دنیا کے ارب پتی کاروباری شخصیت ایلون مسک نے اگلے سال امریکہ میں ہر بچے کو اپنی خلائی کمپنی اسپیس ایکس کے حصص دینے کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔
ان کے اس اعلان کے مطابق مجوزہ منصوبے میں تقریباً 7 کروڑ 20 لاکھ بچوں کو شامل کیا جا سکتا ہے، جبکہ تقسیم کیے جانے والے حصص کی مجموعی مالیت تقریباً 10.5 ارب ڈالر ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ایلون مسک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ وہ اگلے سال اپنے اسپیس ایکس کے حصص میں سے ایک حصہ امریکہ کے ہر بچے کو دیں گے۔ تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ اس منصوبے پر عمل درآمد کس طرح ہوگا، بچوں کی اہلیت کا معیار کیا ہوگا اور ہر بچے کو کتنے حصص دیے جائیں گے۔
تقریباً 72 ملین بچوں کو فائدہ پہنچنے کا امکان
دستیاب تخمینے کے مطابق، اگر ایلون مسک کا منصوبہ امریکہ کے تمام بچوں کا احاطہ کرتا ہے تو اس سے تقریباً 72 ملین، یعنی 7 کروڑ 20 لاکھ بچے مستفید ہو سکتے ہیں۔اسپیس ایکس کے حصص کی موجودہ تخمینی قیمت کے حساب سے اس اسکیم کے تحت تقسیم کیے جانے والے حصص کی مالیت تقریباً 10.5 ارب ڈالر بتائی جا رہی ہے۔ تاہم یہ رقم ایک تخمینہ ہے اور حصص کی قیمت، تقسیم کے طریقۂ کار اور مستفید ہونے والے بچوں کی حتمی تعداد کے مطابق اس میں تبدیلی ممکن ہے۔ابھی یہ بھی واضح نہیں کہ ہر بچے کو یکساں تعداد میں حصص ملیں گے یا اس حوالے سے کوئی الگ طریقہ اختیار کیا جائے گا۔ اسی طرح یہ سوال بھی موجود ہے کہ اسکیم میں صرف امریکی شہری بچوں کو شامل کیا جائے گا یا امریکہ میں مقیم دیگر بچوں کو بھی اس کا حصہ بنایا جائے گا۔
اسپیس ایکس دنیا کی اہم نجی خلائی کمپنیوں میں شامل
ایلون مسک نے اسپیس ایکس کی بنیاد 2002 میں رکھی تھی۔ یہ کمپنی خلائی تحقیق، راکٹ لانچ کرنے اور خلائی جہازوں کی تیاری کے شعبوں میں کام کرتی ہے اور دنیا کی قیمتی ترین نجی کمپنیوں میں شمار ہوتی ہے۔اسپیس ایکس کی نمایاں خدمات میں اسٹارلنک سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروس بھی شامل ہے، جو زمین کے مدار میں موجود سیٹلائٹس کے ذریعے مختلف علاقوں میں انٹرنیٹ کی سہولت فراہم کرتی ہے۔ کمپنی راکٹوں اور خلائی جہازوں کے پروگراموں کے ذریعے خلائی مشنز اور تجارتی خلائی سرگرمیوں میں بھی اہم کردار ادا کر رہی ہے۔کمپنی کی ترقی اور اس کے خلائی منصوبوں نے اسپیس ایکس کو عالمی ٹیکنالوجی اور خلائی صنعت میں نمایاں مقام دلایا ہے۔
حصص کی تقسیم کیسے ہوگی؟
ایلون مسک کے اعلان کے بعد سب سے اہم سوال اس منصوبے کے عملی طریقۂ کار سے متعلق ہے۔ چونکہ اسپیس ایکس ایک نجی کمپنی ہے، اس لیے اس کے حصص عام اسٹاک مارکیٹ میں درج کمپنیوں کے حصص کی طرح معمول کے مطابق دستیاب نہیں ہوتے۔اگر لاکھوں بچوں کو کمپنی کی ملکیت میں حصہ دیا جاتا ہے تو اس کے لیے حصص کی منتقلی، ملکیت کی رجسٹریشن اور قانونی و مالیاتی معاملات کے انتظام کی ضرورت ہوگی۔یہ بھی واضح ہونا باقی ہے کہ نابالغ بچوں کے حصص ان کے اپنے نام پر ہوں گے یا والدین اور قانونی سرپرستوں کے ذریعے ان کا انتظام کیا جائے گا۔ اسی طرح حصص کی فروخت، ممکنہ منافع اور مستقبل میں ان کی مالیت سے متعلق شرائط بھی سامنے نہیں آئی ہیں۔
کیا یہ منصوبہ حتمی شکل اختیار کرچکا ہے؟
فی الحال ایلون مسک کے بیان سے ان کا ارادہ سامنے آیا ہے، تاہم دستیاب معلومات میں اسکیم کے باضابطہ قواعد، اہلیت کے معیار اور عمل درآمد کی تفصیلات شامل نہیں ہیں۔تقریباً 10.5 ارب ڈالر کی مالیت کو بھی تخمینہ سمجھنا چاہیے، نہ کہ حتمی طور پر مختص کی گئی رقم۔ اصل مالیت کا تعین اس وقت ممکن ہوگا جب یہ واضح ہوجائے کہ کتنے بچوں کو شامل کیا جائے گا اور ہر بچے کو کتنے حصص دیے جائیں گے۔