سمیع اللہ ملک(دوسری قسط)
اگست2021میں کابل پرطالبان کادوبارہ قبضہ امریکی تاریخ کے سب سے تکلیف دہ سیاسی مناظرمیں شمارہوا۔کابل ہوائی اڈے کی تصاویرنے ویتنام کی یادتازہ کردی۔یہ کہنا تاریخی طور پرزیادہ درست ہوگاکہ امریکاافغانستان میں ہرعسکری معرکہ نہیں ہارا؛لیکن وہ اس سیاسی نظام کومستقل بنیادوں پرقائم رکھنے میں ناکام رہاجس کیلئے بیس برس،بے پناہ وسائل اورہزاروں جانیں صرف کی گئی تھیں۔یہ عسکری شکست سے کہیں بڑھ کر سیاسی منصوبے کی شکست تھی۔ گویاافغانستان:بیس برس، دو کھرب ڈالرسے زیادہ اخراجات اور امریکی بدترین شکست کاایک نامکمل خواب تاریک کاحصہ بن گیا۔
2003میں امریکااوراس کے اتحادیوں نے عراق پرحملہ کیا۔بنیادی جوازیہ پیش کیاگیا کہ صدام حسین کے پاس وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار موجود ہیں۔بغدادچند ہفتوں میں گرگیا۔صدام حسین کانظام ختم ہوگیا۔لیکن وہ ہتھیار،جنہیں جنگ کا مرکزی جوازبنایاگیاتھا،اس شکل میں دریافت نہ ہوئے جس کادعوی کیاگیاتھا۔یہاں سے اخلاقی اورسیاسی بحران نے جنم لیا۔عراقی فوج اوربعث پارٹی کے وسیع ریاستی ڈھانچے کوتوڑنے سے لاکھوں افراداچانک اقتداراورروزگارسے باہرہوگئے۔ فرقہ وارانہ کشیدگی بڑھی، بغاوت نے جنم لیا،القاعدہ اِن عراق نمودارہوئی اوربعدکے برسوں میں انہی بحرانوں کی خاک سے داعش جیسی تنظیم اٹھی۔
ابوغریب جیل کی تصاویرنے امریکاکی اخلاقی ساکھ کوشدید نقصان پہنچایا۔عراق کی جنگ اس تضادکی شاید سب سے نمایاں مثال ہے جس میں ایک سپر پاورنے دشمن کی باقاعدہ فوج کوچندہفتوں میں شکست دی،لیکن وہ سیاسی خلاجواس فتح نے پیدا کیا،برسوں تک پرنہ کیاجاسکا۔گویاقصر فتح ہوا،سلطنت کانقشہ بدل گیا،مگرکوچہ وبازارمیں امن نہ اترسکا۔تاریخ کا
فیصلہ توپ کی آخری گھن گرج پرنہیں ہوتا؛وہ اس دن ہوتاہے جب یہ دیکھاجاتاہے کہ جنگ کے بعدانسان کی زندگی پہلے سے زیادہ محفوظ ہوئی یا نہیں۔اہم سوال یہ ہے کہ عراق : بغداد فتح ہوا،مگرامن کہاں تھا؟
1991کی خلیجی جنگ اس عمومی داستان میں ایک اہم استثناپیش کرتی ہے۔صدام حسین نے کویت پرقبضہ کیاتھا۔امریکاکی قیادت میں ایک وسیع بین الاقوامی اتحاد تشکیل پایا۔ مقصد نسبتامحدود اورواضح تھا:عراقی افواج کوکویت سے نکالنا۔آپریشن ڈیزرٹ اسٹارم نے مختصرعرصے میں یہ مقصدحاصل کرلیا۔امریکی قیادت نے بغداد پرمستقل قبضہ کرنے یا پور اعراقی سیاسی نظام بدلنے کی کوشش نہیں کی۔یہی فرق قابلِ غورہے۔جب جنگ کامقصدواضح،محدود اورقابلِ پیمائش ہو؛جب بین الاقوامی حمایت وسیع ہو؛اورجب عسکری کامیابی کے بعدسیاسی منصوبہ بیحد پھیل نہ جائے توطاقت نسبتامؤثرثابت ہوسکتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ خلیجی جنگ1991:محدودمقصد،واضح کامیابی کے باوجودناکامی تصورکیاجاتاہے۔ 2003کاعراق اسی ملک میں ایک بالکل مختلف نتیجہ سامنے لایا،کیونکہ مقصدمحض کویت آزادکرانانہیں بلکہ ایک پورا سیاسی نظام بدلناتھا۔
