امریکی فوج نے مشرقی بحرالکاہل میں ایک اور مبینہ منشیات کی کشتی پر حملہ کیا ہے جس کے نتیجے میں 3 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔
اس واقعہ کے مطابق، پینٹاگون نے ایک بیان جاری کیا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ یہ کشتی منشیات کی اسمگلنگ کے لیے استعمال کی جا رہی تھی، اور اسے بین الاقوامی پانیوں میں نشانہ بنایا گیا۔بیان کے مطابق، امریکی فوج نے یہ کارروائی اس وقت کی جب کشتی منشیات کے اسگمل (سمگلنگ مواد) سے بھرپور تھی۔ حملہ لڑاکا طیاروں، ڈرونز اور گن شپ ہیلی کاپٹروں کے ذریعے کیا گیا، اور اس کا مقصد منشیات کی اسمگلنگ کو روکنا اور اس منظم غیر قانونی سرگرمی کو کم کرنا ہے۔یہ واقعہ ستمبر 2023 سے لے کر اب تک کا 21واں حملہ ہے، جسے امریکی فوج نے منشیات کی اسمگلنگ کو روکنے کے لیے ایک جائز اور ضروری اقدام قرار دیا ہے۔
امریکی میڈیا کے مطابق، اس حملوں میں ہلاک ہونے والوں کی مجموعی تعداد 83 ہوگئی ہے۔امریکی حکام کا کہنا ہے کہ منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف یہ کارروائیاں جاری رہیں گی تاکہ منشیات کی سمگلنگ کو روک کر ملک میں منشیات کے استعمال اور اس کے منفی اثرات کو کم کیا جا سکے۔ یہ حملے علاقائی سطح پر امریکی حکمت عملی کا حصہ ہیں تاکہ سمندری راستوں سے منشیات کی آمد کو محدود کیا جا سکے۔