ایران پر حملہ آج ہی ہو سکتا ہے: ڈونلڈ ٹرمپ، بھر پور جواب دیں گے: ایرانی صدر

یہ بھی ہو سکتا ہے کہ کوئی بڑا معاہدہ طے پا جائے، ایران پر حملے سے متعلق کسی بھی ممکنہ فوجی کارروائی کے وقت کا نہیں بتاؤں گا، ایران کے معاملے کو بہت اچھے طریقے سے نمٹایا ہے، اب ممکن ہے کہ باقی کام بھی مکمل کرنا پڑے
 ہم مذاکرات کر رہے تھے، امریکیوں نے سب برباد کیا۔  ٹرمپ  عبوری ڈیل کی ناکامی کا ذمے دار ہے۔ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر عملدرآمد کی نئی کوشش پر زور، وہ سمجھتے ہیں کہ اس ڈیل کی تکمیل کی کوشش کرنی چاہیے۔۔صدر  
 ایران پر قیامت خیز حملوں کا خدشہ، ٹرمپ کی نئی جنگی تیاریوں کا انکشاف، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیل اور امریکا میں انتخابات مکمل ہونے کے بعد ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی کا حکم دے سکتے ہیں، امریکی جریدے بلومبرگ
واشنگٹن(مانیٹرنگ ڈیسک)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران پر حملہ  آج ہی ہوسکتا ہے، یہ بھی ہو سکتا ہے کہ کوئی بڑا معاہدہ طے پا جائے۔ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر حملے سے متعلق سوال پر جواب میں کہا ہے کہ میں کسی بھی ممکنہ فوجی کارروائی کے وقت کا نہیں بتاؤں گا۔انہوں نے کہا ہے کہ ایران کے معاملے کو بہت اچھے طریقے سے نمٹایا ہے، اب ممکن ہے کہ باقی کام بھی مکمل کرنا پڑے۔امریکی جریدے کا کہنا ہے کہ ممکنہ حملے کے لیے امریکی طیارہ بردار جہاز جارج واشنگٹن کو ہتھیاروں اور میزائلوں کے ذخیرے کی سپلائی پہنچائی جا چکی۔امریکی جریدے کے مطابق سعودی عرب، اردن، قطر، متحدہ عرب امارات اور لبنان میں امریکی سفارتی عملے کی تعداد میں کمی کر دی گئی ہے۔ ایران پر قیامت خیز حملوں کا خدشہ، ٹرمپ کی نئی جنگی تیاریوں کا انکشاف، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیل اور امریکا میں انتخابات مکمل ہونے کے بعد ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی کا حکم دے سکتے ہیں، امریکی جریدے بلومبرگ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیل اور امریکا میں انتخابات مکمل ہونے کے بعد ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی کا حکم دے سکتے ہیں، امریکی جریدے بلومبرگ نے اپنی رپورٹ میں نئے حملوں کے امکانات کی نشاندہی کردی۔بلومبرگ کے مطابق مشرق وسطیٰ میں جنگ کے دوبارہ شدت اختیار کرنے کے خدشات بڑھ رہے ہیں اور امریکی فوجی تیاریوں کو بھی اسی تناظر میں دیکھا جارہا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ ایران کے خلاف مزید حملوں کے امکانات پر غور کر رہی ہے تاہم کارروائی کے حتمی وقت اور فیصلے کی تصدیق نہیں کی گئی۔رپورٹ کے مطابق اسرائیل میں 27 اکتوبر کو انتخابات متوقع ہیں، جبکہ امریکا میں 3 نومبر کو وسط مدتی انتخابات ہوں گے۔ امریکی انتخابات میں ایوان نمائندگان کی تمام 435 اور سینیٹ کی 35 نشستوں کے لیے مقابلہ ہوگا، جبکہ 36 ریاستوں میں گورنرز کا انتخاب بھی کیا جائے گا۔بلومبرگ کے تجزیے کے مطابق امریکی انتخابات سے قبل ایران پر دوبارہ حملوں کا امکان نسبتاً کم دکھائی دیتا ہے، کیونکہ جنگ کے نتیجے میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافے اور مہنگائی نے امریکی عوام کی مشکلات بڑھا دی ہیں۔اس صورت حال سے صدر ٹرمپ کی ریپبلکن پارٹی کو کانگریس میں اپنی اکثریت برقرار رکھنے کے لیے بھی چیلنجز کا سامنا ہے۔جریدے کے مطابق ٹرمپ نے پہلے مشرق وسطیٰ کی جنگ چند ہفتوں میں ختم ہونے کی امید ظاہر کی تھی، لیکن خطے میں امریکی فوجی نقل و حرکت اور اضافی عسکری وسائل کی تعیناتی سے کشیدگی میں مزید اضافے کے خدشات پیدا ہوگئے ہیں۔دوسری طرف ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر عملدرآمد کی نئی کوشش پر زور دیا ہے۔ایرانی صدر نے امریکی صدر ٹرمپ کو عبوری ڈیل کی ناکامی کا ذمے دار قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہم مذاکرات کر رہے تھے، امریکیوں نے سب برباد کیا۔ حملہ ہوا تو بھر پور جواب دیں گے۔صدر پزشکیان نے کہا ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ اس ڈیل کی تکمیل کی کوشش کرنی چاہیے۔