پنجاب کے ضلع قصور میں پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے کم عمری میں دو بچیوں کے مبینہ زبردستی نکاح کی کوشش ناکام بنا دی۔
پولیس نے 10 سالہ صنم اور 16 سالہ صبا کے نکاح کی کوشش کے الزام میں دونوں دلہوں سمیت نکاح پڑھانے والے قاری اور ایک گواہ کو گرفتار کرلیا، جبکہ دونوں بچیوں کو بحفاظت دارالامان منتقل کردیا گیا ہے۔پولیس کے مطابق کم عمر بچیوں کے نکاح کی کوشش سے متعلق اطلاع موصول ہونے پر فوری کارروائی کی گئی، جس کے نتیجے میں مبینہ طور پر ہونے والے نکاح کو روک دیا گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ معاملے کی قانونی کارروائی شروع کردی گئی ہے اور گرفتار افراد کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔
دونوں دلہوں سمیت نکاح خواں اور گواہ گرفتار
پولیس کے مطابق گرفتار کیے گئے دونوں دلہوں کی شناخت عامر اور رفیق کے نام سے ہوئی ہے۔ کارروائی کے دوران نکاح پڑھانے والے قاری عبدالرشید اور گواہ ملنگ کو بھی حراست میں لے لیا گیا۔پولیس نے چاروں ملزمان کے خلاف چائلڈ میرج ریسٹرینٹ آرڈیننس کی دفعہ 7 کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔ واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں تاکہ مبینہ نکاح کی کوشش میں ملوث افراد کے کردار اور دیگر متعلقہ حقائق کا تعین کیا جاسکے۔
دونوں بچیوں کو دارالامان منتقل کردیا گیا
پولیس حکام کے مطابق کارروائی کے بعد 10 سالہ صنم اور 16 سالہ صبا کو بحفاظت دارالامان بھجوا دیا گیا ہے، جہاں ان کی حفاظت اور دیکھ بھال کے انتظامات کیے گئے ہیں۔کم عمری میں شادی کی کوشش بچوں کے تحفظ اور حقوق سے متعلق سنگین خدشات کو جنم دیتی ہے۔ ایسے واقعات میں متعلقہ قوانین کے تحت کارروائی اور متاثرہ بچوں کو محفوظ ماحول فراہم کرنا اہم ہوتا ہے۔
پولیس کی تحقیقات جاری
پولیس نے مقدمہ درج کرکے معاملے کی تفتیش شروع کردی ہے۔ حکام کے مطابق گرفتار ملزمان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی، جبکہ واقعے سے متعلق مزید تفصیلات تحقیقات مکمل ہونے پر سامنے آسکتی ہیں