تحریکِ تحفظِ آئین پاکستان کا اجلاس‘ حکومت سے مذاکرات نہ کرنیکا فیصلہ ہم سب کچھ ہوسکتے ہیں‘ دہشتگردی کی پشت پناہی نہیں کرسکتے:بیرسٹر گوہر

 خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کا فیصلہ فوری واپس لیا جائے‘ اقدام صرف ایک صوبے کا نہیں بلکہ تمام صوبوں کے عوام کی توہین ہے:اجلاس کا اعلامیہ
وزیراعظم نے ہمیں زخم دیا ہے‘ہم پردہشتگردی کی پشت پناہی کا الزام لگایا گیا،پاک فوج ہماری ہے‘ ہمارا جینا مرنا پاکستان میں ہے، دہشتگردی کی  مذمت کرتے  ہیں:چیئرمین پی ٹی آئی
اسلام آباد (آن لائن‘آئی این پی) تحریک تحفظ آئین پاکستان نے خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کی شدید مذمت کرتے ہوئے فیصلوں کو فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ترجمان کی جانب سے جاری اعلامیہ کے مطابق تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان کا ایک سربراہی اجلاس برخانہ محمود خان اچکزئی چیئرمین تحریک تحفظ آئین کستان منعقد ہوا۔اجلاس میں خیبر پختونخواہ میں گورنر راج و ایمرجنسی کے نفاذ  سے ملک کی پیدا ہونے والی سیاسی صورتِ حال اور خیبر پختونخواہ کے حالات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اعلامیہ کے مطابق  اجلاس میں خیبر پختونخواہ میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کی سخت مذمت کی گئی۔ گورنر راج و ایمرجنسی کے نفاذ کو آئین اور عوام کے مینڈیٹ پر ڈاکہ اور شب خون  قرار دیا گیا۔ الائنس نے مطالبہ کیا ہے کہ اس فیصلے کو فوری واپس لیا جائے۔ یہ اقدام صرف ایک صوبے کا نہیں بلکہ تمام صوبوں کے عوام کی توہین ہے، جس کے خلاف الائنس میں شامل جماعتیں پشاور ہائی کورٹ میں درخواست بھی دائر کریں گی۔اعلامیہ کے مطابق  تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان ہر قسم کی دہشت گردی ، ریاست کی عوام پر دہشت گردی ، ریاستی اداروں کی سیاسی جماعتوں پر دہشت گردی ، کسی فرقہ کی دوسرے فرقہ پر دہشت گردی ، کی مذمت کرتی ہے اور  نیشنل ایکشن پلان کی مکمل حمایت کرتی ہے اور مطالبہ کرتی ہے کہ نئی پالیسیاں اپنانے کے بجائے خیبر پختونخواہ اسمبلی سے منظور شدہ امن جرگہ کی مشترکہ قرارداد پر فوری عمل درآمد کیا جائے۔اعلامیہ کے مطابق شرکاء￿  نے وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخواہ سہیل آفریدی، سپیکر اسمبلی بابر سلیم سواتی، پی ٹی آئی کے صوبائی صدر جنید اکبر اور تمام گرفتار اراکینِ قومی و صوبائی اسمبلی و رہنماؤں کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے‘پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس  میں خطاب کرتے ہوئے چیئرمین  پی ٹی آئی  بیرسٹر گوہر  نے کہا ہے  وزیراعظم نے ہمیں زخم دیا ہے: ہم پردہشتگردی کی پشت پناہی کا الزام لگایا گیا، میں دہشتگردی کے الزام کو مسترد کرتا ہوں۔ بیرسٹر گوہر نے کہا کہ وزیراعظم صاحب آپ نے ہمیں زخم دیا ہے، آپ نے وفاق کو دا ئوپر لگا دیا ہے، بین الاقوامی سطح پر اس بیان کے اثرات ہوں گے۔  پاک فوج ہماری ہے ہمارا جینا مرنا پاکستان میں ہے، ہم دہشتگردی کی ہر شکل کی مذمت کرتے ہیں، ایک ملاقات کے ڈر سے پوری حکومت ختم کردی ، ہم سب کچھ ہوسکتے ہیں دہشتگردی کی پشت پناہی نہیں کرسکتے۔بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ جتنا جلدی الزام واپس لیں وہ بہتر ہے، ہم آپ کے ا یمرجنسی، گورنرراج کومسترد کرتے ہیں، ہم وہ پاکستان بنائیں گے جس میں آپ کا علاج ہوگا۔