اسلام آباد:وفاقی ادارہ شماریات کی ماہانہ رپورٹ کے مطابق فروری میں مہنگائی میں اضافے کی رفتار 1.52 فیصد ریکارڈ کی گئی، جو کہ حکومتی تخمینوں (2 سے 3 فیصد) سے بھی کم رہی۔
مہنگائی میں کمی کی تفصیلات:
ماہانہ بنیاد پر مہنگائی میں 0.83 فیصد کمی آئی۔شہری علاقوں میں مہنگائی 1.8 فیصد اور دیہی علاقوں میں 1.1 فیصد رہی۔جولائی تا فروری مہنگائی کی اوسط شرح 5.85 فیصد رہی۔
سستی ہونے والی اشیاء:
دال چنا اور چائے 10 فیصد، بیسن 9 فیصد سستا ہوا۔گندم 3 فیصد، دال ماش 2.82 فیصد، آٹا 2.23 فیصد سستا ہوا۔چکن، دال مسور، مونگ، مچھلی، دودھ کی مصنوعات، ایندھن، ٹرانسپورٹ سروسز، تعمیراتی سامان، بجلی، اسٹیشنری بھی سستی ہوئیں۔ٹماٹر 57 فیصد، پیاز 32 فیصد، آلو 20 فیصد، سبزیاں 17 فیصد، انڈے 14 فیصد سستے ہوئے۔
مہنگی ہونے والی اشیاء:
پھل 15 فیصد، چینی 9.35 فیصد، مکھن 5.61 فیصد مہنگا ہوا۔مسالے 1.59 فیصد، بیکری آئٹمز 1.19 فیصد، مشروبات 1.16 فیصد مہنگے ہوئے۔خوردنی تیل، گھی، گوشت، چاول، ریڈی میڈ فوڈ، خشک دودھ، رہائشی سہولیات، ڈاکٹر کی فیس، مکینیکل سروسز بھی مہنگی اشیاء میں شامل ہیں۔
نتیجہ:
فروری میں مہنگائی کی شرح توقع سے کم رہی، تاہم چند بنیادی اشیاء بدستور مہنگی ہو رہی ہیں، جس کے اثرات عام آدمی پر برقرار ہیں۔