بلوچستان میں قومی سلامتی اور امن و امان کے معاملات کو سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر دیکھا جاتا ہے، میر سرفراز بگٹی

بلوچستان میں قومی سلامتی اور امن و امان کے معاملات کو سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر دیکھا جاتا ہے، میر سرفراز بگٹی

کوئٹہ: وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اختلافِ رائے جمہوریت کا حسن ہے، تاہم ریاست کو سیاسی مفادات کی نذر نہیں کرنا چاہیے۔

 انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمٰن کے ساتھ ان کے ذاتی تعلقات عزت و احترام پر مبنی ہیں اور وہ مولانا کی سیاسی بصیرت اور تجربے کا احترام کرتے ہیں۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ خیبرپختونخوا اور بلوچستان کی حکومتوں کا موازنہ کرتے وقت زمینی حقائق کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔ دہشت گردی، قومی سلامتی اور قومی و عسکری قیادت سے متعلق گفتگو میں ذمہ داری کا مظاہرہ ناگزیر ہے۔انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمٰن اور ان کی جماعت بھی ماضی میں دہشت گردی کا نشانہ بنتے رہے ہیں۔ اس لیے انہیں توقع ہے کہ مولانا دہشت گردی کے خلاف ریاستی کوششوں اور سیکیورٹی فورسز کی قربانیوں کو بھی مدنظر رکھیں گے۔

بلوچستان میں دہشت گردی کے خلاف حکومت اور اپوزیشن کا مشترکہ مؤقف
میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان میں سیاسی اختلافات کے باوجود دہشت گردی کے خلاف حکومت اور اپوزیشن کا مؤقف مشترکہ ہے۔ ان کے مطابق بلوچستان اسمبلی میں دہشت گردی کے خلاف حکمت عملی اور اہم فیصلوں کے معاملے پر اپوزیشن کو اعتماد میں لیا جاتا ہے، جبکہ صوبائی حکومت تمام پارلیمانی جماعتوں کو ساتھ لے کر چلنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔وزیراعلیٰ نے اپنے بیان میں قائد حزب اختلاف میر یونس عزیز زہری کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ مختلف مواقع پر حکومتی طرزِ عمل کا اعتراف کر چکے ہیں۔ انہوں نے بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) کے پارلیمانی لیڈر میر جہانزیب مینگل کی حالیہ تقریر کو بھی سیاسی قیادت کی ذمہ داری کے اظہار سے تعبیر کیا۔سرفراز بگٹی کے مطابق جمعیت علمائے اسلام، نیشنل پارٹی، بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) اور دیگر پارلیمانی جماعتیں دہشت گردی کے خلاف مشترکہ مؤقف رکھتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبے میں امن و امان اور قومی سلامتی کے معاملات کو سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر دیکھا جاتا ہے۔

سیکیورٹی فورسز کی قربانیوں کا اعتراف ضروری ہے، وزیراعلیٰ بلوچستان
وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ محض بیانات تک محدود نہیں بلکہ ریاست اور پوری قوم کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ پاکستان دہشت گردی کے سنگین خطرے کے خاتمے کے لیے مسلسل جدوجہد کر رہا ہے، جبکہ پاک فوج سمیت تمام سیکیورٹی اداروں کے افسران اور جوان اس جنگ میں قربانیاں دے رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہر شہادت کے پیچھے ایک خاندان کا دکھ، والدین کی جدائی اور ادھورے خوابوں کی داستان ہوتی ہے۔ سیکیورٹی فورسز کی قربانیاں اس بات کا تقاضا کرتی ہیں کہ قومی سلامتی سے متعلق حساس معاملات پر ذمہ دارانہ گفتگو کی جائے۔ان کے مطابق بلوچستان کی سیاسی قیادت دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنی ذمہ داری اور کردار سے آگاہ ہے، اس لیے اس معاملے کو سیاسی وابستگیوں اور جماعتی اختلافات سے بالاتر ہو کر دیکھنے کی ضرورت ہے۔

پائیدار امن کے بغیر ترقی ممکن نہیں، سرفراز بگٹی
میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ پائیدار امن کے بغیر ترقی، عوامی فلاح اور معاشی استحکام کے اہداف حاصل نہیں کیے جا سکتے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ کو سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر قومی ذمہ داری کے طور پر دیکھنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ حکومتوں کی کارکردگی کا جائزہ محض بیانات کے بجائے حقائق، عملی اقدامات اور عوام کو فراہم کیے گئے نتائج کی بنیاد پر لیا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق قومی سلامتی کے حساس معاملات پر غیر واضح مؤقف اختیار کرنا یا زمینی حقائق کو نظرانداز کرنا قومی مفاد کے لیے نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے۔وزیراعلیٰ بلوچستان نے واضح کیا کہ سیاسی جماعتوں اور حکومتوں پر تنقید کرنا جمہوری حق ہے، تاہم قومی سلامتی کے معاملات پر گفتگو کرتے ہوئے ذمہ داری کا مظاہرہ ضروری ہے۔ دہشت گردی سے متاثرہ خاندانوں کے دکھ اور سیکیورٹی فورسز کی قربانیوں کو سیاسی بحث میں نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے۔

ریاستی اداروں سے تعاون اور قومی یکجہتی پر زور
وزیراعلیٰ بلوچستان نے اپنے بیان میں قومی یکجہتی، ذمہ دارانہ سیاسی گفتگو اور ریاستی اداروں کے ساتھ تعاون کو پائیدار امن کے لیے ضروری قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی جیسے سنگین چیلنج سے نمٹنے کے لیے سیاسی قیادت اور ریاستی اداروں کے درمیان تعاون اہم ہے۔انہوں نے ایک بار پھر اپنے مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ اختلافِ رائے جمہوریت کا حسن ہے، لیکن قومی سلامتی اور ریاستی مفادات کو سیاسی اختلافات کی بھینٹ نہیں چڑھانا چاہیے۔