سمیع اللہ ملک(دوسری قسط)
ایران کی حکومت کی پالیسیوں،اس کے جوہری پروگرام اورعلاقائی کردارپرتنقید کیلئے دلائل موجودہوسکتے ہیں۔اسی طرح اسرائیل اور امریکااپنے حفاظتی خدشات پیش کرتے ہیں ۔ لیکن اختلافات کاوجودجنگ کے ہرطریقے کوجائزنہیں بنادیتا۔کسی ملک کے جوہری پروگرام کے بارے میں خدشات کاجواب مذاکرات،نگرانی،تصدیق اورواضح معاہدوں سے تلاش کرنابھی ممکن ہے۔جنگ کے دوران ایران میں شہری علاقوں اوربنیادی ڈھانچے کوپہنچنے والے نقصان کے بارے میں سنجیدہ سوالات اٹھے۔ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ستمبر 2026 میں تہران کے گنجان آبادعلاقوں پرامریکی واسرائیلی حملوں کی تحقیقات کامطالبہ کیا،جن میں شہری ہلاکتوں اورزخمیوں کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔تنظیم نے کہاکہ ان واقعات کی آزادانہ اورغیرجانبدارانہ تحقیقات ہونی چاہییں تاکہ معلوم ہوسکے کہ آیاان میں جنگی جرائم کاارتکاب ہوا۔
اسی جنگ میں ایرانی جوابی حملوں سے دوسرے ممالک اورشہریوں کوبھی خطرات لاحق ہوئے۔شہریوں پرحملے،خواہ کسی بھی فریق کی جانب سے ہوں،قابلِ مذمت ہیں۔انسانیت کے اصول کسی ایک پرچم،مذہب یاسیاسی اتحادکیلئے مخصوص نہیں ہوتے۔یہاں اصل سوال یہ ہے کہ کیا کسی ریاست کواپنی سلامتی کے نام پرایسے اقدامات کرنے کاحق حاصل ہے جن سے پوراخطہ ایک وسیع جنگ میں دھکیل دیاجائے؟ اوراگرکسی فریق کے اقدامات دوسرے ممالک کوجواب دینے پرمجبورکرتے ہیں توکیااس کے رہنماان تمام ممکنہ نتائج کی ذمہ داری سے خودکوالگ کرسکتے ہیں؟
ایران کی مزاحمت کومحض ایک عسکری واقعہ سمجھنابھی غلط ہوگا۔اس میں خودمختاری،علاقائی طاقت کے توازن،پابندیوں،جوہری تنازع اورمغربی پالیسیوں پردہائیوں سے جاری اختلافات شامل ہیں۔تاہم کسی ریاست کاحقِ دفاع بھی شہریوں اورہمسایہ ممالک کوغیرمحدود نقصان پہنچانے کاجوازنہیں بن سکتا۔ٹرمپ کی سیاست میں دباؤ،سخت بیانات،تیز رفتار اعلانات اورذاتی سیاسی قوت کااظہارنمایاں رہاہے۔لیکن عالمی سیاست کسی کاروباری سودے کی طرح نہیں جس میں فریقین کومحض زیادہ سے زیادہ قیمت اداکرنے پرمجبور کرکے مطلوبہ نتیجہ حاصل کرلیاجائے۔جنگ کے فیصلے بازارکے اعدادوشمار،انتخابی مقبولیت یاٹیلیوژن کی سرخیوں تک محدودنہیں رہتے۔ان کے اثرات تیل کی قیمتوں،سمندری تجارت، خوراک،بیمہ،نقل وحمل،صنعتی پیداواراورعام شہریوں کے گھریلواخراجات تک پہنچتے ہیں۔آبنائے ہرمزاس کی نمایاں مثال ہے۔یہ عالمی توانائی کی تجارت کے اہم ترین
راستوں میں شمارہوتی ہے۔اس کے گردجنگی خطرات بڑھنے سے صرف ایران یاامریکامتاثرنہیں ہوتے ؛ ایشیا،یورپ اورافریقہ کے ممالک بھی توانائی کی فراہمی اورقیمتوں کے دباؤ کاسامناکرتے ہیں۔
سات اکتوبر2026کورائٹرزنے رپورٹ کیاکہ آبنائے ہرمزمیں جہازوں کی آمدورفت دوماہ سے زیادہ عرصے کی کم ترین سطح پرآگئی تھی۔ایک دن پہلے کی رپورٹ کے مطابق تیل بردارجہازوں پرحملے جنگ شروع ہونے کے بعدایک ہفتے میں بلندترین سطح تک پہنچ گئے تھے۔ اس کامطلب یہ ہے کہ جنگ کانقصان میدانِ جنگ کی حدودسے باہرنکل چکا ہے۔کسی دوردرازملک میں ایندھن مہنگاہو،کسی غریب گھرانے کابجٹ بگڑجائے یاکسی ترقی پذیرریاست کوخوراک اورتوانائی کی درآمد کیلئیزیادہ رقم خرچ کرناپڑے تواس بحران کا بوجھ ان لوگوں پر بھی پڑتاہے جن کاجنگ کے فیصلوں میں کوئی کردارنہیں۔یہی وجہ ہے کہ جنگ کوصرف میزائلوں کی تعدادیاتباہ شدہ فوجی تنصیبات کے ذریعے نہیں ناپاجاسکتا۔اس کی حقیقی قیمت اس مزدورکے خالی بٹوے،اس کسان کی مہنگی کھاد،اس ماں کی مہنگی خوراک اوراس بچے کے چھن جانے والے تعلیمی مستقبل میں بھی لکھی جاتی ہے۔
