محمود اچکزئی حکومت سے مذاکرات ختم بیرسٹر گوہر
محمود خان اچکزئی ،اختر مینگل سمیت تین لوگ سینئر شہری کی حیثیت سے حکومتی اقدام کوپشاورہائیکورٹ میں چیلنج کرینگے ،11اکتوبر کے بعد سہیل آفریدی سے کوئی رابطہ نہیں ،کھوکھلے نعروں اور محض پیشکشوں سے مذاکرات نہیں ہوتے،بعض مشتبہ اکائونٹس کے ساتھ تحریک انصاف کا کوئی تعلق نہیں :بیرسٹرگوہر
اسلام آباد (بیورو رپورٹ، مانیٹرنگ ڈیسک )اپوزیشن اتحاد تحریکِ تحفظ آئین پاکستان نے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج پشاور ہائی کورٹ میں چیلنج اور حکومت سے مذاکرات ختم کرنے کا اعلان کر دیا۔اعلامیے کے مطابق تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان کا سربراہی اجلاس محمود خان اچکزئی کی زیرِ صدارت ہوا، جس میں علامہ راجہ ناصر عباس، اختر مینگل اور بیرسٹر گوہر نے شرکت کی۔سلمان اکرم راجہ، صاحبزادہ حسن رضا، سید زین شاہ اور مشتاق احمد خان بھی اجلاس میں شریک ہوئے۔اعلامیے کے مطابق تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان نے حکومت سے ہر قسم کے مذاکرات بند کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔اجلاس میں موجودہ سیاسی صورتِ حال اور آئندہ کے لائحہ عمل پر مشاورت کی گئی۔ دریں اثنا تحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی نے پارلیمنٹ ہائوس میں اپوزیشن رہنمائوں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ گورنر راج اور ایمرجنسی کو کل پشاور ہائی کورٹ میں چیلنج کریں گے۔ آج میں خود، اختر مینگل سمیت تین لوگ سینئر شہری کی حیثیت سے پشاور جائیں گے اور حکومتی اقدام چیلنج کر ینگے۔اس موقع پر چیئرمین تحریک انصاف بیرسٹر گوہر خان نے کہا کہ اپوزیشن کے 56 اراکین نے ایمرجنسی اور گورنر راج کی بھرپور مخالفت کی، غیرآئینی اور غیر قانونی طریقے سے حکومت ختم کرنے کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ صوبے یا پی ٹی آئی کا نہیں وفاق کا معاملہ ہے، وقت ثابت کرے گا یہ غلط فیصلہ تھا، گورنر راج غیر آئینی اور ماورائے قانون اقدام ہے، حالات ایسے نہیں تھے کہ صوبے میں ایمرجنسی یا گورنر راج نافذ کیا جاتا، پوری بیوروکریسی تبدیل کر دی گئی اور اب ایک سیاسی جماعت کو ختم کرنے کیلئے اس کے پیچھے پڑے ہیں، ایسے اقدامات جمہوریت کے بھی خلاف ہیں ، انہیں بند ہونا چاہیے۔ سہیل آفریدی کے خلاف ایک بے بنیاد کیس تھا اور وہ پشاور میں زیر حراست ہیں، 11 اکتوبر کے بعد پارٹی کا ان سے کوئی رابطہ نہیں ہوا۔ جنید اکبر، بابر سلیم سواتی ، شاہد خٹک سمیت پارٹی کے دیگر رہنمائوں اور ایم پی ایز سے بھی رابطہ نہیں ہو رہا۔ بلاول بھٹو زرداری کی مذاکرات کی دعوت سے متعلق سوال پر بیرسٹر گوہر نے کہا کہ کھوکھلے نعروں اور محض پیشکشوں سے مذاکرات نہیں ہوتے، مذاکرات کے نتیجے میں ہماری حکومت چلی گئی، اس کے باوجود ہم مذاکراتی کمیٹی کے ساتھ بیٹھے۔ سوال یہ ہے کہ کمیٹی کو مذاکرات چھوڑنے کیلئے کس نے کہا؟ کیا ڈیڈلاک کی صورت میں بات چیت ختم ہو جاتی ہے اور فریقین مذاکرات کی میز سے اٹھ جاتے ہیں؟۔انہوں نے سوال اٹھایا کہ مذاکرات ختم کرنے کا فیصلہ کس نے کیا اور کیوں کیا؟۔ بانی پی ٹی آئی کے ایکس اکائونٹ سے متعلق کیس پر بیرسٹر گوہر نے بتایا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے 23 نومبر کی تاریخ مقرر کی ہے اور اس کے بعد جواب جمع کرایا جائے گا،بعض مشتبہ اکائونٹس کے ساتھ تحریک انصاف کا کوئی تعلق نہیں ۔ جبکہ محمود خان اچکزئی نے عام انتخابات میں امیدواروں سے پیسے لیے جانے کا الزام عائد کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ جے یوآئی کے ایک امیدوار سے کروڑوں روپے لیے گئے جبکہ ان کے پاس الیکشن کا انچارج رات ڈھائی بجے تحفہ لے کر آیا۔ 2024 کا الیکشن جس طرح ہوا، سب کے سامنے ہے، خیبر پختونخوا واحد اسمبلی تھی جو آئینی تھی مگر آپ کو بھاتی نہیں تھی۔انہوں نے بتایا کہ میں پشین اور چمن سے قومی اسمبلی کا الیکشن لڑ رہا تھا، چار صوبائی حلقوں سے بھی الیکشن لڑ رہا تھا، ایک جمعیت کا امیدوار الیکشن لڑرہا تھا، اس سے ان لوگوں نے کروڑوں روپے لیے۔ میں پشین کی ایک سیٹ سے مولانا کے امیدوار کے حق میں دستبردار ہوا اور مولانا کے امیدوار کو ہمارے 30 ہزار ووت پڑے جبکہ میری چار سیٹیں چھین لیں۔ محسن نقوی کو بھی کسی شریف آدمی نے کہا ہوگا کہ میں 47 پر جیتا ہوں، میری نہ فوج سے مخالفت یا لڑائی ہے نہ کسی اور سے ہے، ہم نے پارلیمان کو مضبوط کرنے کی بات کی ہے۔