سمیع اللہ ملک (آخری قسط)
یہ بھی قیاس کیاجارہاہے کہ ایلون مسک اورٹرمپ کے درمیان قریبی تعلقات کی وجہ2021میں ٹرمپ کے ٹویٹراکانٹ کی بحالی سے شروع ہوئے اوربعدازاں مسک نے ٹرمپ کی انتخابی مہم میں15ملین ڈالرکاعطیہ بھی دیا۔ٹرمپ کی ممکنہ انتخابی کامیابی سے مسک کوحکومتی پالیسیوں میں زیادہ اثرورسوخ حاصل ہوگیااورٹرمپ کی کامیابی میں ایلون مسک کے اس تعاون کی بناپراسے کابینہ کابھی حصہ بنالیاگیااوراہم حکومتی ادارہ اس کے سپردکیاگیا۔ٹرمپ پالیسیوں سے ہم آہنگی کی بنیادپرایلون مسک کی کمپنیوں کوکارپوریٹ ٹیکس میں35فیصد کی کمی کی بناپر7سوملین ڈالرتک کی چھوٹ مل گئی ہے اوریہ بھی توقع کی جارہی ہے کہ ناسا کے خلائی پروگرام میں بھی مسک کی کمپنی کو3بلین ڈالرکے قریب کنٹریکٹ مل سکتے ہیں۔ مسک کی طاقت کااندازہ اس بات سے بھی لگایاجاسکتاہے کہ ٹرمپ کی انتخابی مہم کیلئے سوشل میڈیامہم کی قیادت جس بھرپوراندازمیں مسک نے کی ہے،اس کے پیشِ نظراسپیس ایکس کو2030تک ’’مارس مشن‘‘میں مریخ پرکالونی بنانے کاٹاسک بھی ملنے کی توقع ہے۔مسک کی کمپنیوں کوحکومتی معاہدوں اورسبسڈی کے ذریعے زیادہ مزیدمراعات ملنے کابھی
امکان ہے۔
ادھر حال ہی میں مسک اپنی کمپنی ٹیسلاکے ملازمین اپنے ایک ای میل پیغام میں لکھاہے کہ’’گزشتہ ہفتے کتناکام کیا؟ہفتے میں کم ازکم40گھنٹے دفترمیں گزارو،ورنہ استعفٰی سمجھاجائے گا‘‘۔جس پرلیبر یونین نے اسے ملازمین کے حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے شدیدتنقیدکانشانہ بنایاہے اورحکومتی ملازمین کے ساتھ ایک کشمکش کادورشروع ہوگیاہے ۔ دوسری طرف ایک رپورٹ کے مطابق ایلون مسک کی تمام سرگرمیوں کی معلومات ٹرمپ کودی جاتی ہیں جس کے بعدتوقع کی جارہی ہے کہ ایلون مسک کے اختیارات میں کمی آسکتی ہے۔
یادرہے کہ آج سے40سال قبل جاپانی مصنوعات بالخصوص آٹوموبیل کاروں(ٹویوٹا،ہنڈا)اورالیکٹرانکس(سونی)نے امریکا کی مارکیٹ پرقبضہ کرلیاتھاجس سے امریکاکو 50 بلین ڈالرکاتجارتی خسارہ ہوتاتھا۔تجارتی خسارے نے امریکاکومجبورکیاتھاکہ وہ اگریسوٹریڈپالیسیزاپنائے۔امریکانے جاپان کوغیرمنصفانہ تجارتی شرائط کاذمہ دارٹھہراتے ہوئے 25 %ٹیرف عائدکردیاتھا۔جس کے جواب میں1980کی دہائی میں امریکانے سٹیل اورایلومینیم پر25فیصدٹیرف بڑھادیاجس کے جواب میں جاپان نے ڈھائی فیصدٹیرف بڑھایاتاہم اس سے امریکاکو2018بلین ڈالرکے اضافی ٹیکس کافائدہ ہوا۔
اسی طرح ٹرمپ کی طرف سے جاپان کی طرح چینی مصنوعات پرٹیرف بڑھانے کانعرہ لگایاگیا اورحال ہی میں چینی مصنوعات پر10%ٹیرف بڑھانے کااعلان کیاگیاجس کے جواب میں چین نے بھی امریکی مصنوعات پر10%ٹیرف بڑھادیاہے۔ٹرمپ موجودہ دورمیں چین کونیاجاپان قراردیتے ہوئے چینی ٹیکنالوجی پرٹیرف میں اضافہ کرکے وہی مقاصد حاصل کرناچاہتے ہیں لیکن چین نے ردعمل کے طورپرامریکی مصنوعات پربھی اتناہی ٹیرف بڑھانے کااعلان کیاہے جس قدرامریکاچینی مصنوعات پرٹیرف بڑھائے گا۔
