نرس نے مریضہ کو نیند کی حالت میں ایک کے بعد ایک پانچ انجکشن لگا دیئے
لاہور(خصوصی رپورٹ)نرس کے مبینہ غلط انجکشن سے 20 سالہ مریضہ کی حالت غیر، لاہور جنرل ہسپتال انتظامیہ نے مریضہ سے زبردستی سب اچھا کا ویڈیو بیان جاری کرا لیا جس کے بعد مریضہ کے والد نے ہسپتال انتظامیہ کے خلاف آڈیو بیان بھی جاری کردیا،متاثرہ مریضہ اشمل کے شوہر کاشف کے مطابق اشمل کے ہاں کچھ روز قبل بچے کی پیدائش ہوئی جس کے بعد اسے گائنی فرسٹ فلور پر منتقل کیا گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ سٹاف نرس نے مریضہ کو نیند کی حالت میں ایک کے بعد ایک پانچ انجکشن لگا دیئے، جس کے فوری بعد مریضہ کے منہ سے جھاگ نکلنا شروع ہو گیا اور اس کی حالت تشویشناک ہو گئی۔ اہل خانہ کے مطابق مریضہ کی حالت بگڑنے پر اسے فوری طور پر سی ٹی سکین کے لیے منتقل کیا گیا، مریضہ کے والد منیر نے بھی اپنے بیان میں دعویٰ کیا کہ ان کی بیٹی کو سوتی حالت میں پانچ انجکشن لگائے گئے، جس کے بعد اس کی طبیعت اچانک بگڑ گئی۔دوسری جانب معاملے نے اس وقت نیا رخ اختیار کر لیا جب یہ الزام سامنے آیا کہ ہسپتال انتظامیہ نے مریضہ سے زبردستی ویڈیو بیان ریکارڈ کرایا۔ ذرائع کے مطابق گائنی تھیٹر میں جا کر مریضہ کا بیان لیا گیا جبکہ والد کا کہنا ہے کہ اس عمل کے وقت انہیں اعتماد میں نہیں لیا گیا۔متاثرہ خاندان نے وزیراعلیٰ پنجاب سے اپیل کی ہے کہ واقعہ کا فوری نوٹس لے کر ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے۔تاحال ہسپتال انتظامیہ کی جانب سے اس حوالے سے کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