1999میں نیٹونے یوگوسلاویہ کے خلاف تقریباگیارہ ہفتے فضائی کارروائیاں کیں۔مقصدکوسووومیں سرب افواج کی کارروائیاں رکواناتھا۔آخرکارسرب افواج کوسوووسے نکلیں اور بین الاقوامی انتظام قائم ہوا۔نیٹواسے کامیابی قراردیتا ہے،اور اس زاویے سے دیکھاجائے تواس کے بنیادی عسکری وسیاسی مقاصدبڑی حد تک حاصل ہوئے۔تاہم جنگ کے قانونی جواز، سلامتی کونسل کی واضح اجازت نہ ہونے،بمباری کے انسانی اثرات اوربعدکے سیاسی بندوبست پرآج تک بحث جاری ہے۔اسی لیے تاریخ کونعروں کے بجائے میزان درکارہے۔ہرپیچیدہ جنگ کوصر ف فتح شکست کے ایک لفظ میں مقیدکرناکبھی کبھی خودتاریخ کے ساتھ ناانصافی بن جاتاہے۔یہی وجہ ہے کہ آج تک یہ فیصلہ نہیں ہوپایا کہ کوسووو:فتح تھی یاایک پیچیدہ سمجھوتا؟
امریکا کیلئے طاقت کا آسان امتحان گریناڈااورپانامہ کے واقعات ہیں۔1983میں امریکانے کیریبین کے چھوٹے جزیرے گریناڈا میں فوجی کارروائی کی۔امریکی حکومت نے اپنے شہریوں کی حفاظت اورخطے میں پیداشدہ سیاسی بحران کواس کے اسباب میں شمارکیا۔چند ہی دنوں میں مزاحمت ختم ہوگئی۔1989میں پانامہ میںآپریشن جسٹ کازکے ذریعے جنرل مینوئل نوریگا کی حکومت ختم کی گئی۔یہ دونوں کارروائیاں عسکری اعتبارسے امریکاکیلئے نسبتا آسان تھیں،کیونکہ مخالفین کے پاس نہ ویتنام جیسی افرادی قوت تھی،نہ افغانستان جیسا جغرافیہ،نہ عراق جیساوسیع ریاستی ڈھانچہ اورنہ بڑی طاقتوں کی براہ راست پشت پنا ہی۔مگریہاں بھی ایک اصول سامنے آتا ہے:طاقت ہمیشہ وہاں سب سے زیادہ مؤثردکھائی دیتی ہے جہاں طاقت کاعدم توازن سب سے زیادہ ہو۔ اصل امتحان وہاں شروع ہوتا ہے جہاں مخالف طاقت محض فوج نہیں بلکہ نظریہ،جغرافیہ،قومیت،مذہب ، تاریخ اورعوامی مزاحمت کامجموعہ بن جائے۔
1982کے بعدلبنان میں امریکی افواج کثیرالقومی امن مشن کاحصہ بنیں۔لیکن لبنان کی خانہ جنگی،اسرائیلی حملے،فلسطینی مسئلہ اورعلاقائی طاقتوں کی رقابت نے صورتحال کوبیحد پیچیدہ بنارکھاتھا۔اکتوبر1983میں بیروت میں امریکی میرین بیرکس پرخودکش بم حملے میں241امریکی فوجی ہلاک ہوئے۔چندماہ بعدامریکی فوج لبنان سے نکل گئی۔گویا بیروت لبنان کی تلخ یاد کایہ واقعہ آنیوالی دہائیوں میں غیرریاستی عسکری تنظیموں کیلئے ایک نفسیاتی حوالہ بن گیا:اگرایک سپرپاورکوناقابلِ برداشت سیاسی قیمت اداکرنے پرمجبورکیا جائے تواسے میدان چھوڑنے پرآمادہ کیاجاسکتاہے۔یہی منطق بعدمیں صومالیہ، عراق اورافغانستان میں مختلف صورتوں میں دیکھی گئی۔