اقوامِ متحدہ پرتنقیدبجاہے،لیکن اس کی ناکامی کی نوعیت کوسمجھناضروری ہے۔اقوامِ متحدہ کے پاس نہ کوئی ایسی عالمی حکومت ہے جو ہرریاست پریکساں حکم چلاسکے،نہ ہی سلامتی کونسل کے فیصلوں کوہرحال میں نافذ کرنے کی مکمل قوت۔سلامتی کونسل میں ویٹوکا اختیاربڑی طاقتوں کوایسے فیصلوں کوروکنے کی صلاحیت دیتاہے جوان کے مفادات سے متصادم ہوں۔ اس ساختی کمزوری کے باعث عالمی ادارہ بعض بحرانوں میں فیصلہ کن کارروائی کرنے سے قاصررہتاہے۔لیکن یہ کہنابھی درست نہیں کہ اقوامِ متحدہ نے کچھ کیاہی نہیں۔اس کے امدادی ادارے،انسانی حقوق کے ماہرین اورمختلف بین الاقوامی تنظیمیں متاثرہ آبادیوں کی مدد،انسانی صورتِ حال کی دستاویزبندی اورقانون کی پابندی کے مطالبے میں اہم کردار اداکرتے رہے ہیں۔
اصل تضادیہ ہے کہ دنیانے عالمی ادارے توقائم کرلیے،مگران اداروں کوطاقتورریاستوں کے سامنے غیرجانبدارانہ احتساب کیلئیدرکار اختیارپوری طرح نہیں دیا۔جب ایک طاقتورریاست کے اقدامات پرسوال اٹھتے ہیں تواس کے اتحادی سیاسی تحفظ فراہم کرسکتے ہیں۔جب کسی کمزورریاست پرالزام لگتاہے توپابندیاں،سفارتی دبایافوجی کارروائی زیادہ تیزی سے سامنے آسکتی ہے۔اس عدم توازن سے بین الاقوامی قانون پراعتمادکمزور ہوتاہے۔قانون کی اصل آزمائش یہ نہیں کہ وہ کمزورکوکیسے روکتاہے؛اصل آزمائش یہ ہے کہ وہ طاقتورکوکس حدتک جواب دہ بناتاہے۔
جنگ کے زمانے میں میڈیاصرف واقعات کی خبرنہیں دیتا؛وہ اس اندازکوبھی تشکیل دیتاہے جس میں دنیاان واقعات کوسمجھتی ہے۔ تصاویر،عینی شاہدین کے بیانات،سیٹلائٹ مناظر ،سرکاری پریس کانفرنسیں اورتحقیقاتی رپورٹیں عالمی رائے عامہ پراثراندازہوتی ہیں۔آج غزہ کی تباہی،ایران میں شہری نقصانات،لبنان میں بے گھری اورآبنائے ہرمزکے بحران کے بارے میں اطلاعات دنیابھرمیں گردش کررہی ہیں۔بین الاقوامی میڈیااورانسانی حقوق کی تنظیموں کی رپورٹوں نے ایسے سوالات کونمایاں کیاہے جنہیں صرف سرکاری بیانات کے ذریعے نظراندازنہیں کیاجاسکتا۔
لیکن میڈیا کے بارے میں بھی احتیاط لازم ہے۔ہروائرل تصویرکی تصدیق نہیں ہوتی،ہرغیرمصدقہ عددحتمی نہیں ہوتااورہرسیاسی دعوی تحقیق کے بعددرست ثابت نہیں ہوتا۔ذمہ دارصحافت کاتقاضاہے کہ مصدقہ حقائق،ابتدائی اطلاعات،الزامات اورتجزیوں کوواضح طورپرالگ رکھاجائے۔یہی معیاران حکمرانوں پربھی لاگوہوناچاہیے جواپنے سیاسی مقاصد کیلئے دشمن کوغیرانسانی بناکرپیش کرتے ہیں یااپنے اقدامات کے نتائج کوکم ظاہرکرنیکی کوشش کرتے ہیں۔جب جنگی زبان میں پورے ملک کومٹانے،کسی تہذیب کوختم کرنے یا شہری بنیادی ڈھانچے کوتباہ کرنے کی دھمکیاں معمول بن جائیں توخطرہ صرف موجودہ جنگ تک محدودنہیں رہتا۔ایسی زبان تشددکی اخلاقی رکاوٹوں کوکمزور کرتی ہے اورآئندہ کارروائیوں کیلئے خوف ناک ماحول پیداکرتی ہے۔
لفظ پہلے انسان کے ضمیرمیں دیوارگراتاہے،پھرکبھی میزائل کسی شہرکی دیوارگرادیتاہے۔اسی لیے رہنماں کے الفاظ بھی جواب دہی سے آزادنہیں ہونے چاہییں۔یہ کہناکہ ایران کے سوادنیاکی کوئی قیادت مخالفت نہیں کررہی،ایک جذباتی سیاسی تاثرہے،مکمل تاریخی حقیقت نہیں۔مختلف ممالک،اقوامِ متحدہ کے حکام،انسانی حقوق کی تنظیموں،صحافیوں،سیاسی جماعتوں اورشہری تحریکوں نے جنگ،شہری ہلاکتوں اوربین الاقوامی قانون کی خلاف ورزیوں کے بارے میں مختلف مواقع پرآوازاٹھائی ہے۔امریکاکے اندربھی جنگ کی مخالفت ، اخراجات،انسانی نقصانات اورانتظامیہ کی پالیسی پراختلافات موجودہیں۔(جاری ہے)