لاہور (خصوصی رپورٹ)لاہور کی سڑکوں کا لیول آج تک کسی ادارے نے طے نہیں کیا۔ تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ یہ طے ہی نہیں کیا گیا کہ شہر کی کس سڑک کا کیا معیار ہونا چاہیے۔ ایل ڈی اے، ٹیپا اور ہا ئوسنگ ڈیپارٹمنٹ نے ابتک نہ پلنتھ کی کوئی سٹڈی کی اور نہ ہی گرا ئونڈ لیول پر کسی اصول کو بنیاد بنایا۔سیکرٹری ہا ئوسنگ نے حال ہی میں لاہور کی 1572 کلومیٹر پرائمری سڑکوں کو ایک ہی لیول پر لانے کا حکم دیا مگر عملی طور پر اس فیصلے پر عمل سوالیہ نشان بن گیا۔ متعلقہ ادارے اس حکم پر تاحال غیر یقینی کا شکار ہیں۔ کمیٹی کو15روز میں اپنی سفارشات دینی تھیں، ڈیڈ لائن گزرنے کے باوجود کوئی پیشرفت سامنے نہ آ سکی۔تحقیقات یہ بھی بتاتی ہیں کہ سڑکوں کی تعمیر میں نہ یکسانیت رکھی گئی اور نہ ہی کسی سائنسی اصول کو مدنظر رکھا گیا۔ 2013 میں لاہور ہائیکورٹ نے بھی حکم دیا تھا کہ سڑک پر سڑک نہ بنائی جائے، مگر اس فیصلے پر بھی عمل نہ ہو سکا۔گزشتہ10برسوں میں ایل ڈی اے اور ٹیپا نے بارہا سڑک پر نئی سڑک بنادی۔ بغیر ملنگ کیے گلیاں کارپٹ کر دی گئیں اور پرانی سطح کو مکمل نظر انداز کیا گیا۔ صرف کینال روڈ پر 10برس میں 14 بار اسفالٹ کا کام کیا گیا، وہ بھی بغیر سائنسی بنیاد کے، اب بھی کینال روڈ پر اسفالٹ کا کام پرانی سطح ہٹائے بغیر جاری ہے۔فیروزپور روڈ پر 22 مرتبہ نئی تہہ ڈالی گئی۔ذرائع کے مطابق گرا ئونڈ لیول کے واضح تعین کے بغیر ہر ادارہ مرضی سے سڑکوں کی تعمیر کرتا رہا ہے، جس سے شہر کا انفراسٹرکچر بگڑ کر تباہی کے دہانے پر پہنچ گیا ہے۔