گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کی کوئی بنیاد نہیں، بیرسٹر گوہر

گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کی کوئی بنیاد نہیں، بیرسٹر گوہر

چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا ہے کہ گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کی کوئی بنیاد نہیں، پشاور ہائیکورٹ لارجر بینچ تشکیل دے کر معاملے کا جائزہ لے اور جلد فیصلہ سنائے۔

اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ صوبے میں گورنر راج یا ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق معاملے کو آئینی اور قانونی دائرے میں رہتے ہوئے دیکھا جانا چاہیے۔ انہوں نے پشاور ہائیکورٹ سے اپیل کی کہ لارجر بینچ تشکیل دے کر معاملے کی سماعت کی جائے اور جلد فیصلہ کیا جائے۔

تعلیمی اداروں اور اسپتالوں میں اصلاحات کی ضرورت ہے
بیرسٹر گوہر نے اسکولوں، کالجوں، یونیورسٹیوں اور اسپتالوں میں اصلاحات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بچوں کی شہادتوں اور زخمی ہونے کے واقعے پر انہیں شدید افسوس ہے۔انہوں نے کہا کہ سانحے میں جاں بحق ہونے والے بچوں کے والدین کو مناسب معاوضہ دیا جانا چاہیے، جبکہ زخمی بچوں کے علاج معالجے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔چیئرمین پی ٹی آئی کے مطابق انہیں تاحال زخمی بچوں کے علاج معالجے کے حوالے سے مکمل معلومات نہیں مل سکیں۔ انہوں نے متاثرہ بچوں کو بہتر طبی سہولتیں فراہم کرنے اور ان کے خاندانوں کی مدد کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

ارکان قومی اسمبلی کی گرفتاری پر تحفظات
بیرسٹر گوہر نے گفتگو کے دوران ارکان قومی اسمبلی کی گرفتاری پر بھی تحفظات کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ تین ارکان قومی اسمبلی کے پروڈکشن آرڈرز جاری ہوئے ہیں، تاہم ان ارکان کو گرفتار ہی نہیں کیا جانا چاہیے تھا۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ ارکان قومی اسمبلی کی حراست سے متعلق احکامات ختم کیے جائیں اور انہیں واپس لایا جائے۔

جلد فیصلے اور فوری اقدامات کا مطالبہ
چیئرمین پی ٹی آئی نے اپنے بیان میں عدالتی معاملے پر جلد فیصلے، زخمی بچوں کے علاج اور متاثرہ خاندانوں کو معاوضے کی فراہمی پر زور دیا۔ ان کے مطابق تعلیمی اداروں اور اسپتالوں میں اصلاحات کے ذریعے ایسے واقعات سے نمٹنے اور عوام کو بہتر سہولتیں فراہم کرنے کے لیے مؤثر اقدامات ضروری ہیں۔بیرسٹر گوہر کے بیان میں ایک جانب گورنر راج اور ایمرجنسی کے ممکنہ نفاذ پر اعتراض کیا گیا، جبکہ دوسری جانب متاثرہ بچوں کے خاندانوں کی مالی معاونت، طبی سہولتوں اور ارکان قومی اسمبلی کی حراست کے معاملے کو بھی اٹھایا گیا۔