مریم نواز کی زیرصدارت پنجاب کابینہ کا 37واں اجلاس، متعدد منظوریاں

مریم نواز کی زیرصدارت پنجاب کابینہ کا 37واں اجلاس، متعدد منظوریاں

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی زیرِ صدارت صوبائی کابینہ کے 37ویں اجلاس میں صنعتی ترقی، برآمدات میں اضافے، زرعی میکانائزیشن، ہاؤسنگ، صحت، ٹریفک قوانین اور سرکاری محکموں میں بھرتیوں سمیت متعدد اہم اقدامات کی منظوری دے دی گئی۔

 اجلاس میں پنجاب انڈسٹریل اینڈ ایکسپورٹ پروگرام (پیوٹ) کے مختلف فیچرز کی منظوری دی گئی، جس کے تحت صوبے میں مجموعی طور پر 1,995 ارب روپے کی سرمایہ کاری متوقع ہے، جبکہ ایک لاکھ 62 ہزار سے زائد افراد کے لیے روزگار کے مواقع پیدا ہونے کا امکان ہے۔اجلاس کے آغاز میں جامِ شہادت نوش کرنے والے افسران اور جوانوں کے درجات کی بلندی کے لیے دعا کی گئی، جبکہ سینئر وزیر مریم اورنگزیب کی خوشدامن کے ایصالِ ثواب کے لیے بھی دعائے مغفرت کی گئی۔

صنعتی ترقی اور برآمدات کے فروغ کے لیے 1,995 ارب روپے کی سرمایہ کاری
اجلاس میں سینئر وزیر مریم اورنگزیب نے پنجاب انڈسٹریل اینڈ ایکسپورٹ پروگرام پیش کیا، جس کے مختلف پہلوؤں کی منظوری دی گئی۔ بریفنگ کے مطابق اس پروگرام کے تحت 1,995 ارب روپے کی مجموعی سرمایہ کاری متوقع ہے، جس میں 1,089 ارب روپے سرکاری جبکہ 906 ارب روپے نجی شعبے کی جانب سے سرمایہ کاری شامل ہے۔پروگرام کا بنیادی مقصد صنعتی انفراسٹرکچر کو بہتر بنانا، صنعتی کلسٹرز کو ترقی دینا، برآمدات کو مسابقتی بنانا اور مختلف شعبوں میں ویلیو چین کو جدید خطوط پر استوار کرنا ہے۔ اس کے علاوہ زراعت اور لائیوسٹاک میں جدید مشینری کے استعمال، سولر توانائی کی تنصیبات، ہنرمندی کے فروغ اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کو بھی فروغ دیا جائے گا۔حکام کے مطابق پروگرام سے ایک لاکھ 62 ہزار سے زائد افراد کے لیے روزگار کے مواقع پیدا ہونے کی توقع ہے، جس سے صنعتی سرگرمیوں اور معاشی ترقی کو تقویت مل سکتی ہے۔

گارمنٹس، لیدر، فٹ ویئر اور دیگر صنعتیں پروگرام کا حصہ
پنجاب انڈسٹریل اینڈ ایکسپورٹ پروگرام میں ای بزنس، ای کامرس، گارمنٹس، پلگ اینڈ پلے سہولتوں، لیدر، فٹ ویئر، کھیلوں کے سامان کی ٹیسٹنگ و سرٹیفکیشن، کٹلری، ہاٹ ٹولز اور سیرامکس کی صنعتوں کو شامل کیا گیا ہے۔پروگرام کے تحت پنکھوں کی صنعت کے لیے میٹریل ٹیسٹنگ لیبارٹری قائم کرنے کی منصوبہ بندی بھی کی گئی ہے، تاکہ مصنوعات کے معیار کو بہتر بنانے اور عالمی منڈیوں میں مسابقت بڑھانے میں مدد مل سکے۔اسی طرح ہارٹی کلچر اور فلوری کلچر کی برآمدات کے لیے فنانسنگ، آلو اور آم کی ویلیو ایڈیشن اور زرعی پراسیسنگ پارکس کے قیام کو بھی پروگرام میں شامل کیا گیا ہے۔ ان اقدامات کا مقصد زرعی پیداوار کو بہتر انداز میں پراسیس کرکے اس کی تجارتی قدر بڑھانا اور برآمدات کے لیے نئے مواقع پیدا کرنا ہے۔

چار اضلاع میں زرعی پراسیسنگ پارکس قائم کرنے کی منصوبہ بندی
اجلاس کو دی گئی بریفنگ کے مطابق سرگودھا، خانیوال، اوکاڑہ اور بھکر میں زرعی پراسیسنگ پارکس قائم کیے جائیں گے۔ ان منصوبوں کے ذریعے زرعی اجناس کی پراسیسنگ، ذخیرہ کرنے اور مارکیٹ تک رسائی کے نظام کو بہتر بنانے پر توجہ دی جائے گی۔پروگرام میں گندم، گوشت اور دودھ کی ویلیو چین بہتر بنانے کے منصوبے بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ سیاحت، ایکوا فارمنگ اور مقامی و عالمی منڈیوں کی ضروریات کے مطابق ہنرمند افرادی قوت تیار کرنے کو بھی اہمیت دی گئی ہے۔حکومت کے مطابق صنعتی اور زرعی شعبوں میں جدید ٹیکنالوجی، بہتر پیداواری نظام اور برآمدی صلاحیت میں اضافے کے ذریعے صوبے کی معاشی سرگرمیوں کو وسعت دینے کی کوشش کی جائے گی۔

