الخلیل میں فائرنگ، 2 اسرائیلی فوجی ہلاک، 3 زخمی؛ نیتن یاہو کا حملہ آوروں کے محلے کو تباہ کرنے کا اعلان

الخلیل میں فائرنگ، 2 اسرائیلی فوجی ہلاک، 3 زخمی؛ نیتن یاہو کا حملہ آوروں کے محلے کو تباہ کرنے کا اعلان

مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر الخلیل میں فائرنگ کے واقعے میں دو اسرائیلی فوجی ہلاک اور تین زخمی ہوگئے، جبکہ اسرائیلی فوج نے جوابی کارروائی میں دونوں حملہ آوروں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

 واقعے کے بعد اسرائیلی وزیرِ اعظم بن یامین نیتن یاہو نے حملہ آوروں کے آبائی محلے میں بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی اور علاقے کو تباہ کرنے کے منصوبے کا اعلان کردیا۔اسرائیلی میڈیا کے مطابق فائرنگ کا تبادلہ 20 منٹ سے زائد جاری رہا۔ واقعے کے بعد مقبوضہ مغربی کنارے میں سکیورٹی کی صورتِ حال اور ممکنہ فوجی کارروائی کے حوالے سے خدشات بڑھ گئے ہیں۔

ہلاک ہونے والے اسرائیلی فوجیوں کی شناخت
اسرائیلی میڈیا رپورٹس کے مطابق فائرنگ کے واقعے میں ہلاک ہونے والے فوجیوں کی شناخت 23 سالہ اسٹاف سارجنٹ رون یوناتن روئٹمین اور 20 سالہ سارجنٹ یوول شائی سویلم کے نام سے ہوئی ہے۔رپورٹس میں حملہ آوروں کی شناخت 27 سالہ محمد جعابہ اور فراس جعابہ کے طور پر بتائی گئی ہے، جن کا تعلق الخلیل سے تھا۔ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ جوابی کارروائی کے دوران دونوں مسلح افراد مارے گئے۔

اسرائیلی فوج کا حملے کی منصوبہ بندی سے متعلق دعویٰ
اسرائیلی فوج کی ابتدائی تحقیقات کے مطابق، دونوں مسلح افراد روٹ 35 پر اسرائیلی شہریوں کو نشانہ بنانے کے لیے بڑے حملے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔ فوج کے مطابق، جب وہ ہائی وے تک پہنچنے میں ناکام رہے تو انہوں نے ایک عارضی چیک پوسٹ پر فائرنگ کردی۔تاہم، حملے کی منصوبہ بندی اور اس کے مبینہ ہدف سے متعلق اسرائیلی فوج کے ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق فراہم کردہ رپورٹ میں موجود نہیں ہے۔

نیتن یاہو کا حملہ آوروں کے محلے کو تباہ کرنے کا اعلان
واقعے کے بعد اسرائیلی وزیرِ اعظم بن یامین نیتن یاہو نے وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز کے ہمراہ الخلیل کا دورہ کیا۔ اس موقع پر جاری ویڈیو بیان میں انہوں نے حملہ آوروں کے آبائی محلے کے خلاف بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی کرنے اور اسے تباہ کرنے کے ارادے کا اظہار کیا۔نیتن یاہو کے مطابق، مجوزہ کارروائی میں علاقے کے رہائشیوں کو وہاں سے نکالنا، گھر گھر تلاشی لینا، ہتھیاروں کو ہٹانا اور ان کے بقول دہشت گردانہ بنیادی ڈھانچے کو تباہ کرنا شامل ہوگا۔انہوں نے مغربی کنارے میں سڑکوں کے کنارے اجازت کے بغیر تعمیر کیے گئے گھروں کو مسمار کرنے کی بات بھی کی، تاہم اس حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔

مغربی کنارے میں بڑے فوجی آپریشن کی تیاری
اسرائیلی وزیرِ اعظم نے دعویٰ کیا کہ اسرائیلی فوج مغربی کنارے میں 1967 کے بعد کے سب سے بڑے فوجی آپریشن کی منصوبہ بندی کرچکی ہے اور اس کے آغاز کے لیے تیار ہے۔تاہم، اس مجوزہ آپریشن کے آغاز کی تاریخ، جغرافیائی حدود اور ممکنہ اہداف کے بارے میں تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔ یہ بھی واضح نہیں کیا گیا کہ کارروائی کتنے عرصے تک جاری رہ سکتی ہے۔

شہری آبادی اور گھروں کی مسماری پر خدشات
حملہ آوروں کے آبائی محلے کو تباہ کرنے اور رہائشیوں کو علاقے سے نکالنے کے اعلان کے بعد ممکنہ طور پر شہری آبادی پر پڑنے والے اثرات اہمیت اختیار کرگئے ہیں۔ بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی، گھر گھر تلاشی اور مکانات کی مسماری سے مقامی آبادی کی نقل مکانی اور رہائش کے مسائل پیدا ہونے کا خدشہ ہوسکتا ہے۔مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں اور فلسطینی علاقوں میں مکانات کی مسماری کا معاملہ طویل عرصے سے تنازع کا مرکز رہا ہے۔ ایسے اقدامات کے قانونی جواز اور شہریوں کے تحفظ سے متعلق سوالات بھی اٹھتے رہے ہیں۔