وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی زیر صدارت وزارت داخلہ کا خصوصی اجلاس ہوا جس میں وزارت کے تمام ذیلی اداروں کے سربراہان اور متعلقہ اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
اجلاس میں اداروں کے درمیان کوآرڈینیشن بڑھانے، سروس ڈلیوری میں بہتری اور عوامی فلاح کے لیے اقدامات تیز کرنے پر اتفاق کیا گیا۔اجلاس میں وفاقی وزارت داخلہ کے تمام ذیلی اداروں کے درمیان مؤثر ہم آہنگی کو ناگزیر قرار دیا گیا۔ وزیر داخلہ محسن نقوی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اداروں کے درمیان تعاون کی کمی موجود ہے جسے ہنگامی بنیادوں پر بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ اُنہوں نے ہدایت دی کہ سروس ڈلیوری میں بہتری اور ادارہ جاتی کارکردگی کو مؤثر بنانے کے لیے تین دن کے اندر ایک جامع اور قابل عمل پلان پیش کیا جائے۔محسن نقوی نے تمام اداروں کو ہدایت کی کہ وہ قواعد و ضوابط میں ممکنہ تبدیلیوں اور اصلاحات کے حوالے سے اپنی سفارشات مرتب کریں اور وفاقی سیکرٹری داخلہ کو حتمی پلان پیش کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ہر ادارے کو اپنی ضروریات اور دستیاب وسائل کی تفصیلات وضع کرنی ہوں گی، اور دوسرے اداروں کے ساتھ تعاون کے لیے عملی لائحہ عمل تیار کرنا ہوگا۔انہوں نے زور دیا کہ اداروں کے درمیان مربوط روابط اور اشتراک عمل سے ہی عوام کو براہ راست فائدہ پہنچے گا، اور ایک دوسرے کی صلاحیتوں سے استفادہ کرتے ہوئے ادارہ جاتی استعداد میں خاطر خواہ اضافہ ممکن ہوگا۔
خصوصی اجلاس میں وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری، سیکرٹری داخلہ، ایڈیشنل سیکرٹریز، ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے، کمانڈنٹ فیڈرل کانسٹیبلری، کمانڈنٹ نیشنل پولیس اکیڈمی، ڈی جی نیشنل پولیس بیورو، ڈی جی پاسپورٹ اینڈ امیگریشن، ڈی جی نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی، ڈی جی نیشنل فرانزک ایجنسی، چیف کمشنر اسلام آباد، آئی جی اسلام آباد پولیس، ڈی سی اسلام آباد، چیف آپریٹنگ آفیسر نادرا اور ڈائریکٹر اینٹی نارکوٹکس فورس نے شرکت کی۔اجلاس کے اختتام پر اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ تمام ذیلی ادارے قریبی رابطے اور تعاون کے ساتھ مستقبل کے لائحہ عمل کو حتمی شکل دیں گے تاکہ وزارت داخلہ کی کارکردگی میں عملی بہتری ممکن ہو۔