ایل پی جی ڈسٹری بیوٹرز ایسوسی ایشن کی ہڑتال کی کال کے بعد لاہور کے بیشتر علاقوں میں ایل پی جی کی دکانیں بند ہوگئیں، جس کے باعث گیس کی سپلائی متاثر ہونے لگی ہے۔
ہڑتال طویل ہونے کی صورت میں شہر میں ایل پی جی کی قلت پیدا ہونے اور شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ایل پی جی ڈسٹری بیوٹرز ایسوسی ایشن نے پیرا فورس، سول ڈیفنس اور بلدیاتی اداروں کے اہلکاروں کی جانب سے کارروائیاں بند کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ انتظامیہ کی جانب سے ایل پی جی کی ری فلنگ اور ڈیکینٹنگ کے خلاف جاری کریک ڈاؤن سے کاروبار متاثر ہو رہا ہے۔
کارروائیوں کے خلاف دکانیں بند کرنے کا فیصلہ
ایسوسی ایشن کے مطابق انتظامیہ کی کارروائیوں کے دوران ایل پی جی کی دکانیں سیل کی جا رہی ہیں اور کاروباری سامان بھی ضبط کیا جا رہا ہے۔ ڈسٹری بیوٹرز کا کہنا ہے کہ مسلسل کارروائیوں کے باعث ان کے لیے کاروبار جاری رکھنا مشکل ہوگیا ہے، جس پر احتجاجاً ہڑتال کی کال دی گئی۔ایسوسی ایشن نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کارروائیوں کے دوران اب تک تقریباً 14 کروڑ روپے مالیت کا سامان توڑا جا چکا ہے۔ تاہم، اس مالی نقصان کے دعوے کی سرکاری سطح پر تصدیق سامنے نہیں آئی۔
سرکاری اہلکاروں پر رشوت اور بھتہ لینے کے الزامات
ایل پی جی ڈسٹری بیوٹرز نے کارروائیاں کرنے والے بعض سرکاری اہلکاروں پر مبینہ طور پر رشوت اور بھتہ وصول کرنے کے الزامات بھی عائد کیے ہیں۔ ایسوسی ایشن کا مطالبہ ہے کہ ان الزامات کی تحقیقات کی جائیں اور کاروباری افراد کو ہراساں کرنے کا سلسلہ بند کیا جائے۔یہ الزامات ایسوسی ایشن کی جانب سے عائد کیے گئے ہیں، جبکہ متعلقہ سرکاری اداروں کا مؤقف اور ان الزامات پر باضابطہ ردعمل سامنے آنا باقی ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب سے مداخلت کا مطالبہ
ایل پی جی ڈسٹری بیوٹرز ایسوسی ایشن نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز سے معاملے کا نوٹس لینے کی اپیل کی ہے۔ ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ ایل پی جی کی دکانوں کے لیے واضح، یکساں اور قابلِ عمل معیاری طریقۂ کار (ایس او پیز) مرتب کیا جائے تاکہ کاروباری افراد کو قانونی تقاضوں کے مطابق کام کرنے میں آسانی ہو۔ایسوسی ایشن کے چیئرمین نے مطالبہ کیا ہے کہ دکانوں کے خلاف کارروائیاں روک کر ڈسٹری بیوٹرز کے نمائندوں سے مذاکرات کیے جائیں اور مسائل کا قابلِ قبول حل نکالا جائے۔ان کا کہنا ہے کہ اگر مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو شہر بھر میں ہڑتال جاری رکھی جائے گی، جس سے ایل پی جی کی فراہمی مزید متاثر ہوسکتی ہے۔
ہڑتال سے شہریوں کی مشکلات بڑھنے کا خدشہ
لاہور میں ایل پی جی گھریلو استعمال کے علاوہ ان علاقوں میں بھی استعمال ہوتی ہے جہاں پائپ لائن کے ذریعے قدرتی گیس دستیاب نہیں یا اس کی فراہمی محدود ہے۔ ایسے میں دکانیں بند رہنے سے گھریلو صارفین، چھوٹے کاروبار اور ایل پی جی پر انحصار کرنے والے دیگر صارفین متاثر ہوسکتے ہیں۔سپلائی میں مسلسل رکاوٹ کی صورت میں گیس کی دستیابی کم ہونے اور قیمتوں پر دباؤ بڑھنے کا خدشہ بھی ہے، تاہم قیمتوں میں اضافے کی فی الحال تصدیق نہیں ہوئی۔دوسری جانب، ایل پی جی کی ری فلنگ اور ڈیکینٹنگ سے متعلق حفاظتی ضوابط پر عمل درآمد بھی اہم ہے، کیونکہ غیر محفوظ طریقے سے گیس کی منتقلی آگ لگنے اور دھماکوں جیسے حادثات کا سبب بن سکتی ہے۔