بوٹوکس کے بعد چہرے کا ایک حصہ خراب ہو گیا تھا، بشریٰ انصاری

بوٹوکس کے بعد چہرے کا ایک حصہ خراب ہو گیا تھا، بشریٰ انصاری

پاکستان کی سینئر اداکارہ بشریٰ انصاری نے ماضی میں بوٹوکس کروانے کے ایک ناخوشگوار تجربے کا انکشاف کرتے ہوئے بتایا ہے کہ اس کے بعد ان کے چہرے کی ساخت متاثر ہوگئی تھی اور وہ کئی ماہ تک گھر سے باہر نکلنے سے گریز کرتی رہیں۔

حال ہی میں اپنے وی لاگ میں ماضی کا واقعہ بیان کرتے ہوئے بشریٰ انصاری نے بتایا کہ کئی سال قبل انہوں نے چہرے کی خوبصورتی کے لیے بوٹوکس کروایا تھا، تاہم علاج کے بعد پیش آنے والی صورتحال نے انہیں شدید پریشانی میں مبتلا کردیا۔اداکارہ کے مطابق ڈاکٹر نے انہیں بوٹوکس کروانے کے بعد ضروری احتیاطی تدابیر کے بارے میں مناسب رہنمائی فراہم نہیں کی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ علاج کے بعد وہ اسی طرف کروٹ لے کر سو گئیں، جس کے چند روز بعد انہیں اپنے چہرے میں غیر معمولی تبدیلی محسوس ہوئی۔

چہرے کا ایک حصہ لٹک گیا، ہونٹوں کی ساخت بھی بدل گئی
بشریٰ انصاری نے بتایا کہ بوٹوکس کروانے کے تقریباً پانچ سے چھ روز بعد ان کے چہرے کا ایک حصہ لٹک گیا، جبکہ ہونٹوں کی ساخت بھی تبدیل ہوگئی۔ چہرے میں اچانک آنے والی اس تبدیلی نے انہیں خوف زدہ کردیا اور انہیں خدشہ ہونے لگا کہ کہیں وہ فالج کا شکار تو نہیں ہوگئیں۔اداکارہ کے مطابق انہوں نے اپنی اس کیفیت پر تشویش کا اظہار کیا، تاہم ڈاکٹر نے ان کی شکایت کو محض وہم قرار دیا۔ بشریٰ انصاری نے بتایا کہ اس تجربے کے باعث وہ ذہنی طور پر بہت پریشان رہیں اور کئی ماہ تک گھر سے باہر نکلنے سے بھی گریز کرتی رہیں۔

ڈاکٹرز کو مریضوں کی شکایات سنجیدگی سے لینی چاہئیں
بشریٰ انصاری نے اپنے تجربے کی روشنی میں زور دیا کہ ڈاکٹرز کو علاج کے بعد مریضوں کو پیش آنے والی مشکلات اور ان کی شکایات کو سنجیدگی سے لینا چاہیے۔ ان کے مطابق کسی بھی طبی یا کاسمیٹک طریقۂ علاج سے پہلے مریض کو اس کے ممکنہ اثرات اور بعد از علاج احتیاطی تدابیر کے بارے میں واضح طور پر آگاہ کرنا ضروری ہے۔اداکارہ کا کہنا تھا کہ مریضوں کو مناسب رہنمائی فراہم کرنا اور ان کے خدشات کو اہمیت دینا طبی ماہرین کی ذمہ داری ہے، تاکہ علاج کے بعد کسی غیر متوقع تبدیلی کی صورت میں بروقت مناسب مدد حاصل کی جاسکے۔

بوٹوکس کے بعد احتیاط کیوں ضروری ہے؟
بوٹوکس ایک کاسمیٹک اور طبی طریقۂ علاج ہے جس میں بوٹولینم ٹاکسن کا استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کے ممکنہ مضر اثرات میں عارضی طور پر پپوٹے یا بھنویں جھک جانا، چہرے کے تاثرات میں تبدیلی اور بعض دیگر مسائل شامل ہوسکتے ہیں۔تاہم چہرے کا اچانک ایک طرف لٹک جانا فالج کی علامت بھی ہوسکتا ہے۔ ایسی صورت میں اسے محض بوٹوکس کا اثر سمجھ کر نظرانداز نہیں کرنا چاہیے بلکہ فوری طبی امداد حاصل کرنا ضروری ہے۔