لاہور میں سموگ کے بڑھتے اثرات، شہریوں کی صحت کو خطرہ

لاہور میں سموگ کے بڑھتے اثرات، شہریوں کی صحت کو خطرہ

ویب ڈیسک:شہر لاہور میں سموگ نے شہریوں کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے، جس کے نتیجے میں انسانی صحت پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ سموگ کے باعث نزلہ، کھانسی، گلے کی خرابی، سانس کی تکلیف، اور آنکھوں میں جلن جیسی علامات سامنے آ رہی ہیں، جو ہر عمر کے افراد کو متاثر کر رہی ہیں۔ اس کے علاوہ، سموگ سے ایسے صحت کے مسائل بھی پیدا ہو سکتے ہیں جو فوری طور پر ظاہر نہیں ہوتے، مگر طویل مدت میں یہ پھپھڑوں کی بیماری یا کینسر جیسی موذی بیماریوں کا سبب بن سکتے ہیں۔

ماہرین صحت کے مطابق، بچے اور بزرگ افراد سموگ کے اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں، اور انہیں سموگ کی شدت کے دوران گھروں میں رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

سموگ بنیادی طور پر فضائی آلودگی کی ایک شکل ہے جو ہوا میں موجود مضر صحت گیسوں اور مٹی کے ذرات کے ملاپ سے بنتی ہے۔ جب دھواں اور کم درجہ حرارت کے باعث بننے والی دھند (فوگ) آپس میں ملتی ہے، تو سموگ پیدا ہوتی ہے۔ یہ ایک قسم کی فوٹو کیمیکل سموگ ہے جو نائٹروجن آکسائیڈز جیسے زہریلے ذرات اور سورج کی روشنی کے ردعمل سے بنتی ہے۔

ایسی سموگ میں موجود پی ایم 2.5 ذرات اتنے چھوٹے ہوتے ہیں کہ یہ سانس کے ذریعے انسان کے جسم میں داخل ہو کر خون کی رگوں تک پہنچ سکتے ہیں، جس سے مختلف صحت کے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ عالمی ادارہ برائے صحت کے مطابق، 24 گھنٹوں کے دوران کسی بھی شہر میں پی ایم 2.5 ذرات کی مقدار 25 مائیکروگرام فی کیوبک میٹر سے زیادہ نہیں ہونی چاہیے۔ایئر کوالٹی انڈیکس کے ذریعے فضائی آلودگی کو جانچا جاتا ہے، جس میں مختلف گیسوں اور پی ایم 2.5 ذرات کی مقدار کا موازنہ کیا جاتا ہے۔ جب ان کی مقدار ایک خاص حد سے تجاوز کر جاتی ہے، تو یہ فضا کو آلودہ کر دیتی ہے، جو شہریوں کی صحت کے لیے مزید خطرات کا سبب بن سکتی ہے۔لاہور میں سموگ کے بڑھتے اثرات نے شہریوں کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت کو اجاگر کیا ہے تاکہ صحت کے نقصان کو کم کیا جا سکے۔