نازیبا ویڈیوز ٹیلی گرام کے ذریعے فروخت کی جاتی تھیں :این سی سی آئی اے
سرگودھا میں بچوں سے زیادتی،نازیبا ویڈیوز بنانیوالا ٹیچر اوردو کمسن ملزم گرفتار
اسلام آباد،سرگودھا (بیورو رپورٹ ،مانیٹرنگ ڈیسک )ایڈیشنل ڈائریکٹر نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی محمد شعیب خان نے انکشاف کیا ہے کہ پیسوں کیلئے ایک باپ چائلڈ پورنو گرافی میں ملوث پایا گیا ہے۔اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران شعیب خان نے کہا کہ چائلڈ پورنوگرافی میں ملوث گینگ میں ایک ملزم خود ہی اپنے بچوں کی ویڈیوز رقم کے عوض بیچ رہا تھا، ملزم کا تعلق سکردو سے تھا جبکہ گینگ کا ٹارگٹ 6، 7 سال سے لے کر 15 سال تک کے بچے تھے۔ بچوں کی نازیبا ویڈیوز ٹیلی گرام کے ذریعے فروخت کی جاتی تھیں۔محمد شعیب خان نے مزید کہا کہ عالمی فورمز کے تعاون سے ایک ماہ تک تحقیقات جاری رہیں جبکہ ملتان، اسلام آباد اور جنوبی پنجاب میں مزید تفتیش کی جا رہی ہے۔ ایڈیشنل ڈائریکٹراین سی سی آئی اے نے کہا کہ پوریملک کے سکولوں اور یونی ورسٹیز میں آگہی مہم شروع کرنے جارہے ہیں، جو والدین بچوں کے جرائم معلوم ہونے پر بھی رپورٹ نہیں کر رہے، ان کے خلاف بھی کارروائی ہوگی۔ دریں اثنا سرگودھا کے نواحی گائوں چک 107 جنوبی کے گورنمنٹ سکول میں بچوں سے مبینہ زیادتی اور نازیبا ویڈیوز بنانے کے مقدمہ میں نامزد انگلش ٹیچر اوردو کمسن ملزموں کو گرفتار کر لیا ، جبکہ آئی جی پنجاب نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے تفتیش کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ کے سپرد کر دی ہے ،پولیس ذرائع کے مطابق تھانہ عطا شہید پولیس نے دو روزقبل سکول کے انگلش ٹیچر صفدر عباس کے خلاف 11 سالہ طالب علم کو دو دیگر کمسن طلبہ کے ساتھ مل کر زیادتی کا نشانہ بنانے اور ویڈیو بنا کر بلیک میل کرنے کے الزام میں مقدمہ درج کر کے گرفتار کیا تھا ،ابتدائی تفتیش کے دوران ملزم کے موبائل فون سے درجن سے زائد مبینہ نازیبا ویڈیوز برآمد ہوئیں، مقدمے میں نامزد دو کمسن ملزموں 12 سالہ حسن مشتاق اور 15 سالہ علی حسن کو بھی گرفتار کر لیا گیا ہے۔