اسرائیلی وزیرِاعظم بینجمن نیتن یاہو نے 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے حملے میں تقریباً 1200 اسرائیلیوں کی ہلاکت کو آبادی کے تناسب سے امریکہ میں 40 ہزار افراد کی ہلاکت کے برابر قرار دیا ہے۔
انہوں نے یہ مثال اسرائیل پر ہونے والے حملے کی شدت واضح کرنے اور حماس کے خلاف فوجی کارروائی کے اپنے مؤقف کی وضاحت کے لیے پیش کی۔سی این این کو دیے گئے ایک انٹرویو میں نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیل کی تقریباً ایک کروڑ آبادی کے تناظر میں ایک ہی دن میں 1200 افراد کی ہلاکت کا تناسب امریکہ میں ایک دن کے دوران تقریباً 40 ہزار افراد کی ہلاکت کے برابر بنتا ہے۔ان کے مطابق 7 اکتوبر کا حملہ اسرائیل کے لیے ایک بڑا صدمہ تھا اور اس کے بعد اسرائیلی حکومت نے حماس کے خلاف کارروائی کو اپنی سلامتی کے لیے ضروری قرار دیا۔
7 اکتوبر کے حملے کو 11 ستمبر سے بھی تشبیہ دی
نیتن یاہو نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کے دوران بھی 7 اکتوبر کے حملے کا موازنہ امریکی تاریخ کے 11 ستمبر 2001 کے دہشت گرد حملوں سے کیا تھا۔انہوں نے کہا تھا کہ اسرائیل کی آبادی کے تناسب سے 7 اکتوبر کو ہونے والی ہلاکتیں امریکہ میں بڑے پیمانے پر جانی نقصان کے برابر تصور کی جا سکتی ہیں۔ اپنے خطاب میں انہوں نے اس حملے کی شدت کو واضح کرنے کے لیے اسے امریکہ میں 11 ستمبر کے حملوں سے بھی زیادہ بڑے تناسب سے جوڑا۔نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ ان حملوں نے اسرائیل کی سلامتی کو شدید متاثر کیا اور ان کے بعد حماس کے خلاف فوجی کارروائی کرنا ناگزیر ہوگیا۔
حماس کے حملے میں تقریباً 1200 افراد ہلاک ہوئے
7 اکتوبر 2023 کو حماس کے جنگجوؤں نے غزہ کی پٹی سے اسرائیل پر حملہ کیا تھا۔ اس حملے میں تقریباً 1200 افراد ہلاک ہوئے، جبکہ متعدد افراد کو یرغمال بنا کر غزہ منتقل کیا گیا۔اس حملے کے بعد اسرائیل نے غزہ میں فوجی کارروائی شروع کی، جو ایک وسیع جنگ میں تبدیل ہوگئی۔ اس جنگ کے نتیجے میں غزہ میں بڑے پیمانے پر جانی نقصان، نقل مکانی اور بنیادی ڈھانچے کی تباہی ہوئی۔
نیتن یاہو نے فوجی کارروائی کے مؤقف کا دفاع کیا
اسرائیلی وزیرِاعظم نے اپنے بیان میں آبادی کے تناسب سے ہلاکتوں کا موازنہ کرتے ہوئے یہ مؤقف اختیار کیا کہ 7 اکتوبر کا حملہ اسرائیل کے لیے غیرمعمولی نوعیت کا واقعہ تھا۔ انہوں نے حماس کو غیرمسلح کرنے اور غزہ میں اس کی عسکری صلاحیت ختم کرنے کو اسرائیلی حکومت کے اہداف میں شامل قرار دیا۔تاہم، آبادی کے تناسب سے ہلاکتوں کا موازنہ حملے کے اثرات کو سمجھانے کا ایک طریقہ ہے؛ یہ مختلف واقعات کے تاریخی، سیاسی اور انسانی تناظر کو مکمل طور پر ایک جیسا نہیں بناتا۔