چائلڈ میرج ایکٹ 2026 کا ماضی سے اطلاق غیر قانونی قرار دے دیا، لڑکی کو کم عمر قرار دے کر دارالامان بھیجنے کا حکم کالعدم
لاہور(آئی این پی )لاہور ہائیکورٹ نے چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ 2026 کے ماضی سے اطلاق کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے قانون کے نفاذ سے قبل ہونے والی شادی کے معاملے میں لڑکی کو کم عمر قرار دے کر دارالامان بھیجنے کا حکم کالعدم کر دیا۔عدالت نے قرار دیا ہے کہ کسی نئے قانون کا اطلاق اس کے نفاذ سے قبل ہونے والے واقعات پر نہیں کیا جا سکتا اور قانون کو ماضی سے لاگو کر کے کسی کے خلاف کارروائی کی بنیاد نہیں بنایا جا سکتا۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس خالد ابن عزیز نے شیر باز اور صفینہ خاتون کی فوجداری نظرثانی درخواست منظور کرتے ہوئے سیشن کورٹ خوشاب کا 20 مئی 2026 کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا، عدالت نے کرن شاہین کے والد احمد شیر کی آئینی درخواست مسترد کرتے ہوئے لڑکی کو اپنی مرضی سے جہاں چاہے رہنے کی آزادی بھی دے دی۔عدالتی فیصلے کے مطابق چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ 2026 کا نفاذ 11 مئی 2026 کو ہوا، جبکہ کرن شاہین کا نکاح 18 اپریل 2026 کو ہوا تھا، اس طرح نکاح نئے قانون کے نفاذ سے پہلے انجام پایا، عدالت نے قرار دیا کہ قانون کے نفاذ سے قبل ہونے والی شادی پر نئے قانون کا اطلاق نہیں ہوسکتا اور اسے سابقہ تاریخ سے لاگو کرنا قانونی اصولوں کے منافی ہے۔