سیالکوٹ: وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ ملک کے لیے جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے جوانوں کی قربانیوں کو رائیگاں نہیں جانے دیا جائے گا اور آنے والے دنوں میں نئی تاریخ رقم ہوگی۔
انہوں نے سیاسی قیادت پر زور دیا کہ اختلافات کے باوجود اصولوں کی بنیاد پر تعلقات استوار کیے جائیں اور سیاسی مفادات کو قومی معاملات پر ترجیح نہ دی جائے۔سیالکوٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے مولانا فضل الرحمٰن سے متعلق سیاسی بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ماضی میں بعض حلقے انہیں مولانا کہنے پر اعتراض کرتے تھے، جبکہ اب ان کے ساتھ کھڑے ہونے کو خوش قسمتی قرار دیا جا رہا ہے۔
سیاسی تعلقات اصولوں کی بنیاد پر ہونے چاہییں، خواجہ آصف
وزیر دفاع نے کہا کہ سیاسی منظرنامے میں کل کے مخالفین آج کے اتحادی بن سکتے ہیں، لیکن ایسے تعلقات اصولوں کی بنیاد پر ہونے چاہییں، محض سیاسی مفادات کے لیے نہیں۔انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کو اپنے مؤقف اور طرزِ عمل میں سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا چاہیے تاکہ قومی معاملات پر اتفاقِ رائے پیدا ہوسکے۔
مذاکرات کے لیے محسن نقوی کی کوششوں کا ذکر
خواجہ آصف نے کہا کہ وزیر داخلہ محسن نقوی نے اپوزیشن کے ساتھ مذاکرات کو کامیاب بنانے کے لیے بھرپور کوششیں کیں۔ان کا کہنا تھا کہ کوشش ہونی چاہیے کہ خیبر پختونخوا میں حالات بہتری کی طرف جائیں اور سیاسی کشیدگی میں کمی آئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سیاست دان بعض اوقات اپنے طرزِ عمل سے اپنی عزت اور تکریم کو خود نقصان پہنچاتے ہیں۔
پی ٹی آئی پر شہدا کے جنازوں میں شرکت نہ کرنے کا الزام
وزیر دفاع نے پاکستان تحریک انصاف پر تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ پارٹی کے رہنما اور کارکن خیبر پختونخوا میں شہدا کے جنازوں میں شرکت نہیں کرتے، لیکن اسلام آباد میں احتجاج اور دھرنوں کے لیے نکل آتے ہیں۔خواجہ آصف کے یہ بیانات سیاسی جماعتوں کے درمیان جاری اختلافات کی عکاسی کرتے ہیں۔ تاہم اس حوالے سے پی ٹی آئی کا مؤقف فراہم کردہ بیان میں شامل نہیں ہے۔
خیبر پختونخوا کے مستقبل سے متعلق سخت مؤقف
خواجہ آصف نے کہا کہ سیاسی مہم جوئی کرنے والوں کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا اور خیبر پختونخوا کو دوبارہ کسی ایسے شخص کے حوالے نہیں کیا جائے گا جس پر عوامی وسائل کے غلط استعمال کے الزامات ہوں۔انہوں نے صوبے میں امن و امان کی صورتِ حال بہتر بنانے اور شہدا کی قربانیوں کو یاد رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔وزیر دفاع کی گفتگو میں سیاسی اختلافات، اپوزیشن کے ساتھ مذاکرات اور خیبر پختونخوا کی صورتِ حال نمایاں موضوعات رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ قومی سلامتی اور امن کے معاملات پر سنجیدگی سے کام کرنا ضروری ہے، جبکہ سیاسی سرگرمیاں اصولوں اور ذمہ داری کے دائرے میں رہنی چاہییں۔