دانش سکول میں میرے تعصب پر مبنی خدشات دور ہوگئے: عرفان اللہ

میرا تعلق بلوچستان سے ہے،والد کم عمری میں  انتقال کرگئے‘دانش سکول میں پڑھنے کاموقع ملا:اے ایس پی 
 دانش سکول میں تعلیم حاصل کی‘اب  پنجاب سیف سٹی اتھارٹی میں کمیونیکیشن افسر ہوں:امانت علی
دانش سکول میں داخلے سے پہلے اتوار کو کباڑ اکٹھا کرکے  تعلیمی اخراجات پورے  کرتا تھا:زاہد گل
اسلام آباد(آن لائن)دانش اسکول سے فارغ التحصیل اے ایس پی عرفان اللہ نے بتایا کہ میرا تعلق بلوچستان سے ہے،والد محترم میری کم عمری میں ہی انتقال کرگئے،میں نے دانش اسکول ڈیرہ غازی خان میں 2013 میں داخلہ لیا،معاشی مشکلات کی وجہ سے تعلیم جاری رکھنا مشکل تھا،اے ایس پی عرفان اللہ نے کہا  وزیراعظم کے وژن دانش سکول میں پڑھنے کا موقع ملا، دانش اسکول میں محبت، مساوات اور اپنائیت کے ماحول سے میرے تعصب پر مبنی خدشات دور ہوگئے،وزیراعظم کے اس اقدام کی وجہ سے میراطرزفکر تبدیل ہوا،ہم سب سے پہلے پاکستانی ہیں‘دانش اسکول سے  فارغ التحصیل ہونہارنوجوان امانت علی نے بتایاکہ تعلیم حاصل کرکے پنجاب سیف سٹی اتھارٹی میں کمیونیکیشن آفیسرہوں، میرے والد محترم رکشہ چلاتے تھے اور ہمارے تعلیمی اخراجات برداشت نہیں کرسکتے تھے، مجھے دانش اسکول نے ایک تناور درخت بنایا،میں وزیراعظم کے بنائے ہوئے دانش سکول سے تعلیم حاصل کی،امانت علی  نے کہا کہ میری کامیابیاں وزیراعظم شہباز شریف کی مرہون منت ہیں،مجھے اعلیٰ تعلیم کے لئے پیف سکالرشپ اور لیپ ٹاپ ملا،تعلیم حاصل کرنے کے بعد میرٹ کی بنیاد پر ملازمت ملی،وزیراعظم شہباز شریف کے بنائے ہوئے دانش اسکول میں غریب کا بچہ بھی معیاری تعلیم حاصل کرسکتا ہے۔دانش اسکول اسلام آباد کے طالب علم زاہد گل نے کہاکہ جب میں اپنے  ماضی کا موجودہ حالات سے موازنہ کرتا ہوں تو میری آنکھوں میں آنسو آجاتے ہیں جس پر وزیراعظم محمد شہباز شریف نے طالب علم زاہد گل کوگلے لگا کر دلجوئی کی۔دانش اسکول اسلام آباد کے طالب علم زاہد گل نے کہاکہاسکول میں داخلہ ملنے پر خوشی ہے، اسکول میں معیاری تعلیم کے ساتھ،سائنس لیبارٹریزاور سپورٹس سمیت دیگر سہولتیں میسر ہیں،  کرم ایجنسی میں ایک پرائیویٹ اسکول میں پڑھتا تھا،جہاں فیس ادا کرنامشکل تھا، میرے والد محترم بررگ ہیں اور کمائی کا کوئی دوسرا ذریعہ نہیں، میرا بھائی لوگوں کی بھیڑ بکریاں چراتا ہے، میں اتوار کو کباڑ اکٹھا کرکے فروخت کرتا اور اپنے تعلیمی اخراجات برداشت کرتا تھا، میں اپنی جماعت میں پوزیشن لینے والا طالب تھا، میں نے دانش اسکول اسلام آباد میں ٹیسٹ دیا اور میرٹ کی بنیاد پر داخلہ ملا، زاہد گل نے کہا کہ مجھے تعلیم حاصل کرنے کا بے حد شوق ہے،  طالبہ ایمن علی گل نے بتایاکہ میرے باباکہاکرتے تھے کہ بیٹا کچھ کرکے دکھانا،کچھ بن کے دکھانا ہے، سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے میں دلبرداشتہ ہوتی تھی، دانش اسکول میں داخلہ ملنے پر میرے بابا کے چہرے پر خوشی تھی، ایمن علی نے کہا کہ دانش اسکول کو دیکھ کر مجھے لگا کہ مجھے میرے بابا کے خواب کی تعبیر مل گئی ہے، آج اتنے بڑے سٹیج پر پہنچ کر میری خوشی کی انتہانہیں،وزیراعظم آپ کا شکریہ، تقریب میں موجود سب بچے بلا تفریق پاکستانی ہیں، بچوں کی کہانیاں سن کر وزیراعظم سمیت شرکاء آبدیدہ ہوگئے ۔ وزیراعظم نے ایمن گل کے سر پر دست شفقت رکھا۔