برازیل: سوشل میڈیا پر محبت کی تلاش ایک برازیلی شخص کو ایسی صورتِ حال میں لے گئی جہاں اسے اپنی امیدوں کے ساتھ مالی نقصان کا بھی سامنا کرنا پڑا۔
49 سالہ مزدور ایڈیمار روچا مارٹنز نے آن لائن ایک خاتون سے ملاقات کی امید میں اپنا سامان فروخت کیا اور تقریباً 2 ہزار کلومیٹر کا سفر طے کرکے منزل پر پہنچے، تاہم وہاں معلوم ہوا کہ جس خاتون سے وہ ملنے آئے ہیں، وہ حقیقت میں موجود ہی نہیں بلکہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے تخلیق کیا گیا ایک فرضی کردار ہے۔
سوشل میڈیا پر خاتون کا اکاؤنٹ دیکھا
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق، ایڈیمار روچا مارٹنز نے 2020 میں سوشل میڈیا پر جیسیکا اولیویرا نامی خاتون کا اکاؤنٹ دیکھا تھا۔ اس اکاؤنٹ پر شائع ہونے والی ویڈیوز میں خاتون خود کو ایک فارم میں رہنے والی شخصیت کے طور پر پیش کرتی تھی اور زندگی گزارنے کے لیے ایک ساتھی کی تلاش کا تاثر دیتی تھی۔مارٹنز نے اس آن لائن شخصیت سے رابطے کے بعد اس کے ساتھ نئی زندگی شروع کرنے کی امید باندھ لی۔ رپورٹس کے مطابق، والدہ کی وفات کے بعد وہ تنہائی محسوس کر رہے تھے اور انہیں اس تعلق میں زندگی کا نیا سہارا دکھائی دینے لگا۔
محبوبہ سے ملنے کے لیے سامان فروخت کر دیا
رپورٹ کے مطابق، مارٹنز نے 9 اکتوبر کو اپنا سامان فروخت کیا تاکہ سفر کے اخراجات پورے کر سکیں۔ اس کے بعد وہ بس کے ذریعے تقریباً 2 ہزار کلومیٹر دور واقع شہر بیلو ہوریزونٹے روانہ ہوگئے۔وہ اس امید کے ساتھ سفر پر نکلے تھے کہ وہاں پہنچ کر جیسیکا اولیویرا سے ملاقات ہوگی اور آن لائن تعلق کو حقیقی زندگی میں آگے بڑھانے کا موقع ملے گا۔ تاہم، منزل پر پہنچنے کے بعد انہیں خاتون کی تلاش میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔
معلوم ہوا کہ خاتون اے آئی سے تیار کی گئی تھی
مارٹنز کو بعد میں معلوم ہوا کہ جیسیکا اولیویرا نامی شخصیت حقیقی خاتون نہیں بلکہ مصنوعی ذہانت کی مدد سے تخلیق کیا گیا ایک فرضی کردار تھی۔ یوں وہ جس شخص سے ملاقات کی امید لے کر اتنا طویل سفر کرکے پہنچے تھے، حقیقت میں اس کا کوئی وجود نہیں تھا۔اکاؤنٹ چلانے والے شخص نے دعویٰ کیا کہ اس نے یہ کردار صرف سوشل میڈیا پر توجہ حاصل کرنے کے لیے بنایا تھا۔ اس کا کہنا تھا کہ اس نے مارٹنز کو ملاقات کے لیے مدعو نہیں کیا تھا۔اس وضاحت کے بعد مارٹنز کی ملاقات کی امید پوری نہ ہوسکی اور انہیں احساس ہوا کہ وہ ایک ایسی آن لائن شخصیت کے پیچھے سفر کرکے آئے تھے جو حقیقت میں موجود ہی نہیں تھی۔
واپسی کے لیے حکام نے مدد فراہم کی
رپورٹ کے مطابق، منزل پر پہنچنے کے بعد مارٹنز کے پاس گھر واپس جانے کے لیے رقم موجود نہیں تھی، کیونکہ وہ سفر کے لیے اپنا سامان فروخت کر چکے تھے۔ اس صورتِ حال میں مقامی حکام نے ان کی مدد کی اور واپسی کے لیے بس کا ٹکٹ فراہم کیا۔حکام کی مدد سے ان کی گھر واپسی کا انتظام کیا گیا، تاہم اس واقعے نے انہیں ایک مشکل صورتِ حال سے دوچار کردیا۔
اے آئی اور آن لائن شناخت کی حقیقت
یہ واقعہ مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ تصاویر، ویڈیوز اور فرضی آن لائن شخصیات کی شناخت سے متعلق خدشات کو اجاگر کرتا ہے۔ سوشل میڈیا پر کسی اکاؤنٹ کی ظاہری حقیقت اور اس کے پیچھے موجود شخص یا کردار میں فرق کرنا بعض اوقات مشکل ہوسکتا ہے۔ماہرین عموماً آن لائن تعلقات میں کسی شخص کی شناخت کی تصدیق، ویڈیو کال کے ذریعے براہِ راست رابطے اور اہم فیصلے کرنے سے پہلے محتاط رہنے پر زور دیتے ہیں۔ خاص طور پر سفر، مالی اخراجات یا ذاتی سامان فروخت کرنے جیسے بڑے فیصلے صرف آن لائن دعوؤں کی بنیاد پر کرنا خطرات کا باعث بن سکتا ہے۔