پنجاب کے 20 اضلاع میں ہارٹی کلچر اتھارٹیز قائم کرنے کی منظوری
صوبائی کابینہ نے پنجاب کے 20 اضلاع میں ہارٹی کلچر اتھارٹیز کے قیام کی منظوری بھی دے دی۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ہر ضلع میں پارکس اینڈ ہارٹی کلچر اتھارٹی قائم کی جائے گی۔ان اداروں کا مقصد پارکوں، سبزہ زاروں اور شہری ماحول کی بہتری سے متعلق سرگرمیوں کو منظم کرنا ہوگا۔ اس اقدام کے ذریعے شہری علاقوں میں شجرکاری، تفریحی مقامات کی دیکھ بھال اور ہارٹی کلچر کے فروغ کے لیے ادارہ جاتی انتظامات کو وسعت دینے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔

گرین ٹریکٹر پروگرام کے لیے 9 ارب 50 کروڑ روپے کی سبسڈی
پنجاب کابینہ نے چیف منسٹر گرین ٹریکٹر پروگرام کے ہائی پاور فیز فائیو کے لیے سبسڈی اور رجسٹریشن پر عائد لیٹ فیس معاف کرنے کی منظوری دے دی۔اجلاس کو بتایا گیا کہ گرین ٹریکٹر اسکیم کے لیے ڈھائی لاکھ سے زائد درخواستیں موصول ہو چکی ہیں، جبکہ 10 ہزار ٹریکٹرز کی فراہمی پر پنجاب حکومت 9 ارب 50 کروڑ روپے کی سبسڈی دے گی۔بریفنگ میں بتایا گیا کہ گزشتہ 20 برسوں کے دوران 10 ہزار ٹریکٹرز فراہم کیے گئے، جبکہ موجودہ ڈھائی سالہ دور میں 44 ہزار ٹریکٹرز فراہم کیے جا رہے ہیں۔ اسی عرصے میں زرعی میکانائزیشن پر اخراجات 3 ارب روپے سے بڑھ کر 15 ارب روپے تک پہنچ گئے، جبکہ 25 ہزار ٹریکٹرز کاشتکاروں تک پہنچ چکے ہیں۔کابینہ نے گرین ٹریکٹر پروگرام کے لو پاور فیز فور کے تحت مزید 10 ہزار ٹریکٹرز فراہم کرنے کے لیے سبسڈی کی منظوری بھی دی۔ اس اقدام کا مقصد کاشتکاروں کو جدید زرعی مشینری تک رسائی دینا اور زرعی پیداوار میں بہتری کے لیے مشینوں کے استعمال کو فروغ دینا ہے۔

تھل میں زرعی تبدیلی کے منصوبے کے لیے 7 ارب 60 کروڑ روپے کی سبسڈی
کابینہ نے تھل میں ایگریکلچر ٹرانسفارمیشن پراجیکٹ کے لیے بھی سبسڈی منظور کر لی۔ منصوبے کے تحت منکیرہ اور لیہ میں 10 ہزار ایکڑ زرعی اراضی کو ڈرپ ایریگیشن نظام پر منتقل کیا جائے گا۔بریفنگ کے مطابق اس منصوبے میں سولر پاور، پانی ذخیرہ کرنے کی سہولتوں اور دیگر ضروری انتظامات کے لیے 7 ارب 60 کروڑ روپے کی سبسڈی فراہم کی جائے گی۔ڈرپ ایریگیشن کے ذریعے پانی کے مؤثر استعمال کو فروغ دینے اور زرعی زمینوں کو جدید آبپاشی نظام سے منسلک کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ سولر توانائی اور واٹر اسٹوریج کی سہولتیں بھی زرعی سرگرمیوں کے لیے معاون ثابت ہو سکتی ہیں۔

اپنی چھت، اپنا گھر پروگرام کے تحت 40 ہزار قرضے
پنجاب کابینہ نے اپنی چھت، اپنا گھر پروگرام کی منظوری بھی دے دی۔ پروگرام کے تحت 60 ارب روپے کے ذریعے بینک آف پنجاب 40 ہزار قرضے فراہم کرے گا۔وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے پروگرام کے تحت اسٹیمپ ڈیوٹی عائد کرنے کی تجویز مسترد کر دی۔ اس فیصلے کے نتیجے میں مجوزہ پروگرام میں اسٹیمپ ڈیوٹی شامل کرنے کی تجویز آگے نہیں بڑھائی جائے گی۔اس منصوبے کا تعلق شہریوں کو گھر کی تعمیر کے لیے مالی معاونت فراہم کرنے سے ہے۔ تاہم قرضوں کی تقسیم، درخواستوں کی اہلیت اور دیگر شرائط سے متعلق تفصیلات الگ سے اہم ہوں گی۔

