مولانا فضل الرحمان کو جلد احساس ہوگا ان کا فیصلہ ٹھیک نہیں:رانا تنویر

فضل الرحمان کے اپنے گھر اور ڈیرہ غازی خان میں بھی دہشتگردی کے واقعات پیش آتے ہیں
کچھ لوگ  ذاتی مفادات کے باعث خیبرپختونخوا میں امن قائم ہوتا نہیں دیکھنا چاہتے:میڈیا سے گفتگو 
مریدکے (آئی این پی )وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین نے کہا ہے  مولانا فضل الرحمان کو جلد احساس ہوگا کہ ان کا فیصلہ ملک و قوم کے حق میں نہیں، پی ٹی آئی نے دہشتگردوں کو جیلوں سے چھڑا کر خیبرپختونخوا میں آباد کیا، جس کے نتائج آج سامنے آ رہے ہیں۔اپنے آبائی حلقے میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے رانا تنویر حسین   نے کہا  کہ نواز شریف نے درست کہا کہ خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی بہت پہلے نافذ کر دینی چاہیے تھی، اگر بروقت ایمرجنسی نافذ کر دی جاتی تو دہشتگردوں کی جانب سے اتنا نقصان نہ اٹھانا پڑتا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ گزشتہ 13 سال سے خیبرپختونخوا میں دہشتگردی کے خاتمے کے لیے کچھ نہیں کیا گیا، اگر 13 سال پہلے ہی صوبے میں ایمرجنسی نافذ کر دی جاتی تو آج حالات بہت بہتر ہوتے۔وفاقی وزیر نے دعویٰ کیا کہ سہیل آفریدی کی دو سالہ حکومت میں خیبرپختونخوا میں دہشتگردی کے واقعات کی تعداد 2700 سے بڑھ کر 9000 تک پہنچ گئی، جو انتہائی تشویشناک ہے، کہ گزشتہ دو سال کے دوران صوبے میں دہشتگردی کو جس طرح سپورٹ اور پروموٹ کیا گیا، وہ سب کے سامنے ہے۔رانا تنویر حسین نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی نے دہشتگردوں کو جیلوں سے چھڑا کر خیبرپختونخوا میں آباد کیا، جس کے نتائج آج سامنے آ رہے ہیں، صوبے میں دہشتگردی کے خلاف کارروائیوں سے گورننس بہتر ہوئی، امن بحال ہوا اور عوام نے سکھ کا سانس لیا، کچھ لوگ اپنے ذاتی مفادات کے باعث خیبرپختونخوا میں امن قائم ہوتا نہیں دیکھنا چاہتے