پشاور اسکول سانحے پر عوامی غم و غصہ، سابق صوبائی حکومت تنقید کی زد میں

پشاور اسکول سانحے پر عوامی غم و غصہ، سابق صوبائی حکومت تنقید کی زد میں

پشاور کے دیر کالونی میں اسکول کی چھت گرنے سے بچوں کی شہادت کے افسوسناک واقعے پر شہریوں اور اساتذہ نے گہرے دکھ اور غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے تعلیمی اداروں کی عمارتوں کی حالت، بچوں کی حفاظت اور حکومتی نگرانی کے نظام پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔

شہریوں اور اساتذہ کا کہنا ہے کہ تعلیمی اداروں میں بچوں کے لیے محفوظ ماحول فراہم کرنا متعلقہ حکام کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ ان کے مطابق اسکولوں کی عمارتوں کی باقاعدہ جانچ پڑتال اور ضروری مرمت کے مؤثر انتظامات نہایت اہم ہیں تاکہ مستقبل میں ایسے افسوسناک واقعات سے بچا جا سکے۔

ریسکیو اداروں کی کارروائی کو سراہا گیا
واقعے پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے شہریوں نے کہا کہ ریسکیو اہلکاروں، پولیس اور پاک فوج کی بروقت کارروائی سے متعدد بچوں کی جانیں بچانے میں مدد ملی۔ انہوں نے امدادی کارروائیوں میں حصہ لینے والے اہلکاروں کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ حادثات کے دوران فوری امداد متاثرین کی جان بچانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔اس سانحے نے بچوں کی حفاظت کے لیے ہنگامی ردعمل، امدادی سہولیات اور اسکولوں میں حفاظتی انتظامات کی ضرورت کو ایک بار پھر نمایاں کردیا ہے۔

سابق صوبائی حکومت کی تعلیمی پالیسیوں پر تنقید
شہریوں نے پاکستان تحریک انصاف کی سابق صوبائی حکومت کے دورِ اقتدار پر تنقید کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی کے 13 سالہ دور میں علاقے میں سرکاری اسکولوں کی تعمیر اور تعلیمی سہولیات کی فراہمی پر خاطر خواہ توجہ نہیں دی گئی۔شہریوں اور اساتذہ کے مطابق سابق حکومت نے تعلیم کے شعبے میں بہتری کے متعدد دعوے کیے، تاہم اسکولوں کی عمارتوں کی حفاظت، مؤثر نگرانی اور حفاظتی ضوابط پر عمل درآمد کے حوالے سے مزید اقدامات کی ضرورت تھی۔ان کا کہنا تھا کہ تعلیمی اداروں کی حالت کا باقاعدہ جائزہ لینے، عمارتوں کی مرمت اور طلبہ کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے مربوط نظام ہونا چاہیے۔ تاہم سابق حکومت کے خلاف ان الزامات اور علاقے میں اسکولوں کی تعمیر سے متعلق دعوؤں کی سرکاری ریکارڈ سے تصدیق ضروری ہے۔

تعلیمی اداروں کی حفاظت پر توجہ دینے کا مطالبہ
پشاور کے اس افسوسناک واقعے نے اسکولوں کی عمارتوں کی مضبوطی، طلبہ کے تحفظ اور تعلیمی اداروں کی نگرانی کے نظام سے متعلق اہم سوالات پیدا کردیے ہیں۔شہریوں اور اساتذہ نے مطالبہ کیا کہ اسکولوں کی عمارتوں کا تکنیکی معائنہ کرایا جائے، خطرناک عمارتوں کی فوری مرمت یا متبادل انتظام کیا جائے اور حفاظتی معیارات پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔انہوں نے زور دیا کہ بچوں کی جان و سلامتی کو ہر صورت ترجیح دی جانی چاہیے اور کسی بھی تعلیمی ادارے میں غفلت سامنے آنے پر ذمہ داری کا تعین کرکے مناسب کارروائی کی جانی چاہیے۔