نیتن یاہو امریکا کو دوبارہ ایران کے ساتھ جنگ میں دھکیلنا چاہتا ہے، عباس عراقچی

نیتن یاہو امریکا کو دوبارہ ایران کے ساتھ جنگ میں دھکیلنا چاہتا ہے، عباس عراقچی

تہران: ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے الزام عائد کیا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو امریکا کو ایک بار پھر ایران کے ساتھ جنگ میں دھکیلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

 ان کا کہنا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کو ایران کے خلاف کسی بھی نئی فوجی کارروائی سے قبل محتاط رہنا ہوگا، کیونکہ ایران پہلے سے زیادہ مضبوط ہوکر ابھرا ہے۔اپنے بیان میں عباس عراقچی نے کہا کہ اگر امریکا اور اسرائیل دوبارہ ایرانی قوم کو آزمانا چاہتے ہیں تو ایسا کرسکتے ہیں، تاہم انہیں اس مرتبہ اپنے فیصلوں اور ممکنہ نتائج کے حوالے سے زیادہ احتیاط برتنا ہوگی۔

ایران کو کمزور کرنے کی کوشش ناکام ہوئی، عراقچی کا دعویٰ
ایرانی وزیر خارجہ نے دعویٰ کیا کہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کا مقصد ایران کو ختم کرنا تھا، لیکن تہران ان کارروائیوں کے باوجود مضبوط ہوکر سامنے آیا ہے۔عباس عراقچی کے مطابق ایران نے جنگ کے دوران دباؤ کا مقابلہ کیا اور اب کسی بھی ممکنہ نئے خطرے سے نمٹنے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے اپنے بیان میں امریکا اور اسرائیل کو خبردار کیا کہ ایران کے خلاف دوبارہ فوجی کارروائی کے نتائج کو نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے۔تاہم ایرانی وزیر خارجہ کے ان بیانات اور جنگ کے نتائج سے متعلق دعوؤں کی آزادانہ تصدیق فراہم کردہ معلومات میں موجود نہیں۔

نیتن یاہو پر امریکا کو جنگ میں شامل کرنے کی کوشش کا الزام
عباس عراقچی نے اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو پر الزام لگایا کہ وہ امریکا کو دوبارہ ایران کے ساتھ فوجی تصادم کی طرف لے جانا چاہتے ہیں۔ان کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ تہران اسرائیل کی پالیسیوں اور واشنگٹن کے ممکنہ فیصلوں کو اپنی سلامتی کے لیے اہم سمجھتا ہے۔ ایران کا مؤقف ہے کہ کسی بھی نئی فوجی کارروائی سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے۔دوسری جانب اسرائیل اور امریکا کے ایران سے متعلق مؤقف، سکیورٹی خدشات اور ممکنہ اقدامات خطے کی صورتِ حال پر اثرانداز ہوسکتے ہیں۔ تاہم نیتن یاہو کی جانب سے ایران کے خلاف دوبارہ جنگ شروع کرانے کی کوشش کے الزام کی تصدیق کے لیے ان کا مؤقف یا مزید آزاد ذرائع درکار ہیں۔

مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی بڑھنے کے خدشات
عباس عراقچی کے بیان کے بعد ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔ کسی بھی نئی فوجی کارروائی کے نتیجے میں خطے کی سلامتی، سفارتی تعلقات اور اقتصادی سرگرمیوں پر اثرات مرتب ہونے کا خدشہ موجود ہے۔ایران کی جانب سے سخت بیانات اور اسرائیل کے بارے میں الزامات کے باوجود مستقبل کی صورتِ حال کا انحصار متعلقہ ممالک کے عملی اقدامات اور سفارتی رابطوں پر ہوگا۔