مئی 2025 کے معرکہ حق اور آپریشن بنیان المرصوص میں ان طیاروں کی کارکردگی نمایاں رہی، AVIC کو چین کی ٹیکنالوجی اور پاک چین اسٹریٹجک شراکت داری کی علامت قرار دیا
صدر آصف علی زرداری کا چین کے ایوی ایشن انڈسٹری کارپوریشن (AVIC) کے ایئرکرافٹ کمپلیکس کا تاریخی دورہ،صدر آصف علی زرداری نے انجینئرز اور سائنسدانوں سے ملاقات کی
ہائی اسپیڈ ٹرین کے ذریعے سفر شاہکار قرار دیا۔ صدر نے ہائی سپیڈ ٹرین میں چینگدو سے میان یانگ کا سفر نصف گھنٹے میں طے کیا،پاکستانی سفیر خلیل ہاشمی، چینی سفیر بھی صدر کے ہمراہ تھے
بیجنگ (آن لائن)صدر آصف علی زرداری نے چین کے ایوی ایشن انڈسٹری کارپوریشن (AVIC) کے ایئرکرافٹ کمپلیکس کا تاریخی دورہ کیا۔یہ دورہ بھارت کے ساتھ جنگ بندی کے 128ویں دن ہوا۔صدر مملکت مسلح افواج کے سپریم کمانڈر کی حیثیت سے AVIC کمپلیکس پہنچے۔صدر نے پورے کمپلیکس کا دورہ کیا جہاں جے-10 سی طیارہ تیار کیا جاتا ہے۔جے-10 سی نے معرکہ حق میں کلیدی کردار ادا کیا۔صدر آصف علی زرداری نے انجینئرز اور سائنسدانوں سے ملاقات کی۔صدر کو جے-10، جے ایف-17 اور جے-20 اسٹیلتھ فائٹرز پر بریفنگ دی گئی۔صدر کو ڈرونز، خودکار یونٹس اور ملٹی ڈومین آپریشنز کے بارے میں بھی بتایا گیا۔صدرپاکستان نے کہا کہ جے-10 اور جے ایف-17 نے پاک فضائیہ کو مضبوط بنایا، مئی 2025 کے معرکہ حق اور آپریشن بنیان المرصوص میں ان طیاروں کی کارکردگی نمایاں رہی،صدر نے AVIC کو چین کی ٹیکنالوجی اور پاک-چین اسٹریٹجک شراکت داری کی علامت قرار دیا۔صدر زرداری پہلے غیر ملکی سربراہ ہیں جنہوں نے اس کمپلیکس کا دورہ کیا۔چیئرمین بلاول بھٹو، فرسٹ لیڈی آصفہ بھٹو اورسینیٹر سلیم مانڈوی والا بھی صدر کے ہمراہ تھے۔پاکستانی سفیر خلیل ہاشمی اور چینی سفیر جیانگ زائی ڈونگ بھی صدر مملکت کے ہمراہ تھے۔پاکستان چین کے ساتھ دفاعی پیداوار اور ہوا بازی میں تعاون بڑھانے کا عزم رکھتا ہے۔صدر مملکت آصف زرداری نے کہا ہے کہ آلودگی سے پاک الیکٹرک ٹرین انجینئرنگ کا شاہکار، چینی جدت پسندی پاکستان اور دیگر ملکوں کیلئے سبق آموز ہے۔صدر آصف علی زرداری نے چین کے دورے کے دوران زلزلہ وارننگ سسٹم سے لیس ہائی اسپیڈ ٹرین کے ذریعے سفر کیا، اور اسے شاہکار قرار دیا۔ صدر زرداری نے چین میں زلزلہ وارننگ سسٹم سے لیس ہائی اسپیڈ ٹرین میں چینگدو سے میان یانگ کا سفر نصف گھنٹے میں طے کیا، اس دوران انھیں ٹرین کے آپریشن، سروس اور سیفٹی سسٹمز پر بریفنگ دی گئی۔رپورٹس کے مطابق چین کے پاس دنیا کا سب سے بڑا ہائی اسپیڈ ریل نیٹ ورک ہے، جو 45 ہزار کلومیٹر ٹریک پر مشتمل ہے اور سالانہ دو ارب سے زائد مسافر اس نیٹ ورک سے سفر کرتے ہیں۔چین کی ٹرینیں 350 کلومیٹر فی گھنٹہ تک کی رفتار سے چلتی ہیں، چین نے ایک معیاری اور یکساں نیٹ ورک قائم کیا ہے جو جدید کنیکٹیویٹی کی مثال ہے، صدر زرداری نے آلودگی سے پاک الیکٹرک ٹرین اور زلزلہ وارننگ سسٹم کو انجینئرنگ کا شاہکار قرار دیا۔ صدر کا کہنا تھا کہ چین کی جدت پسندی پاکستان سمیت دیگر ملکوں کے لیے سبق آموز ہے۔اس موقع پر پاکستانی سفیر خلیل ہاشمی، چینی سفیر جیانگ زائی ڈونگ اور سینیٹر سلیم مانڈوی والا بھی صدر کے ہمراہ تھے۔ چینی سفیر جیانگ زائی ڈونگ پورے دورے میں صدر مملکت کے ہمراہ ہیں، جب کہ میان یانگ پہنچنے پر نائب میئر وو ہا نے صدر مملکت کا استقبال کیا۔