یہ حقیقت بھی سامنے آئی ہے کہ چین اورروس نے عالمی مارکیٹ سے بھاری تعدادمیں سوناخریدکراپنے ذخائرمیں کافی اضافہ کر لیاہے اورروسی صدپیوٹن نے2023میں سونے کے ذخائرمیں اضافہ کی بنیادپرمشترکہ کرنسی کااعلان بھی کردیاہے اورماہرین یہ توقع کررہے ہیں کہ2025تک برکس کرنسی کاخاکہ پیش کیاجاسکتاہے،اورڈالرکی بالادستی برقرار رہنے کاامکان متزلزل ہوسکتاہے۔ ڈالرکے متبادل کی حقیقت اس وقت سامنے آئی کہ چین جلدہی اپنی کرنسی یوآن کوعالمی کرنسی بنانے کی کوشش کرنے والاہے اور چین نے19 ممالک کے ساتھ یوآن میں تجارتی معاہدوں کاآغازکردیاہے۔
2023تک یوآن کاعالمی تجارت میں3حصہ دیکھنے میں آیاہے لیکن اس کے باوجودماہرین کاکہناہے کہ فی الحال ڈالرکے متبادل چین اورروس کی طرف سے یوآن کوبطورعالمی کرنسی متعارف کرانے سے معاشی اہداف مکمل طورپرحاصل نہیں ہوسکتے اور یہی وجہ ہے کہ امریکانے سوئفٹ سسٹم کوتبدیل کرنے کی ہرکوشش کواپنے خلاف معاشی جنگ قرار دیاہے۔ادھرٹرمپ نے ڈالرکی بالا دستی قائم رکھنے کیلئے برکس ممالک(برازیل،روس،بھارت،چین،جنوبی افریقا)کومتنبہ کیاہے کہ ڈالرکے متبادل کی کوششیں امریکاکے خلاف جنگ تصورکی جائیں گی۔ تاہم امریکاخطے میں بھارت کوچین اورپاکستان کے ساتھ سرحدی اورسیاسی تنازعات کی وجہ سے استعمال کررہاہے اورچین کی تجارتی ناکہ بندی کیلئے’’ کواڈ ‘‘ جیسے اتحادپربھی سرگرم ہے لیکن اب امریکی تجارتی ماہرین بھی سمجھ گئے ہیں کہ انہوں نے بھارت جیسے لنگڑے گھوڑے پربھروسہ کرکے کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوالیکن اس کے مقابلے میں بھارت بے شمار فوائدسمیٹ چکا ہے۔
اس وقت عالمی منڈی کے حالیہ اعدادوشمارکے مطابق عالمی ریزرومیں ڈالرکا59فیصدجبکہ یوآن کا28فیصدحصہ ہے۔امریکانے اپنے سوفٹ سسٹم کوبہتربنانے کیلئے مزید1.3 بلین ڈالرمختص کئے ہیں تاکہ عالمی طورپرڈالرکی بالادستی قائم رہے جبکہ برکس کی مشترکہ کرنسی کے اجرا میں حائل مزید رکاوٹیں ابھی باقی ہیں۔
ٹرمپ کی جانب سے وی اواے کی فنڈنگ روکنے کافیصلہ ایک انتہائی اہم اورمتنازع اقدام ہے،جس کے سیاسی اورسفارتی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔وی اواے کی بندش پرعالمی ردعمل اورمستقبل کے امکانات پرایک نئی بحث کاآغازہوگیاہے جس پرمیڈیاماہرین کاکہناہے کہ ٹرمپ کے اقدامات نے ایک طرف میڈیاکی آزادی کومجروح کیاہے،تودوسری طرف اس سے نہ صرف امریکی میڈیا کی غیرجانبداری پرسوالات اٹھیں گے بلکہ عالمی سطح پرامریکی اثرورسوخ پربھی گہرااثرپڑسکتاہے۔یہ معاملہ اس بات کاعکاس ہے کہ امریکامیں
میڈیا اورحکومت کے تعلقات کس حدتک سیاسی رنگ اختیارکرچکے ہیں۔مستقبل میں،اس فیصلے کے اثرات دور رس ہوسکتے ہیں،خاص طورپراس حوالے سے کہ کس طرح سرکاری میڈیاکوحکومتی پالیسیوں سے آزادرکھاجائے۔
وی اواے کے متعلق مجوزہ صدارتی حکم پرعالمی طورپرامریکی ثقافتی اثرورسوخ کافی کمزورہوجائے گااوریقینا بی بی سی اوردیگرعالمی ادارے اس خلاکوپرکرنے کی کوششیں تیزکردیں گے۔ٹرمپ کے اقدامات نے نہ صرف میڈیا کی آزادی پرسوالات کھڑے کیے ہیں بلکہ ایلون مسک جیسی شخصیات کوبے پناہ طاقت دی ہے۔جاپان کے تاریخی تجربات اوربرکس کی کوششیں ظاہر کرتی ہیں کہ معاشی اورثقافتی جنگ کانیادورشروع ہوچکاہے۔آنے والے سالوں میں یہ تنازعات امریکاکی عالمی قیادت کیلئے فیصلہ کن ثابت ہوں گے اوریہ بھی ممکن ہے کہ جاری امریکی پالیسیاں زوال کے عرصے کومختصرکردیں۔تاریخ سے بھی ثابت ہے کہ ہرعروج کوزوال ہے۔