شرح سود11فیصد پر برقرار‘2026میں مہنگائی6سے7فیصد کے درمیان رہے گی سٹیٹ بینک

دسمبر  تک روپیہ، ڈالر کے مقابلے میں 282 سے 285 روپے کے درمیان رہے گا‘15دسمبر کو چوتھی مانیٹری پالیسی کا اعلان ہوگا:جمیل احمد
آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ مضبوط معاشی کارکردگی کا اعتراف ہے:وزارت خزانہ کی جانب سے ماہانہ معاشی آؤٹ لک رپورٹ جاری
کراچی (آئی این پی ‘آن لائن)ملک میں شرح سود 11 فیصد کی سطح پر برقرار رکھنے کا اعلان کر دیا گیا۔گورنر سٹیٹ بینک جمیل احمد نے نئی مانیٹری پالیسی کا اعلان کردیا، نئی مانیٹری پالیسی میں شرح سود کو 11 فیصد پر برقرار رکھا گیا۔گورنر سٹیٹ بینک کے مطابق مانیٹری پالیسی کمیٹی کے اجلاس میں شرح سود کو برقرار رکھنے پر اتفاق ہوا۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ مالیاتی سال 26 میں اوسط مہنگائی کی شرح 6سے7 فیصد کے درمیان رہے گی، دسمبر 25 تک روپیہ، ڈالر کے مقابلے میں 282 سے 285 روپے کے درمیان رہے گا جب کہ گورنر سٹیٹ بینک رواں مالیاتی سال کی چوتھی مانیٹری پالیسی کا اعلان 15 دسمبر کو کریں گے۔دریں اثناء وزارت خزانہ کی جانب سے ماہانہ معاشی آؤٹ لک رپورٹ جاری کردی گئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ آئی ایم ایف کے ساتھ اسٹاف لیول معاہدہ مضبوط معاشی کارکردگی کا اعتراف ہے۔معیشت بحالی کے راستے پر گامزن ہے، معاشی سرگرمیاں مستحکم رہیں۔  رپورٹ کے مطابق آئی ایم ایف کے ساتھ اسٹاف لیول معاہدہ مضبوط معاشی کارکردگی کا اعتراف ہے، حالیہ سیلاب سے زرعی شعبے کو 430 ارب روپے کے نقصانات کا تخمینہ ہے، جولائی تا اگست بڑی صنعتوں  کی پیداوار میں 4.4 فیصد اضافہ ہوا، معاشی آؤٹ لک  رپورٹ کے مطابق آٹو موبائل، سیمنٹ اور تعمیراتی شعبے میں نمایاں بہتری آئی، سیمنٹ کی ملکی کھپت 15 فیصد اور برآمدات 21 فیصد بڑھی، ستمبر 2025 میں سالانہ افراطِ زر 5.6 فیصد ریکارڈ کی گئی،اشیائے خوردونوش کی قیمتیں سیلاب کی وجہ سے متاثر ہوئیں،آئندہ مہینوں میں مہنگائی 5 سے 6 فیصد کے درمیان رہنے کی توقع ہے۔رپورٹ کے مطابق جولائی تا اگست وفاقی آمدن میں 231 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا