولت سے ایئرپورٹ کی آپریشنل صلاحیت میں اضافہ متوقع ہے۔