ہسپتالوں کے طبی آلات کے واجبات کی ادائیگی کا حکم
اجلاس میں سرکاری ہسپتالوں کے طبی آلات کو فعال رکھنے کے لیے درکار واجبات کی فوری ادائیگی کا حکم دیا گیا۔ کابینہ نے محکمہ اسپیشل ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن کے ضروری واجبات کی ادائیگی کے لیے فنڈز کی منظوری بھی دی۔اس اقدام کا مقصد ہسپتالوں میں طبی آلات کی فعالیت برقرار رکھنے اور صحت کی سہولتوں کی فراہمی میں رکاوٹیں دور کرنے میں مدد دینا ہے۔اس کے علاوہ کابینہ نے گلگت بلتستان کو چھ اور آزاد جموں و کشمیر کو 15 کلینک آن ویلز گاڑیاں عطیہ کرنے کی منظوری دی۔ ان گاڑیوں کے ذریعے طبی سہولتوں کو مختلف علاقوں تک پہنچانے میں مدد مل سکتی ہے۔

ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں پر جرمانے بڑھانے کی منظوری
پنجاب کابینہ نے پنجاب رنگ روڈ اتھارٹی کے تحت ٹریفک جرمانوں میں ترامیم کی منظوری بھی دے دی۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ اوور اسپیڈنگ، پیدل کراسنگ سے متعلق خلاف ورزیوں اور دیگر ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں پر جرمانوں میں کئی گنا اضافہ کیا جائے گا۔اس اقدام کا مقصد ٹریفک قوانین پر عمل درآمد کو بہتر بنانا اور سڑکوں پر نظم و ضبط کو فروغ دینا بتایا گیا ہے۔ تاہم مختلف خلاف ورزیوں کے لیے جرمانوں کی نئی شرحوں کی تفصیلات فراہم کردہ معلومات میں شامل نہیں ہیں۔

ستھرا پنجاب اتھارٹی میں 3,923 آسامیوں پر بھرتیوں کی اجازت
کابینہ اجلاس میں سرکاری محکموں اور اداروں میں بھرتیوں سے متعلق متعدد فیصلے بھی کیے گئے۔ ستھرا پنجاب اتھارٹی اور ایجنسی کی مجموعی طور پر 3,923 آسامیوں پر بھرتیوں کی پابندی میں نرمی کی منظوری دی گئی۔اس کے علاوہ پنجاب سوشل پروٹیکشن اتھارٹی میں 17 خالی آسامیوں پر بھرتی کی اجازت دے دی گئی۔کابینہ نے گلوبل انویسٹمنٹ گیٹ وے کے تحت بھرتیوں کے لیے خصوصی ریکروٹمنٹ کمیٹی قائم کرنے کی بھی منظوری دی، جبکہ ڈیرہ غازی خان اور راجن پور میں بارڈر ملٹری پولیس اور بلوچ لیوی میں بھرتیوں پر پابندی میں نرمی کی اجازت دی گئی۔

یوتھ افیئرز اور انٹیلی جنس اداروں میں نئی آسامیاں
اجلاس میں یوتھ افیئرز کے پراجیکٹ مینجمنٹ یونٹ کے لیے 70 آسامیاں پیدا کرنے اور منتقل کرنے کی منظوری دی گئی۔اسی طرح پراونشل انٹیلی جنس فیوژن سینٹر میں 79 آسامیوں، اسپیشل برانچ کے انٹیلی جنس کیڈر میں نئی بھرتیوں اور سکلز ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ کے اسٹریٹجک پراجیکٹ یونٹ میں 16 آسامیوں پر بھرتی کی منظوری بھی دی گئی۔ان فیصلوں کے ذریعے متعلقہ سرکاری اداروں میں افرادی قوت کی ضروریات پوری کرنے اور مختلف منصوبوں کے لیے عملہ فراہم کرنے کی راہ ہموار کی گئی ہے۔

صنعتی، زرعی اور عوامی فلاح کے منصوبوں پر توجہ
پنجاب کابینہ کے 37ویں اجلاس میں کیے گئے فیصلوں میں صنعتی سرمایہ کاری، برآمدات، زرعی میکانائزیشن، آبپاشی، ہاؤسنگ، صحت، ٹریفک قوانین اور سرکاری اداروں میں افرادی قوت کی ضروریات کو اہمیت دی گئی۔اجلاس میں پیش کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق پنجاب انڈسٹریل اینڈ ایکسپورٹ پروگرام کے تحت 1,995 ارب روپے کی ممکنہ سرمایہ کاری اور ایک لاکھ 62 ہزار سے زائد روزگار کے مواقع متوقع ہیں۔ زرعی شعبے میں ٹریکٹر سبسڈی اور ڈرپ ایریگیشن منصوبوں، جبکہ ہاؤسنگ کے شعبے میں 60 ارب روپے کے پروگرام کے ذریعے 40 ہزار قرضوں کی فراہمی بھی نمایاں فیصلوں میں شامل ہے۔