قومی حکومت کی تشکیل کیلئے کوشاں، ٹرمپ کیساتھ مل کر کام کریں گے، گادی

تل ابیب(آئی این پی )اسرائیلی اپوزیشن رہنما اور سابق آرمی چیف گادی آیزنکوٹ نے کہا ہے کہ اسرائیلی عوام نے تبدیلی اور موجودہ حکومت کی جگہ نئی حکومت لانے کے حق میں اپنا فیصلہ سنا دیا ہے۔ ہماری جمہوریت مضبوط اور متحرک ہے۔ ہم جلد از جلد قومی ہنگامی حکومت تشکیل دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ صدر ٹرمپ کیساتھ مل کر کام کرنے کے خواہاں ہیں۔غیرملکی میڈیا کے مطابق ایکس پر اپنے بیان میں گادی آیزنکوٹ کا کہنا تھا کہ ان کا مقصد اسرائیل کو ایسی نئی قیادت فراہم کرنا ہے جو تمام اسرائیلی شہریوں کے مفادات کی نمائندگی کرے۔ اتحادیوں کے ساتھ مل کر مضبوط اسرائیل تعمیر کیا جائے گا، جو یہودی اور جمہوری ریاست ہونے کے ساتھ آزاد خیال اقدار اور تمام شہریوں کے لیے مساوات پر یقین رکھتا ہو۔انہوں نے کہا کہ اسرائیل اور امریکا کے تعلقات محض دو حکومتوں کے درمیان اتحاد نہیں بلکہ دونوں ملکوں کے عوام کے مابین نسلوں پر محیط شراکت داری ہیں، جو مشترکہ جمہوری اقدار اور باہمی اعتماد پر قائم ہے۔ امریکا اور اسرائیل کی شراکت داری کو مزید مضبوط اور گہرا کیا جائے گا، اس کے لیے دونوں امریکی جماعتوں کی دیرینہ حمایت کو برقرار رکھنے کی کوشش کی جائے گی۔گادی نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ کے ساتھ قریبی اور تعمیری تعاون کی خواہش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک مشترکہ سلامتی کے مفادات کو آگے بڑھانے، علاقائی استحکام مضبوط کرنے اور مشرق وسطی کے عوام کے لیے خوشحالی کے نئے مواقع پیدا کرنے کے لیے مل کر کام کر سکتے ہیں۔انہوں نے مشرق وسطی میں تنازعات کے خاتمے کے ساتھ مواقع اور باہمی تعاون پر مبنی خطے کی ترقی کے عزم کا اظہار کیا۔گادی آیزنکوٹ نے مزید کہا کہ یہی وہ اسرائیل ہے جس پر میں یقین رکھتا ہوں اور یہی وہ مستقبل ہے جس کی تعمیر ہمارا عزم ہے۔گادی آیزنکوٹ حالیہ پارلیمانی انتخابات کے بعد وزیراعظم نیتن یاہو کی جگہ حکومت بنانے کی کوشش کرنے والی اپوزیشن اتحاد کے وزیراعظم کے امیدوار ہیں۔ نفتالی بینیٹ، یائیر لاپید، آویگدور لائبرمین اور یائیر گولان سمیت اپوزیشن رہنمائوں نے ان کی حمایت کی ہے۔اسرائیلی پارلیمنٹ میں حکومت بنانے کیلئے 61 نشستوں کی ضرورت ہوتی ہے ، حالیہ اسرائیلی انتخابات میں کوئی بھی جماعت واضح اکثریت حاصل نہیں کر سکی، نیتین یاہو کی جماعت کو 53 اور اپوزیشن اتحاد کو 48 اور عرب جماعتوں کو 19 نشستیں ملیں۔ اپوزیشن اتحاد حکومت بنانے کیلئے عرب جماعتوں کو اپنے ساتھ ملانے کیلئے سرگرم ہے۔