پاکستان کی ڈیجیٹل کری ایٹر، ٹک ٹاک اسٹار اور انسٹاگرام انفلوئنسر سامعہ حجاب نے عمرے کے سفر کو اپنی زندگی کا اہم موڑ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ سے قربت نے ان کی زندگی پر مثبت اثرات مرتب کیے۔
انہوں نے اپنی زندگی کے مشکل دور، تنہائی اور ذہنی دباؤ کا ذکر کرتے ہوئے لوگوں پر زور دیا کہ وہ دوسروں کے ساتھ نرمی، ہمدردی اور مہربانی سے پیش آئیں۔حال ہی میں ایک پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے سامعہ حجاب نے اپنے عمرے کے تجربات شیئر کیے اور بتایا کہ کس طرح تنہائی اور پریشانی کے دوران انہوں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی، جس کے بعد انہیں عمرے کی سعادت نصیب ہوئی۔
دبئی میں چھ ماہ تنہائی کی زندگی گزاری
سامعہ حجاب نے بتایا کہ وہ دبئی میں اکیلی تھیں اور تقریباً چھ ماہ تک اپنے اپارٹمنٹ میں تنہائی کی زندگی گزارتی رہیں۔ اس دوران وہ سوشل میڈیا استعمال کرتی تھیں اور ٹک ٹاک پر لائیو سیشنز بھی کرتی تھیں۔ان کے مطابق وقت گزرنے کے ساتھ جب جنگیں شروع ہوئیں تو وہ شدید ذہنی دباؤ اور افسردگی کا شکار ہوگئیں۔ اس مشکل وقت میں ان کے پاس کوئی قریبی شخص موجود نہیں تھا، جس کے ساتھ وہ اپنے احساسات شیئر کر سکتیں۔سامعہ حجاب کا کہنا تھا کہ انہوں نے اس دوران اللہ تعالیٰ سے دعا کی، جس کے بعد انہیں عمرے کی سعادت حاصل ہوئی۔ ان کے مطابق یہ سفر ان کی زندگی میں مثبت تبدیلی کا سبب بنا اور انہیں روحانی طور پر سکون محسوس ہوا۔
والدہ اور بھائی کے ساتھ عمرہ زندگی کی بڑی خوشی قرار
سامعہ حجاب نے اپنے عمرے کے سفر کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنی والدہ اور بھائی کے ساتھ عمرہ ادا کیا، جو ان کے لیے انتہائی خوشگوار اور یادگار تجربہ تھا۔انہوں نے بتایا کہ مکہ مکرمہ میں ایک ایسا لمحہ آیا جب وہ اپنی والدہ اور بھائی کے ہاتھ تھامے ہوئے تھیں۔ ان کے بقول، اس لمحے کے بعد انہیں محسوس ہوا کہ ان کی زندگی میں بہت کچھ بدل گیا ہے۔سامعہ حجاب نے اپنی والدہ کو عمرہ کروانے کو زندگی کی اہم کامیابیوں میں سے ایک قرار دیا۔ ان کے مطابق والدہ کے ساتھ اس مقدس سفر کی سعادت حاصل کرنا ان کے لیے ناقابلِ فراموش تجربہ تھا۔
ریاض الجنہ میں مداحوں سے ملاقات پر آبدیدہ ہوگئیں
سامعہ حجاب نے مدینہ منورہ میں ریاض الجنہ کے دورے کا ذکر کرتے ہوئے ایک جذباتی واقعہ بھی بیان کیا۔انہوں نے بتایا کہ جب وہ ریاض الجنہ میں بیٹھ کر دعا کر رہی تھیں تو وہاں موجود ان کے بعض مداحوں نے انہیں پہچان لیا اور ان سے لپٹ گئیں۔سامعہ حجاب کے مطابق مداحوں کو گلے لگاتے ہوئے وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگیں، کیونکہ اس وقت وہ اپنی زندگی کے انتہائی مشکل دور سے گزر رہی تھیں۔ان کے بقول، یہ ملاقات ان کے لیے جذباتی طور پر بہت اہم تھی۔ اس واقعے نے انہیں احساس دلایا کہ بظاہر خوش دکھائی دینے والے افراد بھی اندرونی طور پر مشکلات اور پریشانیوں کا سامنا کر سکتے ہیں۔
سوشل میڈیا شخصیات کے ساتھ بھی ہمدردی کریں
پروگرام کے دوران سامعہ حجاب نے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ دوسروں کے ساتھ نرمی اور مہربانی سے پیش آئیں، خصوصاً ان افراد کے ساتھ جو ذہنی دباؤ یا افسردگی کا شکار ہوں۔انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پر مشہور شخصیات کو عموماً اچھے لباس اور خوشگوار انداز میں دیکھا جاتا ہے، لیکن لوگوں کو معلوم نہیں ہوتا کہ ان کی نجی زندگی میں کیا مشکلات چل رہی ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ کسی شخص کی ظاہری مسکراہٹ یا سوشل میڈیا پر خوشگوار تصاویر اس بات کی ضمانت نہیں کہ وہ حقیقی زندگی میں بھی مطمئن اور خوش ہو۔ اس لیے کسی کے حالات جانے بغیر اس پر تنقید کرنے یا اس کا مذاق اڑانے سے گریز کرنا چاہیے۔
آن لائن تنقید اور تضحیک کے منفی اثرات
سامعہ حجاب نے سوشل میڈیا پر ہونے والی تضحیک، سخت تنقید اور منفی تبصروں کے انسانی زندگی پر ممکنہ اثرات کی جانب توجہ دلائی۔ انہوں نے کہا کہ ذہنی دباؤ کا سامنا کرنے والے افراد کو تنقید کے بجائے تعاون اور ہمدردی کی ضرورت ہوتی ہے۔انہوں نے عامر لیاقت حسین اور حمیرا اصغر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں اپنے دوستوں، جاننے والوں اور دیگر افراد کے ساتھ ہمدردی سے پیش آنا چاہیے، خاص طور پر اس وقت جب وہ کسی مشکل صورتِ حال سے گزر رہے ہوں۔سامعہ حجاب کا پیغام تھا کہ سوشل میڈیا کو دوسروں کی تضحیک اور کردار کشی کا ذریعہ بنانے کے بجائے ایک ایسا پلیٹ فارم ہونا چاہیے جہاں لوگوں کو حوصلہ دیا جائے اور مثبت رویوں کو فروغ ملے۔
سامعہ حجاب کا اہم پیغام
سامعہ حجاب کی گفتگو کا مرکزی پیغام یہ تھا کہ زندگی میں بظاہر کامیاب نظر آنے والے افراد بھی تنہائی، ذہنی دباؤ اور ذاتی مشکلات کا سامنا کر سکتے ہیں۔ ایسے میں دوسروں کے لیے ہمدردی، احترام اور مہربانی کا مظاہرہ کرنا انتہائی ضروری ہے۔ان کے مطابق عمرے کا سفر ان کی زندگی میں ایک یادگار تجربہ ثابت ہوا، جس نے انہیں اللہ تعالیٰ سے قربت اور اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ گزارے گئے لمحات کی اہمیت کا احساس دلایا۔