فعال ڈیجیٹل ادائیگی مراکز 20 لاکھ 30 ہزار، صارفین کی تعداد 13 کروڑ 70 لاکھ ہو گئی
اسلام آباد ( خصوصی رپورٹ ) کیش لیس پاکستان پروگرام کے تحت سرکاری ادائیگیوں کی ڈیجیٹل منتقلی کا ہدف دسمبر 2026 مقرر کیا گیا ہے۔ حکومت کے اس اقدام کے تحت ملک میں ڈیجیٹل ادائیگیوں کے فروغ اور سرکاری مالیاتی معاملات کو مکمل طور پر آن لائن منتقل کرنے کے لیے پیش رفت جاری ہے۔ اس قومی پروگرام کا مقصد ڈیجیٹل سہولیات سے استفادہ کرنے والی معیشت کو فروغ دینا اور نقدی کے استعمال میں کمی لانا ہے۔دستیاب دستاویزات کے مطابق جون 2026 تک پروگرام کے چار اہم کارکردگی اشاریوں میں نمایاں پیش رفت ریکارڈ کی گئی۔کیو آر کوڈز سمیت فعال ڈیجیٹل کامرس ادائیگی مراکز کی تعداد کا بنیادی ہدف 5 لاکھ مقرر کیا گیا تھا جبکہ یہ تعداد بڑھ کر 20 لاکھ 30 ہزار فعال تاجروں تک پہنچ گئی۔موبائل، انٹرنیٹ ایپس اور ڈیجیٹل بینکنگ کے صارفین کے لیے 9 کروڑ 50 لاکھ کا ہدف مقرر کیا گیا تھا تاہم صارفین کی تعداد 13 کروڑ 70 لاکھ تک پہنچ گئی۔ڈیجیٹل لین دین کی مالیت کا بنیادی ہدف 6.9 ارب روپے مقرر تھا، تاہم اس کا حجم بڑھ کر 11.9 ارب روپے ہوگیا۔ اسی طرح بینک کھاتوں اور والیٹس میں براہ راست وصول ہونے والی ترسیلاتِ زر کے لیے 80 فیصد کا ہدف مقرر کیا گیا تھا جس کے مقابلے میں 92 فیصد کامیابی حاصل ہوئی۔