1992میں امریکی افواج انسانی امداد کی فراہمی اورقحط زدہ صومالیہ میں امن قائم کرنے کے وسیع بین الاقوامی منصوبے کے تحت داخل ہوئیں۔لیکن مشن جلدہی مسلح گروہوں کے خلاف کارروائیوں میں تبدیل ہوگیا۔اکتوبر1993میں موغادیشومیں امریکی خصوصی دستوں کی کارروائی شدید لڑائی میں بدل گئی۔امریکی ہیلی کاپٹرگرائے گئے،اٹھارہ امریکی فوجی ہلاک ہوئے اوران کی لاشوں کی تصاویردنیابھرکے ذرائع ابلاغ میں نشر ہوئیں۔واشنگٹن میں سیاسی فضابدل گئی اوراگلے برس امریکی افواج نکل گئیں۔ایک بارپھرمسئلہ یہ نہ تھاکہ امریکاکے پاس مزید لڑنے کی صلاحیت نہیں تھی۔مسئلہ یہ تھاکہ جنگ کی سیاسی قیمت اس کے مقصد سے بڑی ہو گئی تھی۔یہی جدید جمہوری طاقتوں کی ایک بنیادی کمزوری اور خوبی بھی ہے کہ فوج میدان میں لڑتی ہے،مگرجنگ جاری رکھنے کی اجازت بالآخرعوامی رائے اورسیاسی نظام سے ملتی ہے۔موغادیشوصومالیہ کی گلیوں نے طاقت کی حدکی ایک نئی تشریح واضح کردی۔
2011میں عرب بہارکے دوران معمرقذافی کے خلاف بغاوت شروع ہوئی۔نیٹونے فضائی کارروائیاں کیں،جن میں امریکانے اہم کرداراداکیا۔قذافی کی حکومت ختم ہو گئی۔ لیکن اس کے بعدلیبیامستحکم جمہوری ریاست میں تبدیل نہ ہوسکا۔مختلف مسلح گروہ، متوازی حکومتیں،قبائلی کشمکش،خارجی مداخلت اورطویل خانہ جنگی نے ملک کوتقسیم کردیا۔یہ عراق کے تجربے کی ایک اور بازگشت تھی ،حکومت ہٹاناریاست تعمیرکرنے سے کہیں آسان ہے۔ہم طاقت کے بل بوتے پرکسی فوجی مرکزکوتباہ کرسکتے ہیں؛عدالت، پولیس، آئین، سیاسی اعتماداورسماجی مصالحت پیدانہیں کرسکتے۔یہ ادارے بارودکی بوسے نہیں،وقت، رضامندی اورمعاشرتی اعتمادسے بنتے ہیں۔تاہم یہ ثابت ہوگیا کہ لیبیاکی حکومت توگرانے میں کامیاب ہوگئے لیکن ریاست پھربھی بکھرگئی۔
شام کی خانہ جنگی میں امریکانے براہ راست پورے ملک پرقبضے کی کوشش نہیں کی،مگرداعش کیخلاف فضائی کارروائیاں،کرد قیادت میں شامی ڈیموکریٹک فورسزکی حمایت،محدود وجی موجودگی اورشامی حکومت کے خلاف بعض میزائل حملے اس تنازعے میں امریکی کردارکے نمایاں پہلورہے۔داعش کی نام نہادخلافت کاجغرافیائی اقتداربڑی حدتک ختم ہوگیا ، مگر شام کاسیاسی بحران ختم نہیں ہوا۔یہاں روس،ایران،ترکیہ،اسرائیل،خلیجی ممالک،کرد قوتیں،شامی حکومت اورمتعدد مسلح گروہ اپنے اپنے مفادات کے ساتھ موجودرہے۔شام نے ایک مرتبہ پھرثابت کیاکہ محدودجنگ،لامحدودپیچیدگیوں کے باوجودایک جنگ میں ایک دشمن کوشکست دینااورپورے سیاسی مسئلے کوحل کرنا دوجداگانہ چیزیں ہیں۔
امریکی مداخلتوں کی تاریخ صرف باقاعدہ جنگوں تک محدود نہیں بلکہ لاطینی امریکا میں توپوں سے پہلے خفیہ ہاتھوں نے بھی پورازورلگایا ۔1954میں گوئٹے مالامیں صدریعقوب آربینزکی حکومت کے خلاف سی آئی اے کی حمایت یافتہ کارروائی نے حکومت کاتختہ الٹ دیا۔1961میں کیوباکے ’’بے آف پگز‘‘حملے میں امریکاکی حمایت یافتہ جلاوطن کیوبن فورسز فیڈل کاستروکی حکومت گرانے میں ناکام رہیں۔(جاری ہے)