بالی ووڈ سپر اسٹار سلمان خان ایک بار پھر لارنس بشنوئی گینگ سے منسوب مبینہ دھمکیوں کے حوالے سے خبروں میں آگئے ہیں۔
اداکار ٹائیگر شروف پر فائرنگ کے واقعے کی ذمہ داری قبول کرنے سے متعلق سوشل میڈیا پر سامنے آنے والے دعوے کے بعد ممبئی فلم انڈسٹری سے وابستہ شخصیات کی سکیورٹی کے حوالے سے بھی سوالات اٹھنے لگے ہیں۔بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق اتوار، 19 اکتوبر کو ممبئی کے علاقے جوہو میں اداکار ٹائیگر شروف پر فائرنگ کا واقعہ پیش آیا۔ رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ لارنس بشنوئی گینگ سے منسوب ایک پیغام میں اس واقعے کی ذمہ داری قبول کی گئی ہے۔ تاہم اس دعوے اور واقعے سے متعلق تفصیلات کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے۔
سوشل میڈیا پر مبینہ پیغام، ٹائیگر شروف کو پہلے خبردار کرنے کا دعویٰ
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق گینگ کے مبینہ نمائندے انیل پنڈت نے سوشل میڈیا پر ایک پیغام جاری کیا، جس میں انیل پنڈت اور ہرمن سندھو کی جانب سے واقعے کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا گیا۔مبینہ پیغام میں کہا گیا کہ ٹائیگر شروف کو پہلے فون کے ذریعے خبردار کیا گیا تھا، تاہم انتباہ کو سنجیدگی سے نہ لینے کے بعد فائرنگ کے ذریعے پیغام دینے کا دعویٰ کیا گیا۔اس پیغام میں مبینہ طور پر بالی ووڈ کی ان شخصیات کو بھی دھمکایا گیا جو گینگ کے مطالبات تسلیم نہیں کرتیں یا سلمان خان کے ساتھ کام کرتی ہیں۔ مزید یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ دوسرے گروہوں سے تعلق رکھنے والے افراد اگر بشنوئی گینگ کا نام استعمال کرکے شہرت حاصل کرنے کی کوشش کریں گے تو انہیں بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔تاہم کسی گروہ کی جانب سے سوشل میڈیا پر ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ بذات خود اس کی تصدیق نہیں کرتا۔ واقعے کے اصل محرکات اور مبینہ حملہ آوروں سے متعلق حتمی معلومات کے لیے متعلقہ حکام کی تصدیق اہم ہے۔
سلمان خان اور لارنس بشنوئی گینگ کے درمیان تنازع کیوں شروع ہوا؟
سلمان خان اور لارنس بشنوئی گینگ سے منسوب تنازع کئی برسوں سے بھارتی میڈیا میں زیر بحث ہے۔ اس تنازع کی جڑیں 1998 میں کالے ہرن کے شکار کے معاملے سے جوڑی جاتی ہیں، جس پر بشنوئی برادری نے تحفظات کا اظہار کیا تھا۔رپورٹس کے مطابق اس معاملے کے بعد سلمان خان کو مختلف اوقات میں دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ ان واقعات کے باعث اداکار کی سکیورٹی میں اضافے اور ان کی رہائش گاہ کے اطراف حفاظتی انتظامات سے متعلق خبریں بھی سامنے آتی رہی ہیں۔بشنوئی برادری کالے ہرن کو مذہبی اور ثقافتی اہمیت دیتی ہے، اسی لیے شکار کا یہ معاملہ طویل عرصے سے تنازع کا باعث بنا ہوا ہے۔ تاہم کسی بھی دھمکی یا تشدد کے واقعے کی ذمہ داری اور اس کے محرکات کا تعین شواہد اور تحقیقات کی بنیاد پر ہی کیا جا سکتا ہے۔
سلمان خان کے ساتھ کام کرنے والی شخصیات کو بھی مبینہ دھمکیاں
رپورٹس میں سامنے آنے والے مبینہ پیغام میں سلمان خان کے ساتھ کام کرنے والی فلمی شخصیات کو بھی خبردار کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ اس پیش رفت نے بالی ووڈ میں فنکاروں، فلم سازوں اور دیگر متعلقہ افراد کے تحفظ سے متعلق خدشات کو دوبارہ نمایاں کر دیا ہے۔فلم انڈسٹری میں بڑے ستاروں کے ساتھ کام کرنے والے افراد کو مبینہ طور پر دھمکیاں ملنے کی اطلاعات کے بعد سکیورٹی انتظامات اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے کردار پر بھی توجہ مرکوز ہو گئی ہے۔تاہم ان دھمکیوں کی صداقت، ان کے پس منظر اور ممکنہ اہداف سے متعلق تفصیلات کی تصدیق متعلقہ حکام کے بیانات اور تحقیقات سے ہی ہو سکے گی۔
بالی ووڈ شخصیات کی سکیورٹی پھر زیر بحث
ٹائیگر شروف پر فائرنگ کے واقعے اور بشنوئی گینگ سے منسوب مبینہ پیغام کے بعد بالی ووڈ شخصیات کی سکیورٹی ایک بار پھر اہم موضوع بن گئی ہے۔ ایسے واقعات میں پولیس کی تحقیقات، مشتبہ افراد کی شناخت اور ممکنہ خطرات کا جائزہ لینا اہم سمجھا جاتا ہے۔