پی ٹی آئی نے سابق وزیراعلیٰ کو مذاکرات میں صوبے کا نمائندہ نامزد کرنے پر اتفاق کرلیا، پارٹی میں کوئی اختلاف نہیں : بیرسٹر گوہر

علی امین گنڈاپور   تحریک انصاف میں پھر سرگرم 
 پی ٹی آئی کی صوبائی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس ، ایمرجنسی اور گورنر راج کانفاذ غیر آئینی قرار، مرکزی سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ کے بیان اور سوشل میڈیا پیغام پر تشویش کا اظہار، چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان سے نوٹس لینے کا مطالبہ 
پشاور ( خصوصی رپورٹ) سابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کی پی ٹی آئی کی پارلیمانی سیاست میں واپسی ہو گئی ہے اور وہ پھر سرگرم ہو گئے ہیں ،پاکستان تحریک انصاف نے سابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کو مرکزی مذاکراتی عمل میں صوبے کا نمائندہ نامزد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ پی ٹی آئی کی صوبائی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کے بعد جاری اعلامیے کے مطابق یہ فیصلہ اکثریتی اراکین کی رائے سے کیا گیا۔ اعلامیے میں واضح کیا گیا کہ سہیل آفریدی وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا اور جنید اکبر پارٹی کے صوبائی صدر ہیں، جبکہ گزشتہ اجلاس میں دونوں عہدوں پر تبدیلی سے متعلق کوئی بات نہیں ہوئی تھی۔ پارلیمانی پارٹی نے مرکزی سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ کے بیان اور سوشل میڈیا پیغام پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان سے نوٹس لینے، جبکہ سلمان اکرم راجہ سے بیان واپس لینے اور معذرت کرنے کا مطالبہ کیا۔ اعلامیے میں صوبے میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے مبینہ نفاذ کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے پارٹی رہنمائوں اور کارکنوں کی گرفتاریوں اور مبینہ اغوا پر بھی تشویش ظاہر کی گئی۔ پارٹی نے عمران خان، ان کی اہلیہ اور دیگر گرفتار رہنمائوں کی رہائی کے لیے آئین و قانون کے دائرے میں مئوثر احتجاجی حکمت عملی اپنانے، نئے انتظامی ڈھانچے کو واپس لینے اور دیگر سیاسی جماعتوں کے ساتھ مل کر جدوجہد جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔دوسری طرف بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی میں کوئی اختلاف نہیں۔