دفاع اور مخالفت میں تقاریر،نوک جھونک کیساتھ گپ شپ بھی ہوتی رہی
اسلام آباد (بیورو رپورٹ، خصوصی رپورٹ ) پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کی توثیق کے معاملے پر ایوان کا سیاسی درجہ حرارت بڑھا رہا۔ پی ٹی آئی کے ارکان دوسرے روز بھی بازوئوں پر سیاہ پٹیاں باندھ کر ایوان میں آئے۔ بدلتے موسم کے باوجود ایوان کا ماحول سیاسی گرما گرمی کی لپیٹ میں رہا۔اپوزیشن نے اس بار واک آئوٹ، بائیکاٹ اور شدید نعرے بازی سے گریز کیا تاہم ہلکی پھلکی نعرے بازی کے ذریعے احتجاج ریکارڈ کرایا۔ اپوزیشن ارکان نے تقاریر میں حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ایمرجنسی اور گورنر راج کو مسترد کیا جبکہ حکومتی اتحادی جماعتوں نے ان اقدامات کا بھرپور دفاع کیا۔حکومتی ارکان نے جوابی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن ایک فردِ واحد کی خواہشات کی پابند ہے اور خیبرپختونخوا کی حکومت وزیراعلیٰ نہیں بلکہ بیرون ملک بیٹھا ایک فرد چلا رہا ہے جس نے حالات اس نہج پر پہنچا دئیے کہ ایمرجنسی نافذ کرنا پڑی۔اجلاس کے دوران گورنر راج اور ایمرجنسی کے دفاع اور مخالفت میں دونوں جانب سے تقاریر کا سلسلہ جاری رہا اور ارکان کے درمیان نوک جھونک بھی ہوتی رہی۔ اس سیاسی گرما گرمی کے باوجود ارکان ایک دوسرے سے گپ شپ میں بھی مصروف دکھائی دئیے۔